Thomas Edison by Michael Hart in Urdu

دی ہنڈریڈ| ۳۵واں‌ باب| تھامس ایڈیسن| مائیکل ہارٹ

دنیا کا ہمہ گیر موجد تھامس ایڈیسن (۱۸۴۷-۱۹۳۱ء) میں اوہیو کے ایک چھوٹے سے قصبے میلان میں پیدا ہوا۔


Thomas Edison by Michael Hart in Urdu


ایڈیسن نے صرف تین ماہ رسمی تعلیم حاصل کی کیوں کہ اس کے اساتذہ کے خیال میں وہ کم ذہن تھا۔

ایڈیسن کی پہلی ایجاد ووٹ گننے کی برقی مشین تھی جو اس نے صرف اکیس سال کی عمر میں ایجاد کی تاہم یہ مشین فروخت نہیں سکی اور اسی باعث بعد میں ایڈیسن نے انہی چیزوں کو ایجاد کرنے میں دل چسپی لی جو اس کے خیال میں اچھی طرح فروخت ہو سکتی تھیں۔

Also Read This

ووٹ مشین کی ایجاد کے صرف ایک ماہ بعد ہی ایڈیسن نے حصص مارکیٹ کے لیے ’نرخ نما آلہ‘ ایجاد کیا جس کی فروخت سے اسے چالیس ہزار ڈالر کا فائدہ ہوا جو اس زمانے میں ہی نہیں آج بھی ایک خطیر رقم ہے۔

اس کے بعد ایڈیسن نے ایک کے بعد دوسری ایجاد کی جس کے نتیجے میں وہ بہت جلد دولت مند اور مشہور ہو گیا۔

غالباً ایڈیسن کی سب سے مشہور ایجاد فونو گراف تھی جو اس نے ۱۸۷۷ء میں قانونی طور پر اپنے نام کرائی۔

مگر اس کی سب سے اہم ترین ایجاد برقی بلب ہے جو اس نے ۱۸۷۹ء میں بنایا۔

خیال رہے کہ ایڈیسن روشنی کا نظام ایجاد کرنے والا کوئی پہلا شخص نہیں تھا اور اس سے چند سال قبل پیرس میں سڑکوں کو روشن کرنے کے لیے برقی قوسی لیمپ استعال کیے جا چکے تھے لیکن ایڈیسن کے تیارکردہ بلب اور برقی توانائی تقسیم کرنے کے نظام نے عام گھروں میں برقی روشنی کے استعمال کو ممکن بنا دیا۔

چناں چہ ۱۸۸۲ء میں ایڈیسن کی کمپنی نے نیویارک میں گھروں کے لیے بجلی کی تیاری شروع کر دی جس کے بعد تمام دنیا میں گھروں میں برقی توانائی کا استعمال عام ہوا۔


Thomas Edison by Michael Hart in Urdu


گھروں میں بجلی فراہم کرنے کے پہلے ادارے کے قیام سے ایڈیسن نے ایک بہت بڑی صنعت کی بنیاد ڈال دی اور آج ہم برقی توانائی کو گھروں میں صرف روشنی کے لیے استعمال نہیں کرتے بلکہ اس سے بے شمار دوسرے آلات بھی چلاتے ہیں جیسے ٹی وی یا کپڑے دھونے کی مشینیں وغیرہ۔

اسی طرح ایڈیسن کے گھروں میں بجلی فراہم کرنے والے ادارے نے اس توانائی کو صنعتوں میں استعمال کرنے کے تصور کو مہمیز کیا۔

ایڈیسن کا متحرک فلموں کے کیمروں اور پروجیکٹروں کی ترقی میں بھی بہت بڑا کردار ہے۔

اس نے ٹیلے فون  کے نظام میں نہایت کارآمد اضافے کیے جہاں اسے کے تیارکردہ کاربن سے بنے ترسیلی آلات نے آواز کے معیار کو بہتر بنایا۔

اسی طرح ٹیلے گراف اور ٹائپ رائٹر میں بھی ایڈیسن نے مفید تبدیلیاں کیں۔

ایڈیسن کی دیگر ایجادات میں آلۂ املا، کاغذات کی نقول تیار کرنے والی مشین اور برقی خانہ شامل ہیں۔

مجموعی طور پر ایڈیسن نے حیران کن طور پر ایک ہزار سے زائد مختلف ایجادات قانونی طور پر اپنے نام کرائیں۔

ایڈیسن کی اتنی بڑی تعداد میں ایجادات کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ اس نے عملی زندگی کی ابتدا میں نیو جرسی میں مینلو پارک کے مقام پر ایک تحقیقاتی لیبارٹری قائم کی جہاں اس نے نہایت اہل معاونین کو اپنے لیے ملازم رکھا۔

یہ ان عظیم لیبارٹریوں کا اولین نمونہ تھی جو آج بے شمار بڑے صنعتی ادارے قائم کیے ہوئے ہیں۔

اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ ایڈیسن نے جس طرح ایک جدید لیبارٹری کو بہترین ساز وسامان کے ساتھ منظّم کیا جہاں کئی افراد ایک ٹیم کے طور پر کام کرتے تھے وہ اس کی سب سے عظیم ایجاد ہے اگرچہ وہ اس کے قانونی حقوق حاصل نہیں کر سکتا تھا۔

Also Read This

ایڈیسن صرف ایک موجّد ہی نہیں تھا بلکہ اس کا ذہن پیداواری صلاحیتوں سے بھی مالامال تھا چناں چہ اس نے متعدد صنعتی ادارے قائم کیے جن میں سب سے ممتاز جنرل الیکٹرک کمپنی ہے۔

اگرچہ ایڈیسن مزاج کے اعتبار سے ایک خالص سائنس دان نہیں تھا مگر پھر بھی اس نے ایک اہم ترین سائنسی دریافت کی۔

۱۸۳۲ء میں اس نے دریافت کیا کہ تقریباً ہوا سے مکمل طور پر خالی ٹیوب میں برقی رو کو باہم غیرجدا تاروں کے درمیان گزارا جاسکتا ہے۔

اس امر کو ’ایڈیسن افیکٹ‘ کا نام دیا گیا۔

اس دریافت کی ناصرف عظیم نظریاتی اہمیت ہے بلکہ اس کے متعدد عملی استعمالات بھی ہیں۔

آ گے چل کر اسی دریافت کے اصول پر ویکیوم ٹیوب تیار کی گئی جس نے تمام برقیاتی صنعت کی داغ بیل ڈالی۔

گوکہ تمام عمر ایڈیسن بہرے پن کا شکار رہا مگر اس نے شدید محنت کے ذریعے اس معذوری کو اپنے راستے کی رکاوٹ نہیں بننے دیا۔

ایڈیسن نے دو بار شادی کی۔

اس کی پہلی بیوی کا نوجوانی میں انتقال ہو گیا تھا تاہم اس کے دونوں بیویوں سے تین تین بچے ہوئے۔

ایڈیسن ۱۹۳۱ء میں نیو جرسی میں ویسٹ اورنج کے مقام پر دنیا سے رخصت ہوا۔

ایڈیسن کی خداداد صلاحیت کسی بھی شک وشبے سے بالا ہے اور بالاتفاق اسے تاریخِ عالم کا سب سے بڑا موجّد تسلیم کیا جاتا ہے۔

اس کی ایجادات کی فہرست اذہان کو خیرہ کر دیتی ہے تاہم اس بات کا امکان بھی ہے کہ ان میں سے زیادہ تر کو تیس سال کے عرصے میں دوسروں نے ترقی دی ہو۔

دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر ایڈیسن کی ایجادات کا انفرادی طور پر جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی اہم ترین اہمیت کی حامل نہیں۔

مثال کے طور پر اس کا ایجاد کردہ اور وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والا برقی بلب جدید زندگی کا لازمی جز نہیں۔

فلوریسینٹ بلب جو قطعی مختلف سائنسی اصول پر کام کرتے ہیں عام ہیں اور اگر ایڈیسن نے اپنا بلب ایجاد نہ بھی کیا ہوتا تو ہماری زندگیوں پر چنداں اثر نہیں پڑتا۔

بلاشبہ برقی بلب کی ایجاد سے قبل موم بتیاں، چراغ اور گیس لائٹیں مناسب طور پر روشنی فراہم کرتے تھے؛ مگر فونوگراف بلاشبہ ایک بہت اہم  ایجاد ہے مگر یہ کہنا بعید ازقیاس ہے کہ فونو گراف نے ہماری زندگیوں کو اتنا ہی متاثر کیا ہے جتنا ریڈیو، ٹیلی ویژن یا ٹیلے فون کر چکے ہیں۔

علاوہ ازیں حالیہ سالوں میں آواز کو محفوظ کرنے کے دیگر کئی نظام سامنے آ چکے ہیں مثلاً ٹیپ ریکارڈر وغیرہ اور آج کوئی فرق نہیں پڑتا اگر ہمارے پاس فونو گراف یا دیگر ریکارڈ پلیئر نہیں ہوتے۔

ایڈیسن نے زیادہ تر جن ایجادات کے قانونی حقوق حاصل کیے دراصل وہ ان آلات میں مفید اضافے ہیں جنہیں پہلے ہی ایجاد کیا جا چکا تھا اور جو بہتر قابلِ استعمال حالت میں تھے۔

ایسے اضافے اگرچہ بہت مفید تھے مگر انہیں تاریخ کے صفحات پر اہم ترین تصور نہیں کیا جاسکتا۔

اگرچہ (میرے نزدیک) ایڈیسن کی کوئی بھی ایجاد عظیم تر اہمیت کی حامل نہیں مگر خیال رہے کہ اس نے صرف ایک شے ایجاد نہیں کی بلکہ اس کی ایجادات کی تعداد ہزار سے اوپر ہے۔

اور یہ ہی وجہ ہے کہ میں نے اس کتاب میں ایڈیسن کو مارکونی اور گراہم بیل جیسے ممتاز موجّدوں سے اوپر جگہ دی ہے۔