Unexplained Sounds Heard Around The World In Urdu

تا حال نا قابلِ وضاحت نو پراسرار آوازیں


ترجمہ وتدوین ضُحٰی خان/ سینیئر کنٹینٹ مینیجر/ نیرنگ ٹرانسکرئیشن سروسز

zoha@nayrang.com


اگر آپ پراسرار اور سائنسی یا عقلی طور پر ناقابل وضاحت مظاہر کے متلاشی ہیں تو اس کے لیے آپ کو دنیا سے کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں کیوں کہ یہ مقام آب و گل اپنی ذات میں خود ایک سر نہاں ہے جہاں خرد کے ہر پردے تلے جنوں کے ہاتھ میں لپٹی اسرار کی ایک نئی کڑی برآمد ہوتی ہے۔ جی ہاں دنیا میں سنی جانے والے بے شمار ناقابل وضاحت آوازیں ان ہی اسرار کی ایک نئی کڑی ہیں جن کی حقیقت کے سامنے تمام تر جدید سائنس کے پاس سوائے اپنی نا کامی کے اظہار کے سوا تاحال کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ ان آوازوں میں پراسرار ’بلوپ‘، ’سونک بوم‘، ’بھن بھناہٹ‘ اور دیگر ایسی ہی آوازیں شامل ہیں جن سے ہماری زمین ہر وقت گونجتی رہتی ہے۔ ذیل میں ہم ان پراسرار اور نا قابل وضاحت بے شمار آوازوں میں سے صرف 9 آوازوں  کا ترتیب وار تذکرہ کریں گے۔ ہر آواز کے تذکرے کے ساتھ دی گئی ویڈیو میں مستند طور پر ریکارڈ کردہ اس آواز کو سنا جا سکتا ہے۔


اپ سوئپ


’اپ سوئپ‘ نامی اس آواز کو اس وقت سے سنا جا رہا ہے جب سے میرین انوائرنمینٹل لیبارٹری نے ’ایس او ایس یو اس‘ کی ریکارڈنگ شروع کی ہے۔ یہ سسٹم سمندر کی تہہ میں 1991ء میں انسٹال کیا گیا تھا جس کا مقصد سمندر میں ’آوازوں پر نظر‘ رکھنا تھا اور اس مقصد کے لیے تمام دنیا میں اس منصوبے کے اسٹیشن بنائے گئے تھے۔ ماہرین کے مطابق اس آواز کی وجہ آج تک سائنسی حدود سے باہر ہے مگر یہ آواز آسٹریلیا اور جنوبی امریکا کے درمیان پیسیفک سمندر میں سنائی دیتی ہے۔ موسمی تغیرات کے ساتھ اس پراسرار آواز کی کیفیت میں فرق پڑتا ہے اور یہ موسم بہار اور خزاں میں بلند تر ہو جاتی ہے۔ ظاہر ہے ماہرین کے پاس اس کا بھی کوئی جواب نہیں اور وہ زیادہ سے زیادہ اسے کسی آتش فشانی عمل سے منسوب کر کے جان چھڑانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

 


سیٹی


اس آواز کو پہلی بار 1997ء میں زیر سمندر نصب ہائڈرو فون پر سنا گیا اور یہ سوائے اس آلے کے سنائی نہیں دیتی۔ ان ہائڈرو فونز کو نیشنل اوشیانک ایٹماسفیرک ایڈمنسٹریشن ’نو او اے اے‘ نے نصب کیا تھا جنہوں نے پہلی بار اس آواز کو ریکارڈ کیا۔ یہ آواز کہاں سنائی دیتی ہے سرکاری ادارے اس بارے میں کلی طور پر خاموش ہیں جب کہ پراسرار طور پر اس بارے میں نہایت محدود سائنسی معلومات فراہم کی گئی ہیں جن کی وجہ سے بھی اس آواز کے ماخذ کا اندازہ لگانا کار محال ہے۔


