امریکی ٹی وی فوکس نیوز پر’اڑن طشتریوں‘ کی ویڈیو



یہ ویڈیو جو آپ نے دیکھی ہے معتبر امریکی ٹی فوکس نیوز نے جاری کی ہے۔ اس ویڈیو میں امریکی ریاست نارتھ کیرولینا کے آسمان پر نظر آنے والی پراسرار روشنیوں کو ایک کشتی سے فلمایا گیا ہے۔ یہ روشنیاں ارضی ہیں یا غیرارضی اس بارے میں بحث جاری ہے تاہم آپ کو اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد اپنا موقف خود قائم کرنا ہے۔ دنیا میں آج سے نہیں بلکہ لاکھوں سالوں سے آسمان پر نظر آنے والے ان یو ایف اوز یا ایسے اڑنے والے اجسام جن کے بارے میں سائنس نہیں جانتی کا تذکرہ تصویروں اور تحریری شکل میں ملتا آرہا ہے۔ انہیں ہم اپنی زبان میں اڑن طشتریاں بھی کہتے ہیں۔ یہ اڑن طشتریاں کیا ہیں؟ یوں تو اڑن طشتریوں یا فلائنگ ساسرز کے بارے میں بچپن سے ہی پڑھتے چلے آ رہے ہیں لیکن اس وقت ان کہانیوں کو بچے پریوں کی کہانیوں کی طرح پڑھتے تھے۔ اڑن طشتریوں کو یو۔ ایف۔ او (U.F.O) یا Unidentified Flying Objects  یعنی نامعلوم اڑنے والی چیزیں کہا جاتا ہے۔

اڑن طشتریوں کو دیکھنے والوں کے دعووں سے لی گئی معلومات کے مطابق یہ کسی جدید معدن اور پلاسٹک کے مرکب سے تیار کی جاتی ہیں اور یہ معدن چمک دار ہوتا ہے جو دور سے دیکھنے میں تیز سفید روشنی کے مانند نظر آتا ہے۔ ایک ہی اڑن طشتری بیک وقت اپنا حجم چھوٹا اور اتنا بڑا کر سکتی ہے کہ اپنی آنکھوں پر شک ہونے لگے اور دیکھنے والے بے ہوش ہوجائیں۔ اس کے اندر عام طور پر نارنجی، نیلی اور سرخ رنگ کی روشنیاں پھوٹ رہی ہوتی ہیں۔ اس کی رفتار اتنی تیز ہوتی ہے کہ ایک سیکنڈ میں نظروں سے غائب ہوجاتی ہے اور ان کی جو رفتار اب تک ریکارڈ کی جاسکی ہے وہ سات سو  کلومیٹر فی سیکنڈ یعنی پچیس لاکھ بیس ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ یہ وہ رفتار ہے جو دنیا والوں کو معلوم ہے تاہم اصل رفتار کا کسی کو علم نہیں۔ اڑن طشتری فضا میں ایک ہی جگہ رکی رہ سکتی ہے۔ چیزوں اور افراد کو اپنی طرف دور سے ہی کھینچ لیتی ہے۔ اگر کوئی اس کے قریب جائے تو اس کے جسم میں شدید قسم کی خارش شروع ہو جاتی ہے اور آنکھیں جلنے لگتی ہیں اور جسم میں اس طرح جھٹکا لگتا ہے جیسے سخت کرنٹ لگا ہو۔ یہ دنیا کے بجلی اور مواصلاتی نظام کو جام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور امریکا میں ایسا ہو چکا ہے۔

نو جون 2007 کو امریکا کے مشرقی ساحلی علاقے اٹلانٹا اور جارجیا میں ہوائی اڈے پر پروازوں کی آمد و رفت معطل ہوگئی اور ہزاروں ملکی اور غیر ملکی پروازیں تعطل کا شکار ہوئیں۔ اس خلل کا سبب مسافر طیاروں کی آمدورفت کو کنٹرول کرنے والے نظام کا اچانک فیل ہوجانا تھا جس کی وجوہات آج تک سرکاری طور پر ظاہر نہیں کی گئیں۔

