The Word If in Urdu

کیا ہو گا اگر . . . ؟

Sample Translation


 نیرنگ ٹیم کا ترجمہ کردہ دی اکنامسٹ – ورلڈ ان 2019 – کا یہ آرٹیکل جنگ گروپ کی ملکیت ہے جسے یہاں بطور نمونہ لگایا گیا ہے۔


کیا ہو گا اگر ۔ ۔ ۔


ایتھوپیا کے نو جوان وزیر اعظم ابی احمد غیر معمولی کردار کے حامل ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ وہ ایتھوپیا کو ایک جموری ریاست بنانا چاہتے ہیں بلا شبہ ان کے عملی ارادے کا عکاس ہے۔ پیش رو طرز سیاست کے بر عکس ان کی سوچ ‘انقلابی’ قسم کی نہیں بلکہ روشن خیال اور مسابقانہ اور میڈیا کی آزادی اور اسی طرح کے دیگر جمہوری تصورات سے معمور ہے۔ کیا ہو گا اگر وہ اپنے ارادوں میں کام یاب ہو جاتے ہیں؟ ایتھوپیا کی تاریخ میں اب تک آمروں اور خونی انقلابات کے سوا اور کچھ نہیں اور اب بھی ہر پل خدشوں کے ساتھ ملک میں روشن خیالی لانے کے احمد ابی کے عملی اقدامات کے جلو میں بد ستور نسلی تشدد کا آسیب ہم رکاب ہے۔ اگر احمد ابی ایتھویپا کو حقیقی جمہوری ریاست بنانے میں کام یاب ہو گئے تو وہ اس طرح نہ صرف مقامی رجحانات کا سر توڑ چکے ہوں گے بلکہ سیاست کے چاک پر اپنی مٹی کو سر بسر نئے روپ میں ڈھالنے والے اولین کوزہ گر کے طور پر بھی جانیں جائیں گے۔


افریقن نیشنل کانگریس کے لیے آخری موقع


سائرل رما فوسا عوام کو قائل کرنے پر مجبور ہیں کہ ان کی جماعت اب بھی قیادت کی اہل ہے



جان مک ڈرماٹ/مکتوب نگار برائے جنوبی افریقا/دی اکنامسٹ/جوہانسبرگ


1994 میں جنوبی افریقا کے لاکھوں شہریوں نے صبح سے دن ڈھلے تک قطاروں میں لگ کر ملکی تاریخ میں ہونے والے اولین جمہوری انتخابات میں اپنی رائے کا ووٹ کی شکل میں اظہار کیا اور آج ربع صدی بعد اس ملک کے ایک عام شہری کے لیے زندگی کے بیش تر پہلو پہلے سے بہت بہتر ہیں کیوں کہ ہر خاندان کی کل آمدنی میں حقیقی طور پر تین گنا اضافے کے نتیجے میں اب سڑکوں پر کاروں کی تعدد دگنی ہے جب کہ اس بات کے امکانات میں کہ ایک بچہ اپنی پانچویں سال گرہ منانے سے پہلے موت کے گھاٹ اتر چکا ہو گا 40 فی صد تک کمی آئی ہے اور ملک کے طول و عرض میں قتل کے وارداتیں بھی نصف کے قریب کم ہو چکی ہیں۔

مگر دوسری طرف 1994 میں ابھرنے والا تصویر کا روش رخ اب یہاں باقی نہیں۔ 2009 سے فروری 2018 تک صدر جیکب زوما کی زیر قیادت جنوبی افریقا بد عنوانی، کرپشن اور وسائل کی بے دریغ لوٹ مار کی جنت بن چکا ہے۔ یہاں ترقی کی رفتار سست پڑ چکی ہے، سالانہ معاشی نمو کی نسبت سے ملکی قرضے عروج پر ہیں، بے روز گاری کی شرح 23.7 سے بڑھ کر 27.5 کی سطح کو چھو رہی ہے جب کہ قتل کی وارداتیں ایک بار پھر آہستگی سے سر اٹھا رہی ہیں۔