بلوپ


’بلوپ‘ کو اگر ان تمام پراسرار آوازوں کی ماں کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔ چوں کہ 1997ء ’پراسرار آوازوں کا سال‘ ہے اس لیے اس انتہائی طاقت ور الٹرا فریکوئنسی کی آواز کو بھی اسی سال ایک دوسرے سے ہزاروں میل کی دوری پر واقع اسٹیشنوں پر سنا گیا جس کا ماخذ جنوبی امریکا کے جنوبی حصے میں مغرب کی جانب کہیں محسوس ہوتا ہے۔ یہ آواز صرف ایک منٹ تک جاری رہی اور اسے متعدد بار موسم گرما میں سنا گیا مگر اس سال کے بعد سے دوبارہ کبھی ریکارڈ نہیں ہوئی۔ اس آواز کو سن کو کسی عظیم برفانی زلزلے کا شبہ ہوتا ہے مگر ماہرین نے مکمل طور پر اس امکان کو رد نہیں کیا کہ یہ آواز کسی ’نامیاتی وجود‘ سے خارج ہوئی ہو گی۔ چناں چہ یہ ہی وہ نکتہ ہے جہاں سازشی نظریات جڑ پکڑتے ہیں۔ جی ہاں اگر یہ آواز کسی سمندری جانور کی تھی تو اسے لازمی طور پر بلیو وہیل سے بڑا ہونا چاہیے اور یہ تصور اپنے آپ میں انسان کو ہلا کر رکھ دینے کے لیے کافی ہے جب کہ مرے پر سو دُرّے کے مصداق ’بلوپ‘ کو کم و بیش جس جگہ سنا گیا یہ وہ ہی پراسرار سمندری مقام ہے جہاں معروف زمانہ امریکی ہارر رائٹر ایچ پی لو کرافٹ کا افسانوی شہر ’رالائی‘ واقع تھا اور جہاں ہزاروں سال سے ایک عظیم الجثہ مخلوق نیند میں غرقاب خواب دیکھ رہی ہے۔ چونکیے نہیں میں بلاشبہ ’کتھولو‘ ہی کی بات کر رہا ہوں۔ ایچ پی لو کرافٹ کے مطابق یہ ’جانور‘ انسان، ڈریگن اور آکٹوپس کا ’آمیزہ‘ ہے۔ کہیں یہ آواز واقعتاً کتھولو کی تو نہیں؟ خیال رہے کتھولو کی ذہانت انسانوں سے کئی ہزار گنا زیادہ ہے کیوں کہ یہ کروڑوں سال سے زندہ ہے جب کہ خوابوں کی شکل میں تمام دنیا کے انسانوں کو ہپناٹائز کر کے انہیں کھانے کے لیے اپنے پاس بلانا اس کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔


جولیا


’جولیا‘ نامی اس آواز کو یکم مارچ 1997ء کو محض پندرہ سیکنڈ کے لیے سنا گیا مگر یہ اتنی بلند آواز تھی کہ پیسیفک سمندر میں لگے تمام ہائڈرو فونز نے اسے ریکارڈ کیا۔ سائنس دانوں کے پاس اگرچہ کوئی ثبوت تو نہیں مگر پھر بھی نہ معلوم کن ’وجوہات‘ کی بنا پر ان کا ماننا ہے کہ یہ آواز کسی آئس برگ کے ساحل سے ٹکرانے کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔


سلو ڈاؤن


’سلو ڈاؤن‘ نامی اس آواز کو بھی 19 مئی 1997ء میں سنا گیا اور اس کا جواز بھی کسی ’دیوانے‘ آئس برگ ہی کے سر تھوپنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر لوگوں کی اکثریت کا ماننا ہے یہ آواز کسی بہت ہی بڑے اسکوئڈ کی تھی۔ یہ آواز سات منٹ تک سنائی دینے کے بعد بتدریج بہ لحاظ فریکوئنسی کم ہوتی گئی اور اسی نسبت سے اس کا نام ’سلو ڈاؤن‘ پڑ گیا۔ ’اپ سوئپ‘ کی طرح اس آواز کو بھی وقعتاً فوقتاً سنا جاتا رہا ہے مگر اس کا جواز کسی سائنس دان کے پاس نہیں۔ ظاہر ایک بار تو ممکن ہے مگر کیا کوئی ’آئس برگ‘ واقعتاً بار بار کسی دیوانے غصیلے بیل کی طرح ساحل سے سر ٹکرا  ٹکرا کر ایسی آوازیں ’جان بوجھ‘ کر پیدا کر سکتا ہے؟


بھن بھناہٹ


گزشتہ نصف صدی میں بھن بھناہٹ یا ’ہم‘ کی اس آواز کو بار بار سنا گیا ہے۔ مگر یہاں پراسرار ترین پہلو یہ ہے کہ محض کچھ لوگ ہی اس آواز کو سننے کی صلاحیت رکھتے ہیں جب کہ متعلقہ جگہ کی بقیہ آبادی پر اس آواز کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اس آواز کا باقاعدہ تذکرہ ستر کی دہائی میں ملنا شروع ہوتا ہے اور ممکن ہے کہ یہ آواز ہزاروں بلکہ لاکھوں سال قدیم ہو۔ اس آواز کو دنیا بھر میں ہر جگہ سنا گیا ہے۔ جن لوگوں نے اس آواز کو سنا ہے ان کے مطابق اسے سنائی دینے سے روکا نہیں جا سکتا کیوں کہ یہ دماغ کے اندر محسوس ہوتی ہے نیز یہ آواز گھر کے باہر نہیں بلکہ گھر کے اندر رات کے وقت بہت زیادہ بلند سنائی دیتی ہے۔ اس آواز کا ایک اور پراسرار پہلو یہ ہے کہ یہ شہروں کے مقابلے میں دیہاتوں اور چھوٹے علاقوں میں سنائی دیتی ہے جب کہ اسے سن سکنے والے افراد کی عمر پچپن سے ستر سال کے درمیان ہے۔ سائنس دان ایک طویل عرصے سے اس آواز کا سراغ لگانے میں مصروف کار ہیں مگر آج تک اس کا کوئی حل نہیں تلاش کیا جا سکا۔