یہ لیزر شعاعوں کے ذریعے دنیا کے جدید تریں طیاروں کو بآسانی تباہ کرسکتی ہے۔ یہ اڑنے کے ساتھ ساتھ سمندر کے اوپر اور سمندر کے اندر اسی طرح چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جہاں تک اس کی ٹیکنالوجی کا تعلق ہے تو صرف ابھی اندازہ ہی ہے اور وہ یہ کہ اس کائنات میں موجود تمام توانائی کے ذرائع اڑن طشتری کی ٹیکنالوجی میں استعمال ہوتے ہیں اور ان میں قوتِ کشش سب سے اہم ہے۔ اڑن طشتریوں کا راز جاننے کی کوشش میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے ڈاکٹر جیسوب کا کہنا تھا کہ یہ غیر معروف چیزیں ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ یہ اڑن طشتریاں بہت طاقت ور مقناطیسی میدان بنانے پر قدرت رکھتی ہیں جس کی وجہ سے یہ جہازوں اور طیاروں کو کھینچ کر کہیں لے جاتی ہیں۔

اڑن طشتریاں آنکھوں کا دھوکا یا حقیقت

اڑن طشتریاں اب تک دنیا کے مختلف خطوں میں دیکھی گئی ہیں لیکن برمودا تکون کی طرح ان کی حقیقت کو بھی گڈمڈ کرنے کی کوشش کی گئی ہے حتی کہ بعض نے تو ان کے وجود کا ہی انکار کر دیا ہے کہ ایسی کوئی چیز دنیا میں پائی ہی نہیں جاتی۔ مگر اڑن طشتریوں کے وجود کا انکار اب اس وجہ سے بھی ممکن نہیں رہا کہ ان کو دیکھے جانے کے واقعات بہت زیادہ ہیں۔ نیز بیک وقت دیکھنے والوں تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان سب پر کسی وہم، تخیل یا جھوٹ کا الزام لگا کر بات کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ گزشتہ چند سالوں میں لوگوں نے ان کی تصویریں اور ویڈیو بھی بنائی ہیں اور یوٹیوب پر ایسی لاکھوں ویڈیوز موجود ہیں جن میں ہر سال مختلف مقامات پر نظر آنے والی اڑن طشتریوں کی فوٹیج کو جمع کیا جاتا ہے۔

اڑن طشتریوں کے دیکھے جانے کے واقعات جب زیادہ ہونے لگے تو بعض ممالک کی جانب سے یہ مسئلہ اقوامِ متحدہ میں اٹھایا گیا اور 1976 میں اقوامِ متحدہ نے اس بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا شروع کیا۔ تمام رکن ممالک کو ہدایت کی گئی کہ وہ اڑن طشتریوں کی دریافت کے آلات اپنے علاقوں میں نصب کریں تاکہ ان کی حرکات و سکنات کو ریکارڈ کیا جاسکے۔ بیسویں صدی کے آخر میں ایک گیلپ سروے کیا گیا جس کے مطابق ایک تہائی امریکیوں کی رائے تھی کہ اڑن طشتری والے ہمارے ملک میں آچکے ہیں۔ چنانچہ جب اڑن طشتریوں کے دیکھے جانے کے واقعات اتنے زیادہ ہو گئے کہ ان کو آنکھوں کا دھوکا کہہ کر رد کر دینا ممکن نہیں رہا تو انہیں برمودا تکون کی طرح افسانوی قصے کہانیوں کا حصہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ اڑن طشتریوں کے دیکھے جانے کے واقعات کوئی آج کی بات نہیں بلکہ اس کی تاریخ بھی اس صدی کی ہے جو صدی دنیا میں امریکا کے قیام کی ہے یعنی پندرہویں صدی عیسوی۔ جون 1400 میں بھی اڑن طشتری دیکھے جانے کے واقعات ریکارڈ پر ہیں۔ آپ اگر تاریخ کا مطالعہ کریں تو آپ کو علم ہوگا کہ پندرہویں صدی سائنسی انقلاب کی صدی سمجھی جاتی ہے۔ تب سے لے کر آج تک دنیا کے مختلف خطوں میں اڑن طشتریاں دیکھی جاتی رہی ہیں۔ اپریل 1952 میں ڈان کیمبل جو سیکریٹری برائے بحری (امریکی) وزارت تھا وہ جزائر ہوائی کے اوپر سفر کر رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ دو اڑن طشتریاں بہت تیزی کے ساتھ ان کے طیارے سے قریب ہو رہی ہیں اور پھر وہ دونوں اڑن طشتریاں ان کے طیارے کے گرد چکر لگانے لگیں جیسے طیارے کی تلاشی لے رہی ہوں۔ کیمبل جب واشنگٹن واپس آیا تو اس نے امریکی فضائیہ سے اس بارے میں جاننے کی کوشش کی۔ لیکن امریکی فضائیہ اور امریکی سی آئی اے نے اس کو یہ بات سمجھا دی کہ اگر اپنی نوکری بچانا چاہتے ہو تو جو کچھ آپ نے دیکھا ہے اس کو بھول جاؤ۔ 1947  سے 1969 تک امریکی ائیر فورس نے اڑن طشتریوں کے بارے میں تفتیش کی۔ اڑن طشتریوں کے دیکھے جانے کے واقعات کی جو رپورٹیں موصو ل ہوئیں تھیں ان کی تعداد 12618 تھی۔

