UFOs Are Real Knows USA in Urdu

امریکا جانتا ہے یو ایف اوز حقیقی ہیں: سابق افسر

امریکی محکمہ دفاع کے سابقہ عہدے دار کا کہنا ہے کہ ہمیں علم ہے یو ایف اوز حقیقت ہیں، مگر ہم نہیں جانتے وہ یہاں کیوں آتے ہیں؟ دراصل امریکی نیوی پائلٹس کی جانب سے بے شمار ایسی رپورٹس کے باوجود جن میں انہوں نے فضاء میں ناقابل فہم مظاہر دیکھنے کی اطلاعات دی ہیں اور جنہوں نے امریکی حکومت سمیت دنیا بھر کے ممالک کو ہلا کر رکھ دیا ہے، پینٹاگون ابھی تک ان غیر معمولی مظاہر کے لیے اپنے جاری کردہ بیانات اور تجزیوں میں لفظ ’غیر ارضی‘ استعمال کرنے سے کتراتا رہا ہے اور اے اے آئی ٹی آئی کے بارے میں اس کے حالیہ بیانات بھی اسی طرز عمل کے عکاس ہیں۔ مگر امریکی محکمہ دفاع کے شعبہ انٹیلی جینس کے سابق ڈپٹی سیکریٹری کرسٹوفر میلون نے بلآخر اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اڑن اجسام کو ایک طویل عرصے سے دیکھا جا رہا ہے اور یہ کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی حکومت اس خطرناک مسئلے سے نمٹنے کے لیے سوچ و بچار کرے۔ کرسٹوفر میلون اس وقت معروف و مقبول ہسٹری چینل کی ایک ایسی سیریز میں تجزیے پیش کر رہے ہیں جس میں بڑے پیمانے پر دیکھے گئے ان ’غیر ارضی خلائی جہازوں‘ کے بارے میں مفصل بحث کی جائی گی جن پر نیویارک ٹائمز جیسے معتبر امریکی اخبار نے حال ہی میں ایک تفصیلی مضمون شائع کیا ہے۔


اس مضمون کو نیرنگ پر بامحاورہ اردو میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں


کرسٹوفر میلون نے چینل پر گفتگو میں آگاہ کیا کہ امریکی نیوی اب ان پائلٹوں کی شہادتوں کو نہایت سنجیدگی سے لے رہی ہے جنہوں نے ایسے غیر ارضی کرافٹ دیکھنے کی محکمہ جاتی رپورٹیں جمع کرائی ہوئی ہیں۔ کرسٹوفر میلون نے بلاخوف تردید کہا کہ امریکی حکام اور خفیہ ادارے اس امر سے اچھی طرح واقف ہیں کہ یو ایف اوز حقیقت میں اپنا وجود رکھتے ہیں اور مقتدر حلقوں میں یہ بات اتنی عام ہے گویا یہ سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں؛ تاہم میلون کا کہنا ہے کہ اصل حکومتی دردِ سر یہ ہے کہ یہ کرافٹس ہماری دنیا میں آخر آتے کیوں ہیں؟ – جو بقول شاعر عبرت کی جاء ہے تماشا نہیں ہے –  جملہ معترضہ سے قطع نظر میلون نے اس ذیل میں مزید کہا کہ حکومتیں یہ جاننا چاہتی ہیں کہ آخر یہ کرافٹس آتے کہاں سے ہیں اور اس سے بھی اہم یہ کہ آخر انہیں کس ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کیا گیا ہے؟


میلون نے اپنی بات کے ثبوت میں کہا کہ امریکی نیوی کے پائلٹوں نے 2014-2015ء کے درمیان جب ان کرافٹس کا مشاہدہ کیا تو ان کی رپورٹس میں یہ بات مشترک تھی کہ یہ کرافٹس جس انداز میں اڑ رہے تھے وہ ہماری دنیا کے مادی قوانین کے تحت ممکن نہیں۔ مثال کے طور پر ان کرافٹس کی رفتار 8 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک دیکھی گئی جو روایتی طیارہ فضاء میں زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹے تک برقرار رکھ سکتا ہے، مگر یہ کرافٹس دن بھر یعنی قریب 11 گھنٹوں تک مستقل اسی رفتار سے ہوا میں اڑتے رہے اور یہ ایک ایسی بات تھی جس نے نیوی کے پائلٹوں کے اذہان کو ماؤف کر کے رکھ دیا۔


By Andrés Nieto Porras – https://www.flickr.com/photos/anieto2k/14164631792/, CC BY-SA 2.0, Link