ان عوامل کے تناظر میں جنوبی افریقا کے لوگوں کی اکثریت ماضی میں نسلی امتیاز کے خلاف عملی جدوجہد کرنے والی 1994 سے بر سر اقتدار سیاسی جماعت افریقن نیشنل کانگریس (اے این سی) سے بد ظن ہونا شروع ہو گئی ہے چناں چہ 2016 میں ہوئے مقامی انتخابات میں اے این سی صرف 54 فی صد ووٹ لے پائی جب کہ اسی جماعت نے 2014 کے قومی انتخابات میں 62 فی صد کی شرح سے ووٹ حاصل کیے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ اس جماعت کے ملک گیر حامیوں نے یا تو ووٹ ڈالنے کے بجائے گھروں میں رہنے کو ترجیح دی یا پھر روشن خیال ڈیموکریٹک الائنس یا اکنامک فریڈم فائٹرز (ای ایف ایف) جیسی حزب اختلاف کی جماعتوں کے حق میں رائے دی جن کی سیاست دائیں بازو کی سخت گیر سوچ اور تاریک قوم پرستی جیسے زہریلے تصورات کی رہین ہے۔

جب سائرل رما فوسا نے فروری میں صدارت کا عہدہ سنبھالا تو یہ تمام عوامل انہیں میراث میں ملے۔ رما فوسا نے صدر زوما کے ہاتھوں کرپشن کا شکار متعدد اداروں کی تطہیر کی اور بہت حد تک صدر کے عہدے کا وقار بحال کیا مگر اس کے با وجود معیشت 2018 کے ابتدائی نصف حصے میں کساد بازاری کی لپیٹ میں آنے کے علاوہ بدستور زبوں حالی سے دو چار ہے جب کہ اے این سی میں داخلی اختلافات کا زور نہیں ٹوٹ رہا۔

اے این سی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ رما فوسا کو 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں اپنی جماعت کے لیے 60 فی صد ووٹوں کی ضرورت ہے تا کہ ان کے پاس وہ مینڈیٹ آ سکے جو افریقن نیشنل کانگریس سمیت ملک بھر میں اصلاحات کے لیے در کار ہے کیوں کہ اگر وہ ایک بار پھر کم زور اکثریت کے ساتھ بر سر اقتدار آئے تو انہیں ممکنہ طور پر صدر زوما کے دور کے بد عنوان عناصر یا پھر صدر زوما کو اقتدار سے محروم کرنے کی شاطرانہ چالوں میں ملوث اپنے سیاسی حریف نائب صدر ڈیوڈ مبوزا کے دبائو کا سامنا ہو سکتا ہے جو اب بھی انہیں سیاست کی بساط سے باہر کرنے میں لگے ہیں۔ اگر اے این سی اکثریت کے ساتھ اقتدار میں نہیں آ پائی – ایک ایسا نتیجہ جس کا ماضی میں تصور بھی محال تھا – تو یہ امر ملک میں جمہوریت کے قیام سے اب تک پہلی بار ایک بزور قوت تشکیل پانے والی مخلوط حکومت کا اشارہ ہو گا۔

اپنی انتخابی مہم میں رما فوسا فی الوقت درست راستے پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ داخلی ناقدین کو چپ کرانے اور ای ایف ایف میں کشش محسوس کرنے والے رائے دہندگان کے لیے انہوں نے ‘بنیادی معاشی تبدیلیوں’ کا وعدہ کیا ہے جیسے زمینوں سے متعلق قوانین میں اصلاحات وغیرہ اور اس کے ساتھ ہی وہ اپنے کاروباری اتحادیوں کو یہ یقین بھی دلا رہے ہیں کہ وہ کسی بھی صورت میں ملکی معیشت کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔ مزدور یونین کے سابقہ مگر انتہائی تجربہ کار سر براہ، اے این سی کے مذاکرات کار اور ایک کاروباری شخصیت کے بطور رما فوسا ہر ایک کو مطئمن کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

اور رما فوسا ہی جنوبی افریقا میں وہ واحد سیاست دان ہیں جو ایسا کر سکتے ہیں مگر اس کے با وجود اگر انہوں نے بہ سہولت انتخابات کو جیتنا ہے تو یہ بات جنوبی افریقا کے مسائل کو سلجھانے کے دشوار ترین پہاڑ کو سر کرنے کا محض اولین قدم ہی ہے۔