ایک دعویٰ یہ بھی کیا گیا ہے کہ اڑن طشتریوں میں سوار قوتوں نے یہ کوشش کی ہے کہ دنیا والے ان کو کسی اور سیارے کی مخلوق سمجھیں اس لیے انہوں نے اپنا حلیہ خلائی مخلوق کی طرح بنا کر انسانوں کے سامنے خود کو ظاہر کیا ہے چنانچہ ان کو ایلین مخلوق یا غیرارضی قوتوں کا نام دیا گیا ہے۔

1951 میں ایک اڑن طشتری امریکا کے ایک فوجی ائیر پورٹ پر اتری۔ اس اڑن طشتری کے اندر سے تین ’آدمی‘ نکلے جو روانی سے انگریزی بول رہے تھے۔ انہوں نے امریکی صدر آئزن ہاور (یہ اس کے بعد صدر بنے تھے) سے ملاقات کے لیے کہا۔ وہاں موجود فوجی افسران نے امریکی صدر آئزن ہاور سے رابطہ کیا۔ چار گھنٹے بعد امریکی صدر وہاں آیا اور اس نے اڑن طشتری والوں سے ملاقات کی۔ امریکی صدر کے ہمراہ تین فوجی تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس دن ائیر پورٹ پر تمام کارروائیاں ’نامعلوم وجوہات‘ کی بنا پر معطل رہیں۔ چنانچہ نہ تو کوئی فوجی اپنی جگہ سے ہلا، نہ کوئی طیارہ اڑا نہ اور کوئی کام ہوا۔ مکمل ایمر جنسی نافذ کر دی گئی اور پھر اڑن طشتری غائب ہو گئی۔

1976 میں پورٹوریکو (جو برمودا تکون کی حدود میں ہے) میں اتنی زیادہ اڑن طشتریاں نظر آئیں کہ ان کو دیکھنے کے لیے ہائی وے پر چلتا ٹریفک جام ہوکر رہ گیا اور گاڑیوں کے انجن خودبخود ہی بند ہو گئے۔ ٹی وی، ریڈیو اور پریس کے نمائندے ان اڑن طشتریوں کے کرتب دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے۔ تین ماہ تک اڑن طشتریوں کے پورے بیڑے باربار ظاہر ہوتے رہے جیسے یہ کوئی معمول کی پرواز ہو۔ جب عوام اور صحافیوں کی جانب سے اس بارے مین زیادہ شور ہونے لگا تو 24 ستمبر 1952 کو امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے شعبہ سراغ رسانی برائے سائنسی امور کی جانب سے ایک میمورنڈم جاری کیا گیا جس میں اڑن طشتریوں کی خبروں پر تبصرے کرنے کو قومی سکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دے دیا گیا۔ ذرا غور فرمائیے۔ ایسا ان اڑن طشتریوں میں کیا ہے جس کو امریکی حکومت چھپانا چاہتی ہے اور اس پر تبصرے کو سیکورٹی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے؟

29 اگست 2000 اتوار کی رات ڈیرہ غازی خان میں اڑن طشتری دیکھی گئی۔ دو ہفتوں میں یہ یورینیم سے مالا مال علاقے میں دوسری مرتبہ نظر آئی۔ روزنامہ ڈان کے مطابق یہ اڑن طشتری مغرب کی جانب سے آئی اور فورٹ منرو اور راکھی گنج کے اوپر سے اڑتی زمین کی طرف اتری۔

