UK Okays Construction of World's Largest Solar Power Plant

برطانیہ: دنیا کے سب سے بڑے سولر پلانٹ کی تعمیر

برطانیہ کی حکومت نے ملک کے شمال میں کینٹ کے ساحلی علاقے میں سب سے بڑا شمسی بجلی گھر بنانے کی منظوری دے دی ہے جو 900 ایکٹر پر محیط ہو گا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس بجلی گھر سے تقریباً 91 ہزار گھروں کو بجلی مہیا کی جا سکے گی۔ شمسی بجلی گھر کی منظوری کچھ عرصے سے رکی ہوئی تھی اور اس پر تنازع چل رہا تھا۔

وائس آف جرمنی کے مطابق اس پراجیکٹ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اپنی تکمیل کے بعد اس کا شمار سورج سے بجلی پیدا کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے بجلی گھروں میں کیا جائے گا۔

وہاں دوسری طرف اس کی تعمیر پر مقامی آبادی کے ساتھ گرین پیس سمیت کئی ماحول دوست گروپس اور خیراتی ادارے بھی اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

مخالفین کا کہنا ہے کہ اس پراجیکٹ کے ذریعے اس دیہی علاقے کو صنعتی زون میں تبدیل کیا جا رہا ہے جہاں جنگلی حیات موجود ہے۔ بجلی گھر کی تعمیر سے اس علاقے میں جنگلی حیات کے تحفظ اور ان کی نسلوں کو بچانے کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تاہم، ایک اور ماحول دوست گروپ فرینڈز آف دی ارتھ نے سولر پاور پلانٹ منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس علاقے میں نباتات کی اتنی کثرت ہے جو جنگلی حیات کے لیے فائدہ کی بجائے الٹا نقصان دہ ہے۔

فرینڈز آف دی ارتھ کے ترجمان مائیک چائلڈز کا کہنا ہے کہ کوئی بھی شخص یہ نہیں چاہے گا کہ کسی بڑے پراجیکٹ کی تعمیر سے یہاں کی جنگلی حیات کے آبائی ٹھکانوں کو نقصان پہنچے۔ لیکن، یہاں صورت حال کچھ مختلف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں بھاری تعداد میں نباتات، درخت اور جڑی بوٹیاں موجود ہیں جس کی وجہ سے وہاں کیمیکلز کی سطح بہت بلند ہے۔ یہ کیمیکلز جنگلی حیات اور دیگر حشرات الاض کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ تاہم، ہمیں تعمیرات کرنے والوں کو اس بارے میں سمجھانا ہو گا۔

ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ سولر پاور پلانٹ والوں کو چاہیے کہ وہ مقامی آبادی کے گھروں کی چھتوں پر کسی معاوضے کے بغیر سولر پینل لگا کر دیں، جو اس منصوبے کی کئی خدشات کی بنا پر مخالفت کر رہے ہیں۔

سولر بجلی گھر 25 ایکٹر رقبے پر تعمیر کیا جائے گا۔ ایک مقامی خیراتی گروپ سی پی آر ای کا کہنا ہے کہ اس تنصیب میں بجلی کو ذخیرہ کرنے کے لیے بیڑیوں کا بہت بڑا سسٹم نصب کیا جائے گا، جب کہ دنیا بھر میں ایسے واقعات ہو چکے ہیں کہ سولر پاور اسٹیشنز کی بیٹریوں میں آتش زدگیاں ہوئیں اور پھر دھماکوں کے واقعات رونما ہوئے۔

شمسی بجلی گھر تعمیر کرنے والی کمپنیاں وائرسول انرجی اور ہائیو انرجی کا کہنا ہے کہ مجوزہ بجلی گھر ہر لحاظ سے محفوظ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے برطانیہ کو سستی ترین بجلی ملے گی اور وہ مقامی کونسلوں کو ہر سال ایک ملین پاؤنڈ دیں گی۔

برطانیہ کے توانائی کے وزیر ایلوک شرما نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ بڑی احتیاط سے غور و فکر کے بعد کیا گیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ منصوبہ شمسی توانائی کے حصول اور توانائی ذخیرہ کرنے کے دنیا کے اہم ترین منصوبوں میں سے ایک ہے۔