مجھے یاد ہے کہ 80ء کی دہائی کے آخر میں جب کراچی شہر کے حالات سخت کشیدہ تھے سردیوں کی راتوں میں ہمیں یہ آواز سنائی دیتی تھی جو طویل عرصے تک علاقے میں موضع بحث بنی رہی مگر کسی کو بھی اس راز کا سراغ نہیں مل سکا- ایسا سنائی دیتا تھا جیسے بہت دور کوئی ریل کا ڈیزل انجن کھڑا ناکنگ کر رہا ہو – پروڈیوسر


مختلف ماہرین نے اس آواز کے بارے میں مختلف جواز پیش کیے ہیں مگر سائنسی طور پر نا قابل قبول ہونے کے باعث آج تک اس کا کوئی حتمی جواز کسی کے پاس نہیں۔


اسکائی کواک


آسمان سے سنائی دینے والے گرج دار دھماکے ’اسکائی کواک‘ کی اصطلاح سے موسوم کیے جاتے ہیں جنہیں گزشتہ دو صدیوں سے تمام دنیا میں سنا جا رہا ہے۔ جی ہاں آپ کا خیال بالکل درست ہے جہازوں اور راکٹوں کی ایجاد سے بہت پہلے۔ یہ آوازیں زیادہ تر سمندروں یا بڑی جھیلوں کے پاس سنائی دیتی ہیں اور انہیں بھارت میں دریائے گنگا، ایسٹ کوسٹ، امریکا میں فنگر لیکس، نارتھ سی، آسٹریلیا، جاپان اور اٹلی میں سنا جا چکا ہے۔ یہ آواز توپ کے گولے یا بادلوں کی گھڑگھڑاہٹ سے مشابہ ہوتی ہے جس کے بارے میں طرح طرح کے سائنسی اور ’ماورائی‘ جواز پیش کیے گئے ہیں مگر حتمی طور پر جواب آج تک کسی کے پاس نہیں۔


یو وی بی سیونٹی سکس


’یو وی بی سیونٹی سکس‘ یا ’بزر‘ کے نام سے معروف یہ آواز گزشتہ کئی عشروں سے ریڈیو پر شارٹ ویو سگنلز میں سنی جا رہی ہے۔ یہ آواز چار ہزار چھ سو پچیس  کلو ہرٹز پر نشر ہوتی ہے جس میں بعض اوقات روسی زبان میں نمبر اور نام بتائے جاتے ہیں۔ تاحال جدید سائنس اس آواز کے ماحذ اور مقصد کا ذرہ برابر بھی سراغ نہیں لگا سکی ہے جب کہ سویت یونین کا شیرازہ بکھرے بھی تیس سال تو ہو ہی گئے ہیں۔


ففٹی ٹو ہرٹز وہیل


یہ جانور جسے دنیا کی ’تنہا ترین وہیل‘ کہا جاتا ہے ففٹی ٹو ہرٹز سے اوپر آواز نکالتی ہے جو نارمل فریکوئینسی سے بہت زیادہ ہے۔ سائنس دان اس آواز کو گزشتہ کئی عشروں سے سن رہے ہیں اور حال ہی میں فلم سازوں نے ’کک اسٹارٹر‘ پرچھ کروڑ پاکستانی روپوں کے مساوی رقم اس شخص کو دینے کا اعلان کیا ہے جو اس ’پراسرار‘ وہیل کو پکڑ کر دکھائے گا۔ یہاں حیرت کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ اس فنڈ کی رقم نام ور ہالی وڈ اداکار لیونارڈو ڈی کیپریو کی مدد سے اکٹھی کی گئی ہے جو اپنی فطرت میں خود کسی پراسرار مخلوق سے کم نہیں۔

آپ کی ان آوازوں کے بارے میں جو بھی رائے ہے نیرنگ کو اس بارے میں آگاہ کرنا نہ بھولیے۔