8 اکتوبر 2008 شام 8:05 پر لاہور میں امان کریم صاحب نے آٹھ اڑن طشتریاں دیکھنے کا دعوی کیا۔ ان کے بقول یہ V کی شکل میں مشرق کی جانب جا رہی تھیں۔ راولپنڈی جنوری 1998 میں راولپنڈی کے آصف اقبال صاحب نے بتایا: ہم صبح فجر سے پہلے اپنی چھت پر تھے۔ اس وقت ہم نے آسمان میں کچھ ایسی روشنیاں دیکھی جن کی شکلیں بار بار تبدیل ہو رہی تھیں۔ ان کے بقول یہ اڑن طشتریاں تھیں کیونکہ یہ روشنیاں کسی اور چیز کی نہیں ہو سکتیں۔

23 جنوری 2008 جنوبی ہند میں پانچ اڑن طشتریاں ایک ساتھ دیکھی گئیں۔ یہ کئی منٹ تک بہت نیچے آخر گھومتی رہیں۔ اس کی ویڈیو مقامی لوگوں نے اپنے موبائل فون سے بنائی۔

28 اگست 2008 بروز جمعرات بھارت کے شہر ممبئی میں ساحلِ سمندر "گیٹ وے انڈیا” پر سیر سپاٹے کے لیے آنے والے شہریوں کا ہجوم تھا۔ بہت سے لوگ اپنے مووی کیمروں اور موبائل فون سے ایک دوسرے کی ویڈیو بنا رہے تھے۔ ابھی دن کی روشنی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ اچانک ساحل سے بالکل قریب انتہائی نیچے ایک بڑی اڑن طشتری نمودار ہوئی۔ لوگوں نے اپنے کیمرے فوراً اس کی جانب کر دیے اور اس کی فلم بنالی۔ یہ چار سیکنڈ تک ینظر آتی رہی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہو گئی۔ یہ اڑن طشتری حجم میں بہت بڑی ہے اور اس کی فلم بالکل واضح ہے جو آپ یوٹیوب لنک پر دیکھ سکتے ہیں۔

سابق امریکی صدرجمی کارٹر وہ واحد امریکی صدر ہیں جنہوں نے اڑن طشتری خود دیکھنے کا دعوی کیا۔ جمی کارٹر نے اے بی سی ٹی وی پر انٹرویو کے دوران کہا – میں ان لوگوں پر بالکل نہیں ہنستا جو یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اڑن طشتریاں دیکھی ہیں کیوں کہ میں خود ایک اڑن طشتری دیکھ چکا ہوں۔ اس بارے میں ویڈیو باآسانی یوٹیوب پر دست یاب ہے۔ جمی کارٹر کے بقول جب وہ 1969 میں جارجیا میں لائنز کلب کے ایک اجلاس میں شریک تھے اس وقت ان کے ساتھ ان کے اہل خانہ اور دیگر لوگوں نے بھی اڑن طشتری دیکھی۔ اس کے بعد جمی کارٹر نے یہ وعدہ کیا کہ میں انتخابات میں صدر بننے کی صورت میں اڑن طشتریوں کے واقعات کی تحقیق کے لیے ماہرین اور سائنس دانوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دوں گا تاکہ وہ ہمیں ان کی حقیقت سے آگاہ کریں۔ لیکن جمی کارٹر امریکی کی صدارت پر فائز ہونے کے باوجود اپنا وعدہ پورا نہ کرسکے۔ کیوں؟ کیا امریکی میں کوئی اور بھی قوت ہے جو امریکی صدر سے زیادہ طاقتور ہے؟


جی ہاں . . . خفیہ معلومات کو جاننے کی سیڑھی پر امریکی صدر کا نمبر چوتھا ہے۔ جی آپ نے بالکل درست پڑھا ہے۔


چناں چہ لوگ سوال کرتے ہیں کہ کیا ان اڑن طشتریوں کے سامنے امریکی صدر بھی بے بس ہے؟ یا جمی کارٹر کو کسی ’خفیہ طاقت‘ نے یہ ’نصیحت‘ کی اگر جان پیاری ہے تو اڑن طشتریوں کو بھول جاؤ۔