مگر یہ حیرانگی اس وقت شدید ترین خوف میں تبدیل ہو گئی جب امریکی فوج کا ایک جدید ترین جنگی طیارہ ان کرافٹس سے بال بال ٹکراتے بچا۔ اس پائلٹ کے اس بارے میں عوامی بیان کے بعد ایک سرکاری رپورٹ درج کی گئی کیوں کہ اس رپورٹ نے اس سابقہ مفروضے کی دھجیاں اڑا دی تھیں کہ یہ کرافٹس امریکی حکومت کے کسی خفیہ پروگرام کا حصہ ہو سکتے ہیں جن سے نیوی کو فی الحال لاعلم رکھا جا رہا ہے۔ کیوں کہ ایسا مفروضاتی پروگرام کتنا ہی خفیہ کیوں نہ ہوتا مگر پھر بھی اس میں نیوی کے پائلٹوں کی جان کو کسی بھی صورت میں خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا تھا۔ میلون کے مطابق ان کرافٹس کی موجودگی امریکی دفاعی اداروں کے لیے نہایت پریشان کن ہے جس کی متعدد درست وجوہات ہیں۔ اول یہ کرافٹس کبھی بھی کسی جنگی یا مسافر بردار طیارے سے ٹکرا سکتے ہیں جس میں ہو سکتا ہے کہ ان کا کچھ نہ بگڑے مگر ایسا کوئی بھی امکانی حادثہ ہمارے لیے شدید ترین تباہی کا سبب بن جائے۔ اس کے علاہ یہ کرافٹس امریکا کے لیے کتنا شدید دفاعی خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں اس پر روشنی ڈالنے کی ضرورت نہیں۔


میلون نے اپنی گفتگو میں جس نہایت اہم ترین راز سے پردہ اٹھایا وہ یہ ہے کہ فی الوقت امریکا وہ واحد ملک ہے جہاں یہ کرافٹس دیکھے جا رہے ہیں اور انہوں نے اس امر پر شدید تشویش اور بے چینی کا اظہار کیا کہ امریکی حکومت نہ معلوم کن اسباب کی وجہ سے اس معاملے سے پہلو تہی کرنے کی کوشش کرتے ہوئے عوامی تحفظات پر کوئی توجہ دینے کو تیار نہیں۔ میلون نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام تر خفیہ معلومات سے عوام کو آگاہ کر دیا جائے اور انہوں نے کہا کہ ٹی وی پر ان کا شو اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔


دوسری طرف معروف امریکی اخبار دی نیویارک پوسٹ نے حال ہی میں ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اگرچہ پینٹاگون ہمیشہ لفظ ’یو ایف او‘ کے استعمال سے کتراتا رہا ہے، مگر بالآخر امریکی محکمہ دفاع نے اپنے ایک تازہ ترین بیان میں کہا ہے کہ اس نے اپنے ایک پروجیکٹ کے تحت ’ان آئیڈینٹیفائیڈ ایریل فینامینا‘ پر تحقیق و تفتیش کی تھی۔ دوسری طرف اے اے ٹی آئی پی کے سرکاری خاتمے کے باوجود امریکی محکمہ دفاع نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ ابھی بھی ناقابل فہم فضائی مظاہر کے بارے میں ملنے والی اطلاعات کی سنجیدگی سے تحقیقات کر رہا ہے۔ ان مبینہ غیر ارضی کرافٹس کے تناظر میں ایک اور حالیہ ’پراسرار‘ پہلو یہ بھی ہے کہ امریکی میڈیا ماضی کے برعکس ایسی اطلاعات کا مذاق اڑانے کے بجائے نہایت سنجیدگی سے ان اڑن کرافٹس کے بارے میں رپورٹیں اور ویڈیو دکھا رہا ہے، جن میں انہیں ایسے نت نئے اندازوں میں اڑتے دکھایا جاتا ہے جن کا ہمارے جدید ترین طیاروں کے پائلٹ تصور بھی نہیں کر سکتے۔


 کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی انتہائی عظیم انکشاف سے قبل عوام کو ذہنی طور پر تیار کرنے کے لیے عالمی مقتدر حلقوں نے دنیا بھر کے میڈیا کی ڈوریں ہلانا شروع کر دی ہوں؟


یاد رہے کہ واشنگٹن پوسٹ نے مئی کے آغاز میں رپورٹ شائع کی تھی کہ امریکی نیوی نے غیر معمولی فضائی مظاہر دیکھنے کے بعد متعلقہ حکام کو ان کی رپورٹ کرنے کے لیے اپنے پائلٹوں اور دیگر عملے کے لیے نئی ہدایات اور قواعد و ضوابط کا اجراء کیا ہے؛ مگر ساتھ ہی نیوی نے واضح کر دیا ہے کہ اس نوعیت کی اطلاعات اور متعلقہ ڈیٹا تک کسی بھی صورت میں عوام کو رسائی نہیں دی جائے گی۔


شاید امریکی حکام نو من تیل ہونے کے باوجود فی الحال رادھا کو ناچتے دیکھنے کے ’موڈ‘ میں نہیں اور اس انتظار میں ہیں کہ جب چاند چڑھے گا تو دنیا خود ہی دیکھ لے گی ۔


اپنی رائے کا کمیٹنس سیکشن میں اظہار ضرور کیجیے