Trump Spaceforce in Urdu

ٹرمپ خلائی فورس غیر ارضی حملے کی تیاری

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ خلائی فورس منصوبے نے دنیا بھر میں ایک کھلبلی سی مچا دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت ٹرمپ نے پینٹاگون کو ایک خلائی فورس تشکیل دینے کا حکم جاری کیا ہے تا کہ امریکی کی خلائی سرحدوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور اس سلسلے میں انہوں نے متعدد دیگر اقدامات کا بھی اعلان کیا۔ ان اقدامات میں چاند پر ایک مستقل اسٹیشن بنانے کا منصوبہ بھی شامل ہے تا کہ مریخ پر انسانوں کو بھیجے جانے والے مشن پر وہاں سے براہ راست نظر رکھی جا سکے۔ مگر ٹرمپ کے اعلانات میں اہم ترین امر یہ تھا کہ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ امریکا کے لیے خلا میں پہلے پہنچنے سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ وہاں غلبہ بھی امریکا ہی کا ہو کیوں کہ یہ امریکا کی ‘داخلی سلامتی’ کا معاملہ ہے۔ دوسری طرف امریکی حکومت میں موجود ناقدین کی ایک بڑی تعداد نے اس منصوبے پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اس کی شدت سے مخالفت کی ہے اور یہ بات حیران کن ہے کہ دونوں جانب سے اس منصوبے کے حق اور مخالفت میں اتنی شدت سے رد عمل کا اظہار کیوں کیا جا رہا ہے۔ دراصل کہا جاتا ہے کہ امریکا ایک طویل عرصے سے ایسے خلائی پروگرام میں مصروف عمل ہے جس کے جدید ترین پہلوئوں کے بارے میں ایک عام ذہن سوچ بھی نہیں سکتا۔ غالباً امریکی فوج اور بیوروکریسی میں موجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس حقیقت سے واقف ہے اور شاید اسی لیے ایسے عناصر کی جانب سے اس منصوبے کے خلاف اتنا شدید رد عمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ خفیہ پروگرام کئی عشروں سے موجود ہے اور اسے مبینہ ‘بلیک بجٹ ڈالر’ سے چلایا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں سوشل میڈیا پر ‘سولر وارڈن’ کی اصطلاع ایک طویل عرصے سے معروف ہے۔ سولر وارڈن دراصل خلائی جہازوں کا ایک مبینہ دستہ ہے جو ہمہ وقت شمسی نظام میں زمین کے تحفظ کے لیے موجود رہتا ہے۔ اس مبینہ بیڑے کے بارے میں مختلف سازشی نظریات پائے جاتے ہیں۔ چناں چہ بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ بیڑا شمسی نظام کے کناروں پر موجود رہ کر ممکنہ ایلین حملہ آوروں سے زمین کو بچاتا ہے جب کہ لوگوں کی ایک اور اکثریت کو یقین ہے کہ اس بیڑے کا مقصد نظام شمسی کے دوسرے سیاروں اور ان کے چاندوں کو دنیا کے امیر ترین لوگوں کے لیے قابل رہائش بنانا ہے تا کہ دنیا کی تباہی کی صورت میں طبقہ اشرافیہ وہاں منتقل ہو سکے۔ ٹرمپ خلائی منصوبے کے مخالفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ منصوبہ اتنا مہنگا ہے کہ جلد یا بدیر امریکی معیشت کو لے ڈوبے گا۔ ٹرمپ خلائی فورس اور مبینہ سولر وارڈن کے ضمن میں ایک اور دل چسپ نظریہ یہ بھی گردش کر رہا ہے کہ اس میں استعمال ہونے والے خلائی جہازوں اور دیگر ٹیکنالوجی کو ‘ایلین ٹیکنالوجی’ کو دیکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ اس عمل کو ریورس انجینیئرنگ کہا جاتا ہے۔ ماہرین کو یقین ہے کہ جلد یا بدیر آنے والے وقت میں اس راز سے پردہ اٹھ ہی جائے گا کہ اصل حقیقت کیا ہے۔