چناں چہ اب دیکھیے کہ برمودا تکون میں جو غیر معمولی واقعات و حادثات ہوتے رہتے ہیں ان سے متعلق رپورٹوں پر بڑی سخت پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اب نہ انہیں مشتہر کیا جاتا ہے اور نہ بتایا جاتا ہے۔ ان واقعات میں اڑن طشتریوں کا آسمان میں دیکھا جانا، برمودا کے سمندر میں داخل ہونا اور برمودا کے سمندر میں پانی کے اندر ہزاروں فٹ نیچے دیکھا جانا شامل ہے۔ اس رپورٹ کو بھی سختی سے دبایا گیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ 1963 میں پورٹوریکو کے مشرقی ساحل پر امریکی بحریہ نے اپنی مشقوں کے دوران ایک اڑن طشتری دیکھی تھی جس کی رفتار دو سو ناٹ تھی اور وہ سمندر کے اندر نیچے ستائیس ہزار فٹ گہرائی میں سفر کر رہی تھی۔

ایک امریکی کیپٹن تھامس مینٹیل ایک بہت بڑی اڑن طشتری کا تعاقب کرتے ہوئے جان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھا۔ 7 جنوری 1948 کو کیپٹن مینٹیل نے P-51 میں پرواز شروع کی۔ اس پرواز کا مقصد ایک بہت بڑی اڑن طشتری کی شناخت کی تصدیق کرنا تھا۔ یہ اڑن طشتری دن کے وقت کھلے آسمان میں بڑی واضح دکھائی دے رہی تھی۔ اڑن طشتری کے تعاقب کے دوران ہی کیپٹن مینٹیل کی موت واقع ہو گئی اورطیارہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تبدیل ہوکر فضا میں بکھر گیا۔ طیارے کے جو ٹکڑے ملے انہیں دیکھ کر یوں لگتا تھا کہ جیسے طیارے پر شدید قسم کی گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی ہے۔ اس واقعے کی تفصیل بھی بآسانی یوٹیوب پر دست یاب ہے۔

اڑن طشتری کے ذریعے انسانوں کو اغواء کیے جانے کے واقعات بھی مستند حوالوں سے سامنے آتے رہے ہیں۔ ان میں مشہور واقعات یہ ہیں:

1960 میں کیلیفورنیا کے ائیر بیس سے F-101 طرز کا طیارہ تربیتی پرواز کے لیے اڑا۔ اسے ائیر فورس کا ایک میجر اڑا رہا تھا۔ مشن کی تکمیل کے بعد واپس آتے ہوئے یہ طیارہ ریڈار پر دیکھا جا رہا تھا۔ اچانک ریڈار اسکرین پر طیارے کے نظر آنے والے عکس کو ایک بڑی اڑن طشتری کے عکس نے ڈھانپ لیا کہ جیسے طیارے کو اس طشتری پر اتار لیا گیا ہے۔ اس کے بعد ریڈار اسکرین بالکل خالی رہ گئی۔ نہ طیارہ اور نہ ہی اڑن طشتری کا کچھ پتہ چلا۔ تلاش جاری تھی کہ اگلی صبح طیارہ پھر نمودار ہوا جسے اب وہی میجر اڑا رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ اسے طیارے سمیت اس اڑن طشتری میں اتار لیا گیا تھا جہاں ایک انسان نما مخلوق نے اس سے انٹرویو لیا۔ اس کی رپورٹ کے مطابق اسے اور اس کے طیارے کو دس گھنٹے بعد چھوڑا گیا۔ اس کے بعد پکڑے جانے کے وقت طیارے میں بیس منٹ کا ایندھن تھا اور جب اس کو چھوڑاگیا تب بھی اس میں اتنا ہی ایندھن باقی تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ دس گھنٹے میں اس کا بالکل بھی ایندھن خرچ نہیں ہوا ۔ مگر پھر بھی اس میجر کو ایک نفسیاتی ہسپتال میں داخل کر دیا گیا اور پھر کسی کو پتہ نہ چلا کہ اس کا کیا ہوا؟ نیز اس واقعے کے تمام گواہوں کو سخت ہدایت کر دی گئی کہ اگر کسی نے اس بارے میں زبان کھولی تو اس کو جرمانے اور قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

1989 میں نیو یارک کے پرہجوم علاقے مین ہٹن کے ایک اپارٹمنٹ کی بارہویں منزل پر اپنے شوہر کے ساتھ سوئی لنڈا  کواڑن طشتری والوں نے ’اغوا‘ کر لیا۔ اس پر خوب تجربات کیے اور چھوڑ گئے۔ اس واقعے کے بعد لِنڈا کی نگرانی کے لیے امریکی انتظامیہ کی جانب سے دو خفیہ ایجنٹ لگا دیے گئے لیکن ان کی آنکھوں کے سامنے دوبارہ 30 نومبر 1989کی صبح تین بجے نیویارک جیسے رات جاگتے شہر کے بیچ و بیچ مین ہٹن میں اڑن طشتری نمودار ہوئی اور لِنڈا کے اپارٹمنٹ کے اوپر چکر کاٹتی رہی۔ ایک بین الاقوامی سفارت کار بھی اس واقعہ کا عینی شاہد ہے جو اپنی کار میں کسی میٹنگ سے واپس آ رہا تھا۔ جب ان کی کاروں کا قافلہ بروکلین برج پر پہنچا تو ان سب کی کاروں کے انجن خود ہی بند ہو گئے۔ اس واقعے کی تفصیل بھی یوٹیوب پر موجود ہے۔

برمودا تکون اور اڑن طشتریوں کے بارے میں سیکڑوں تحقیقاتی ٹیمیں بنائی گئیں۔ تحقیقات ہوئیں لیکن رپورٹ کبھی منظرِ عام پر نہیں آنے دی گئی۔ تمام رپورٹیں فائلوں میں بند پڑی رہ گئیں اور اگر کسی نے بات نہ مان کر اپنی تحقیق کو جاری رکھا تو اس کو جان سے ہی ہاتھ دھونا پڑا۔ ابتدا میں اڑن طشتریوں کی حقیقت کو چھپانے کے لیے خفیہ قوتوں کی جانب سے یہ پروپیگنڈا کیا جاتا رہا کہ اڑن طشتری دیکھنے کی گواہی دینے والے وہمی ہیں لیکن جب وائٹ ہاؤس کے اوپر بیک وقت بیس اڑن طشتریاں نظرآئیں تو سب کے لب سل گئے۔ چنانچہ غیر جانب دار محققین کو اس بات کا یقین ہے کہ ان یو ایف اوز کو امریکا میں موجود انتہائی طاقت ور لیکن خفیہ ہاتھ دنیا والوں سے پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں۔ غالباً اسی وجہ سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ڈاکٹر جیسوب کو جو اڑن طشتریوں اور برمودا تکون کی حقیقت تک پہنچنے میں کام یاب ہو گئے تھے پراسرار طور پر قتل کر دیا گیا۔ اڑن طشتریوں کے بارے اہم ترین معلومات اور ماشاہدات پیش کر دی گئی ہیں باقی جو اصل حقائق ہیں وہ خالق حقیقی ہی جانتا ہے کہ برمودا تکون اور اڑن طشتریوں کے پیچھے کون ہے۔ اتنی جدید ٹیکنالوجی ان قوتوں نے کس سے جنگ کرنے کے لیے بنائی ہے اور ان کے مقاصد کیا ہیں؟ بعض اسلامی اسکالرز اور محققین کا یہاں تک دعویٰ ہے کہ یہ دجالی قوتیں ہیں جو یہودیوں سے رابطے میں ہیں اور دجال کے دنیا میں آنے کی راہ ہم وار کرنا چاہتے ہیں اور ٹیکنالوجی میں ہم سے کئی گنا آگے ہیں۔ تاہم یہ یہ ان کی شخصی رائے ہے اور بہت سے لوگوں کو اس سے اختلاف بھی ہے لیکن یقینی بات کیا ہے اس کا جواب ہنوز تشنہ ہے۔ یو ایف اوز پر اگلی رپورٹ میں نیرنگ تمام حوالوں کو یوٹیوب ویڈیو کے ساتھ پیش کرے گا۔ لہٰذا وزٹ کرتے رہیے اپنی من پسند ایپ اور پورٹل نیرنگ ڈاٹ کام کا۔ اس مضمون کی تیاری میں وکی اردو سے بھی مدد لی گئی ہے جس کے لیے ادارہ ان کا شکرگزار ہے۔