Unidentified Submerged Objects – Sci Fi Horror In Urdu – Science Fiction

میرے انکل کس بے نام امریکی ادارے کے افسر تھے؟

میری ماما نے کچھ دن پہلے مجھے فون کیا۔ وہ فون پر رو رہی تھیں اور انہوں نے بھیگی آواز میں مجھے یاد دلایا کہ اس دن ان کے بھائی کی برتھ ڈے تھی۔ میں اپنے انکل کا نام سن کر حیران رہ گیا کیوں ماما نے کئی سالوں سے ان کا ذکر تک نہیں کیا تھا اور میرے ذہن سے محو ہو گیا تھا کہ کوئی رشتے میں میرا ماموں بھی ہے۔ جب میں نے یہ کہانی اپنے ایک دوست کو سنائی تو اس نے مجھے مشورہ دیا کہ مجھے اسے ’نیرنگ‘ پر پوسٹ کرنا چاہیے۔ چناں چہ میں نے ایسا ہی کیا۔ پہلے میں آپ کو اس بات سے آگاہ کروں گا جو میں جانتا ہوں اور پھر یہ بتائوں گا کہ میں کیسے جانتا ہوں۔ ۔ ۔ میرے انکل ایک پرائیوٹ کمپنی میں امریکی حکومت کے لیے کام کرتے تھے۔ وہ جس ٹیم میں شامل تھے اس کا کام سمندر کی تہہ میں ڈوبے ہوئے فوجی جہازوں سے خفیہ دستاویزات بلکہ خفیہ سے بھی خفیہ ترین چیزیں ڈھونڈھ کر نکالنا تھا۔ ان چیزوں میں کچھ بھی شامل ہو سکتا تھا یعنی کاغذات، ہارڈ ڈرائیوز، جہازوں پر لدا سامان، ہتھیار، شناختی کارڈ اور حتیٰ کہ لاشیں بھی۔ انکل کی ٹیم غرقاب جہازوں پر درج شناختی علامات مٹاتی تھی اور وہاں سے قیمتی کارآمد چیزیں بھی اکٹھا کرتی تھی مگر ان کے فرائض صرف یہیں تک ہی محدود نہیں تھے مگر یہ چیزیں اس کہانی کا سب سے دل چسپ اور اہم ترین پہلو ہیں۔ انکل برائن نے دو مختلف عرصوں میں یہ کام کیا۔ اول 1969 تا 71 اور پھر 1980 تا 83 مگر ہمیں نہیں معلوم کے ان سالوں کے درمیانی وقفے میں انکل برائن کیا کر رہے تھے مگر ہمیں اتنا پتہ ہے کہ وہ گرین لینڈ یا کینیڈا میں قطب شمالی کے نزدیک کسی ’تربیتی مرکز‘ میں مقیم تھے۔ ان کا گھر ریاست ایریزونا میں تھا اور وہ اس دوران سال میں چھ ہفتوں کی چھٹی پر اپنے گھر آیا کرتے تھے مگر اس دوران ان پر عجیب نوعیت کی پابندیاں ہوتی تھیں۔ انہیں کسی بھی نوعیت کا دفتری ساز و سامان اور خاص طور پر ٹائپ رائٹر خریدنے کی اجازت نہیں تھی۔ وہ ایک دفتری چیک بک کے علاوہ نقد رقم کے ذریعے خرید و فرخت نہ کرنے کے پابند ہوتے تھے حتی کہ ان کا کسی بنک میں جانا تک ممنوع تھا۔ اس کے علاوہ ان پر یہ بھی پابندی ہوتی تھی کہ وہ کسی مجمع میں نہیں جائیں گے اور نہ ہی انہیں شراب یا سگریٹ پینے کی اجازت تھی۔ اسی طرح انہیں کہیں بھی قلم سے کچھ لکھنے کی اجازت نہیں تھی، وہ کسی کو اپنی ملازمت کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے تھے اور سوائے ایک نمبر کے وہ کہیں اور کال بھی نہیں کر سکتے تھے۔ انکل برائن ہر چھ گھنٹے بعد ایک نمبر پر کال کرتے تھے خواہ رات کا وقت ہو یا دن کا انہیں ہر صورت میں یہ کال ملانی ہوتی تھی۔ چناں چہ وہ ہر نصف شب بیدار ہو کر اس ہدایت پر عمل کرتے تھے اور یہ ایک الگ بات ہے کہ یہ بات ان کی بیوی کو کس قد نا گوار گزرتی تھی۔ انکل یہ مخصوص نمبر ملا کر اس طرح عام سے لہجے میں بات چیت کرتے تھے جیسے وہ اپنے کسی دیرینہ دوست سے بات کر رہے ہوں اور گفتگو ان عام سے باتوں سے کبھی تجاوز نہیں کرتی تھی۔ میں نے صرف ایک مرتبہ انہیں اس نمبر پر بات کرتے سنا تھا اور اب مجھے اندازہ ہوا ہے کہ وہ بات چیت مکمل طور پر خفیہ اشاروں پر مشتمل تھی۔ اگر انکل کے فون پر کوئی انہیں کال کرتا تھا تب بھی وہ فون کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔ فون سے ان کا رشتہ اس مخصوص نمبر کے علاوہ کسی اور سے نہیں تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں اتنا ’خوف زدہ‘ شخص نہیں دیکھا مگر اپنے بچپن میں ان کا یہ رویہ مجھے بے ضرر اور دل چسپ ضرور محسوس ہوتا تھا ۔ ۔ ۔ یہ 1999 کی بات ہے جب میری عمر بارہ سال تھی کہ انکل برائن اچانک لا پتہ ہو گئے۔ اس وقت تک میری ان سے صرف دو بار ملاقات ہوئی تھی اور وہ اس وقت اپنی ملازمت سے سبک دوش ہو کر ایک ریٹائرڈ زندگی گزار رہے تھے۔ جب میری ان سے پہلی ملاقات ہوئی تو میں اتنا کم عمر تھا کہ مجھے کچھ بھی یاد نہیں البتہ اس دن ماما کی کال آنے تک انکل برائن سے اپنی دوسری ملاقات کو میں نے اپنے ذہن سے بھلانے کی ہر ممکن سعی کی تھی۔ 1999 میں جب ہم فینکس میں ان کے گھر ایک ہفتہ رہنے گئے تو میں انہیں اس دوران ہر وقت مغموم حالت میں پایا۔ انکل کا رویہ دوستانہ نہیں تھا اور وہ کبھی بھی اپنے خیالوں سے باہر نہیں آتے تھے۔ میں نے دنیا میں ان سے زیادہ چڑچڑا اور اپنی ذات میں کھویا ہوا دوسرا شخص نہیں دیکھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کسی اور ہی دنیا میں رہتے ہیں اور اس دنیا میں صرف ان کا جسم موجود ہے۔ وہ ہر وقت پیچھے مڑ مڑ کر دیکھا کرتے تھے اور کار میں سفر کے دوران ان کی نظر مسلسل عقبی آئینے پر جمی ہوتی تھی۔ ان کے گھر میں اپنے قیام ک دوران میں نے انہیں ہمیشہ عجیب و غریب حرکات کرتے دیکھا۔ وہ اپنے گھر لگے بجلی کے بٹن چیک کیا کرتے تھے۔ سوئچ پلیٹیں پیچ کس سے کھول کر ان کے اندر جھانکتے تھے اور پھر انہیں واپس اپنی جگہ کس دیتے تھے۔ گھر سے باہر کہیں جاتے وقت وہ سر اٹھا اٹھا کر آسمان کو تکتے تھے گویا ان کے سر پر کوئی اینٹ گرنے والی ہو یا انہیں خدشہ ہو کہ کوئی ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر ان کی تصویر نہ کھینچ لے۔ انکل برائن ہمیشہ مختصر اور دانت بھینچ کر بات چیت کرتے تھے جیسے ان کی کوشش ہو کہ کوئی غلط بات ان کے منہ سے نہ نکل جائے۔ ایسا لگتا تھا جیسے تمام دنیا کا بوجھ ان کے شانوں پر ہے اور ان کے سینے میں اعترافات کا ایک سمندر موجزن ہو۔ میں ان دنوں ہمیشہ رات میں سونے سے پہلے دیر تک انکل برائن کے بارے میں سوچتا رہتا تھا۔ ۔ ۔ ہمارے وہاں قیام کے دوران ایک رات انکل برائے کے ضبط کا پیمانہ بالآخر لبریز ہو گیا۔ مجھے اس کا سبب تو نہیں معلوم مگر انکل اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے اور انہیں دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے انہوں نے بھاری مقدار میں منشیات کا استعمال کیا ہوا ہو۔ وہ اس وقت صوفے پر لیٹے عام سی باتیں کر رہے تھے کہ یکا یک انہوں نے چلانا شروع کر دیا کہ وہ ’اس کھیل سے‘ بیزار ہو گئے ہیں اور اب ان کے لیے کسی فرشتے کی طرح مزید زبان بند رکھنا ممکن نہیں۔ پھر وہ میری طرف لپکے اور میرا گلا گھوٹنے کی کوشش کی۔ اس دوران ماما کا خوف سے برا حال تھا اور انکل برائن میرا گلا دبوچے مسلسل چلا رہے تھے کہ وہ میرا سر توڑ کر اس کے اندر لگے ’سرکٹ‘ انہیں دکھانا چاہتے ہیں۔ انکل برائن کا کہنا تھا کہ میری آنکھوں میں کیمرے اور کانوں میں مائکروفون ’نصب‘ ہیں۔ انہوں نے مجھے دانتوں سے کاٹا مگر جب انہوں نے دیکھا کہ میرے جسم سے خون نکل رہا یت تو وہ اپنے حواس میں واپس آ گئے مگر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ ماما نے گھر کے فون سے 911 ڈائل کرنے کی کوشش کی مگر کسی صورت رابطہ نہیں ہو سکا۔ چناں اس کے بعد ماما نے دیوانوں کی طرح انکل کے خالی فریج پر لکھا وہی نمبر ڈائل کیا جسے دوسری طرف سے کسی عورت نے ریسیو کیا۔ ماما نے اسے بتایا کہ ان کا بھائی پاگلوں کی طرح حرکتیں کر رہا ہے اور اس سے ایمبولینس اور پولیس بھیجنے کو کہا۔ اس عورت نے ماما سے کہا کہ وہ فوری طور پر انکل برائن کے ڈاکٹر سے رابطہ کر رہی ہے اور یہ کہ گھر میں موجود ہر فرد اپنی جگہ موجود رہے۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے اسپتال جانے سے انکار کر دیا تھا کیوں کہ مجھے اسپتال کی بو سے شدید الٹیاں لگ جاتی ہیں۔ ۔ ۔ ایک گھنٹے کے اندر گھر کے دروازے پر ایک شخص کی آمد ہوئی جس نے اپنا نام ’ڈاکٹر ایس‘ بتایا۔ وہ عام سے کپڑے پہنے ہوئے تھا اور کلین شیو تھا۔ جب اس نے مجھ سے ہاتھ ملایا تو میں اس کی جلد کی کھردراہٹ محسوس کر کے حیران رہ گیا۔ اس وقت میرے تصور کے مطابق ایک ڈاکٹر کے ہاتھ شاید ایسے نہیں ہونے چاہیے تھے۔ اس آدمی کا قد لمبا تھا اور اس پر کسی پہلوان کا گمان ہوتا تھا۔ اس کی حلیے کی سادگی اور مزاج کا سرد پن مجھے نہایت مکروہ محسوس ہوا جیسے وہ گھر میں موجود ہر فرد کو قتل کرنے والا ہو۔ ۔ ۔ مجھے اس کے حوالے سے آج بھی جو بات یاد ہے وہ اس کے بدن سے پھوٹتی مختلف کیمیائی مادوں کی بو تھی جیس وہ کافی دیر سے کسی لکڑی کے فرش پر پالش کرتا رہا ہو۔ اس ’ڈاکٹر‘ نے گھر کے عقبے حصے صحن میں کھڑے ہو کر انکل سے خاموشی سے بات چیت کی اور اس کے بعد ان سے ہاتھ ملا کر رخصت ہو گیا۔ تاہم اس نے جانے سے پہلے ماما سے کہا کہ انکل برائن کو صرف آرام کی ضرورت ہے جس کے بعد ان کی حالت بالکل درست ہو جائے گی۔ اس نے مزید کہا کہ میں آپ کو ایک دوا لکھ کر دے رہا ہوں جو آپ کل کسی میڈیکل اسٹور سے لے سکتی ہیں۔ ماما کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا انکل برائن کے ساتھ تنہا رہنا خطرناک تو نہیں ڈاکٹر ایس نے ہنس کر کہا کہ نہیں اب بالکل نہیں۔ اس کے بعد اس نے میرے شانے تھپکے اور پھر چلا گیا، مگر ڈاکٹر ایس کے اس وزٹ کے بارے میں مجھے دو چیزوں نے قدرے پریشان کر دیا۔ اول یہ کہ وہ شخص وہاں چار منٹ سے زیادہ نہیں ٹہرا تھا چناں وہ اتنی تھوڑی سے دیر میں آخر انکل برائن سے کیا کہ سکتا تھا؟ اور دوم یہ کہ جب میں دوڑتا ہوا گھر کی چھت پر گیا تا کہ ڈاکٹر ایس کو رخصت ہوتے دیکھ سکوں تو میں نے دیکھا کہ وہ کار میں نہیں آیا تھا اور پیدل واپس جا رہا تھا۔ اس کے جانے کے بعد انکل برائن کی حالت بالکل درست ہو گئی۔ انہوں نے مجھ سے معذرت کی اور ہمارے ساتھ رات کا کھانا بھی کھایا۔ اس وقت ان کا موڈ بہت خوش گوار تھا جیس ان کے سر سے ہر قسم کا بوجھ اتر گیا ہو۔ ۔ ۔ اس رات میں اور ماما گیسٹ روم میں سوئے اور ہم نے اندر سے دروازہ لاک کر لیا تھا کیوں ہمیں کسی بھی بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔ انکل برائن حسب معمول بار بار بجلی کے بٹنوں کو کھول اور بند کر رہے تھے مگر نصف رات کے قریب ماما کی تیز چیخیں سن کر میری آنکھ کھل گئی۔ پورے گھر میں تاریکی کا راج تھا اور صحن کا دروازہ کھلا ہوا تھا مگر انکل برائن گھر میں نہیں تھے۔ وہ اپنے ساتھ کچھ بھی لے کر نہیں گئے تھے حتیٰ کہ ان کے جوتے، چیک بک اور گھڑی بھی گھر میں پڑی تھی۔ ان کی کار بھی گیراج میں کھڑی تھی اور چابیاں کچن کے کائونٹر پر رکھی تھیں۔ ماما نے اس مخصوص نمبر پر رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر لائن بے جان ہو گئی اور اس کے بعد اس فون نے کبھی کام نہیں کیا۔ اگلی صبح کچھ لوگ ہم سے ملنے گھر آئے۔ انہوں نے انکل برائن کا تمام سامان باکسز میں رکھا اور مجھ سے اور ماما سے بے شمار نا سمجھ میں آنے والے سوالات کیے جیسے کیا انکل برائن نے کبھی ہمیں اپنا پسندیدہ رنگ بتایا تھا؟ انہیں کس قسم کے کھانوں سے نفرت تھی؟ کیا وہ بچوں کے ساتھ خوش رہتا تھے؟ کیا وہ کبھی چرچ جاتے تھے؟ ہمیں اس وقت ان کے بارے میں کیا یاد ہے؟ کیا وہ سیدھے ہاتھ سے کام کرتا تھے یا الٹے ہاتھ سے؟ ہم دونوں ماں بیٹے اس طرح کے سوالات سن کر ششدر رہ گئے۔ میں شدید الجھن محسوس کر رہا تھا مگر ماما بری طرح شرمندگی میں ڈوب گئی تھیں۔ ماما نے انہیں جو بھی جواب دیا ان لوگوں نے اس پر شک کا اظہار کیا اور ماما سے کہا کہ وہ غلطی پر ہیں اور حتیٰ کہ انہوں نے اپنی بات کی تصدیق میں بچوں جیسی تاویلات بھی پیش کیں۔ جب کہ دوسری طرف انہوں نے میرے ایک بھی جواب پر کوئی سوال نہیں اٹھایا۔ میں آج تک نہیں سمجھ سکا کہ اس سب کا کیا مقصد تھا۔ ۔ ۔ تقریباً ایک سال بعد جب انکل برائن کی گم شدگی کا صدمہ کچھ کم ہوا تو ماما نے ان کی کار فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔ کار کی صفائی کے دوران اس کی ڈگی میں رکھے اضافی ٹائر کے نیچے سے ایک وڈیو کیسٹ برآمد ہوئی جو انکل برائن کی تھی اور انہوں نے غالباً اس رات اس وقت وہاں چھپائی تھی جب ہم دونوں گیسٹ ہائوس میں سو رہے تھے۔ ہم نے جب کیسٹ وی سی آر میں لگائی تو ٹی وی پر دیکھا کہ وہ کسی صحرا میں کہیں کھڑے تھے۔ وہ اپنی عمر سے کچھ سال چھوٹے لگ رہے تھے اور لگتا تھا جیسے وہ کئی دنوں سے جاگ رہے ہوں۔ انہوں نے ماما کو اپنے کام کے بارے میں تفصیل سے بتایا اور ان چیزوں اور کاموں کی وضاحت کی جو وہ دیکھ اور کر چکے تھے۔ میں نے اس ویڈیو کی مدد اور ماما اور انکل برائن کی سابقہ بیوی کے درمیان ہونے والی بات چیت سے تمام نقطوں کو جوڑ کر ایک تصویر کی شکل دی ہے۔ میں نے اس وڈیو ٹیپ کو دوبارہ کبھی نہیں دیکھا اور مجھے پتہ ہے کہ ماما انکل برائن کی ہدیات کے مطابق اسے تلف کر چکی ہیں مگر مجھے وہ تمام نا قابل یقین چیزیں اچھی طرح یاد ہیں جو میں نے اس وڈیو میں دیکھی تھیں۔ یہ وہ دہشت ناک چیزیں تھیں جن سے انکل کا دوران ملازمت ڈوبے ہوئے جہازوں اور آب دوزوں سے سامان نکالتے وقت سابقہ پڑا تھا: ہوائی دبائو کے حامل کمرے جہاں لوگ آب دوزوں کے غرق ہونے کے کئی ہفتے بعد بھی زندہ تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے کچھ سیلرز اپنا دماغی توازن کھو چکے ہوں۔ انہوں نے دیواروں پر طرح طرح کے جملے لکھے تھے اور ایک دوسرے کا قتل کیا تھا۔ جہازوں کے ڈھانچے اور راہ داریوں سے اس طرح آوازیں سنائی دے رہی تھیں جیسے کوئی عفریت انہیں پوری طاقت سے بجا رہا ہو۔ زیادہ تر غرقاب جہازوں کا تعلق دوسری جنگ عظیم اور سرد جنگ کے دور سے تھا جب کہ کچھ کا ویتنام کی لڑائی سے۔ چناں یہ سب عشروں پرانے جہاز تھے۔ مگر انکل برائن نے قسم کھا کر کہا کہ انہوں نے ایک بار سے زائد ان جہازوں سے مورس کوڈ پر ’ایس او ایس‘ کا پیغام سنا تھا۔ انکل برائن کا کہنا تھا کہ ایک بارے انہیں مورس کوڈ پر جو پیغام ملا اس کا مطلب تھا ’یہاں سے چلے جائو۔ ۔ ۔ ‘ اس ویڈیو میں منجمد لاشیں دکھائی گئی تھیں جو ممیائی ہوئی محسوس ہوتی تھیں۔ یہ ممیاں پانی سے بھرے جہازوں میں معلق تھیں اور چہرے سے کھال گل کر جھڑ جانے کی وجہ سے ایسا لگتا تھا جیسے وہ ابدی طور پر مسکرا رہی ہوں۔ ایک نوجوان عورت کا مردہ جسم دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے وہ جہاز میں موجود دوسرے افراد کی نسبت حال ہی میں ہلاک ہوئی ہو۔ جب انکل برائن نے اس کی لاش کو دریافت کیا تو وہ سفید لباس پہنے ہوئے تھی اور پانی میں لہریے لیتے کپڑوں کو دیکھ کر گمان ہوتا تھا جیسے وہ کوئی فرشتہ ہو۔ اس کا جسم گلن سڑن کا شکار نہیں تھا اور اس کی کھال کسی نو عمر لڑکی کی طرح تر و تازہ تھی جب کہ یہ برطانوی آب دوز 1940 میں غرق ہوئی تھی اور اس وقت بحر منجمد شمالی کی تہہ میں پڑی تھی۔ اسی طرح روس کے جہازوں پر بھی عجیب و غریب چیزیں موجود تھیں جنہیں اس وڈیو میں دکھایا گیا تھا۔ انسانی جسم پر تجربات کی تصویریں۔ بوتلوں میں بند جنین۔ انسانی اور حیوانی بقایا جات۔ پنجرے۔ زنجیریں۔ ایک ایٹمی آب دوز میں ایک پورا قید خانہ بنا ہوا تھا۔ انکل برائن کے مطابق انہیں ایک لیبارٹری میں ایک بچے کا مردہ جسم ملا مگر اس کے ہاتھ تین فٹ سے زیادہ لمبے تھے جو کسی مردہ بھنورے کے پیروں کی طرح باہم الجھے ہوئے تھے۔ جب انہوں نے اسے ہلایا تو ایک ہاتھ ٹوٹ کر پانی میں تیر گیا مگر اس کے اندر ہڈیاں نہیں تھیں۔ انکل برائن نے بتایا کے انہیں ایک بار سمندر کی تہہ میں ایک ایسا جیٹ جہاز ڈوبا ہوا ملا جسے کبھی لا پتہ نہیں قرار دیا گیا تھا۔ یہ جہاز سمندر میں گر کر ڈوب گیا تھا۔ اس میں موجود تمام مسافروں کی لاشیں اپنی اپنی نشستوں پر سیٹ بیلٹ میں جکڑی موجود تھیں مگر پراسرار بات یہ تھی کہ یہ طیارہ پانی کے ایک بہت پرانے غرقاب جہاز کے برابر میں سمندر کی تہہ پر بیٹھا ہوا تھا اور طیارے میں موجود تمام مردہ مسافروں کو اس غرقاب جہاز کے مسافروں کے طور پر شناخت کیا گیا تھا۔ یہ بظاہر ایک مذاق معلوم ہوتا ہے مگر میرے بارہ سال ذہن نے تصور کیا جیسے جہاز کے مردہ مسافر طیارے میں داخل ہو کر وہاں سیٹ بیلٹ لگائے بیٹھے ہیں۔ شاید اس امید میں کہ یہ طیارہ ایک نہ ایک دن انہیں واپس ان کے اپنوں کے پاس لے جائے گا ۔ ۔ ۔ پانی کی گہرائیوں میں ایسا لگتا تھا جیسے انکل برائن کی ٹیم کسی برمودا میں پھنس گئی ہو۔ انکل کے دو ساتھی الاسکا کے سمندر میں جانے کے بعد لا پتہ ہو گئے۔ ان میں سے ایک اس آب دوز کے ایک کمرے میں بند پایا گیا تھا جس پر وہ کام کر رہا تھا مگر پراسرار ترین بات یہ تھی کہ اس کمرے کے دروازے کو صرف باہر سے ہی بند کیا جا سکتا تھا۔ ۔ ۔ یہ شخص سردی سے مرنے کے قریب تھا مگر اس نے قسم کھا کر کہا کہ اسے اس کمرے میں ایک ایسی عورت نے باہر سے بند کیا تھا جو اپنے چہرے سے محروم تھی تا ہم جن لوگوں نے اسے دریافت کیا انہوں نے ’غلطی‘ سے اس کا ہیلمٹ اتار لیا اور وہ ہوائی دبائو میں فرق کے باعث فوراً ہلاک ہو گیا۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار دوسری ایسی ہی چیزیں ہیں جنہیں اگر آپ جاننا چاہیں تو میں یاد کرنے اور اپنی ماں سے پوچھنے کی کوشش کروں گا۔ انکل برائن کے لاپتہ ہونے کے کئی سالوں بعد کچھ لوگ کبھی کبھار مجھ سے ملنے آتے تھے مگر وہ ہمیشہ صرف انکل کے بارے میں پوچھتے تھے۔ میں جہاں بھی ہوتا تھا وہ میرا پتہ چلا لیتے تھے اور مجھ سے بے تکے سوالات کرتے تھے۔ یہ لوگ ہمیشہ بہت نرم لہجے میں بات کرتے تھے مگر انہوں نے کبھی اپنی شناخت ظاہر نہیں کی۔ میں اور ماما خواہ ملک کے کسی بھی حصے میں ہوں ان لوگوں کو ہمارا پتہ چل جاتا تھا۔ ایک مرتبہ میرے اسکول میں بائلوجی کی ایک نئی ٹیچر آئی۔ اس نے معمول کے مطابق کلاس میں لیکچر دیا مگر لیکچر کے آخر میں اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میرا کوئی رشتے دار سرکاری ملازم تھا اور یہ کہ میرے انکل کا پسندیدہ رنگ کیا تھا۔ ایک دوسرے موقع پر جب میں کالج میں تھا تو میں اور میری اس وقت کی گرل فرینڈ اور موجودہ منگیتر ایک بار میں ایک دوست کی سال گرہ منانے گئے۔ اس دوران بار والا مجھے شراب دینے کی کوشش کرتا رہا حالاں کہ میں شراب نہیں پیتا اور پھر اس نے آخر میں مجھ سے پوچھا کہ کیا میں فینکس میں منتقل ہونا چاہتا ہوں۔ اس نے کہا کہ اس کا برائن نامی ایک دوست وہاں رہتا تھا اور پھر مجھ سے پوچھا کہ کیا مجھے سمندر کی گہرائیوں میں اترنے کا شوق ہے؟ اس نے آخر میں میری ماں کی خیریت پوچھی مگر عجیب بات یہ ہے کہ اس نے ماما کا مکمل نام لیا تھا ۔ ۔ ۔ ابھی کچھ دن پہلے کی بات ہے میں کیلی فورنیا میں اپنے گھر کے قریب واقع جنگل میں جاگنگ کر رہا تھا کہ سائکل پر سوار ایک آدمی نے میرا راستہ روک کر مجھ سے کہا کہ میری شکل اس کے ماضی کے ایک شناسا سے بہت ملتی ہے۔ اس نے اس شخص کا نام برائن بتایا جو اس کے ساتھ نیوی میں ملازم تھا۔ اس نے کہا کہ ان دونوں کا رابطہ ختم ہو گیا تھا تا ہم اس کی ’اطلاعات‘ کے مطابق برائن نامی یہ شخص سمندر سے ہزاروں میل دور کسی صحرا میں رہ رہا ہے کیوں کہ اسے سمندروں کی گہرائیوں سے نفرت ہو گئی تھی۔ میں نے طنزیہ انداز میں اس آدمی کو جواب دیا کہ ہو سکتا ہے برائن نامی یہ شخص فینکس میں ہو جس پر اس شخص کا لہجہ موت کی طرح سرد ہو گیا۔ اس نے کہا ’یہ بات درست ہے۔ وہ وہاں خوش ہے اور مجھے اس بارے میں پورا یقین ہے۔‘ اس کے بعد وہ وہاں سے سائکل چلاتا ہوا چلا گیا۔ مگر حیرت ناک امر یہ ہے کہ ان تمام لوگوں کے پاس سے ’ڈاکٹر ایس‘ کی طرح مختلف کیمیائی مادوں کی بو آ رہی ہوتی تھی۔ ۔ ۔ انکل برائن کی سابقہ بیوی جل نے ایک بار مجھے بتایا تھا کہ ’تمہارے انکل کے دماغ میں بلبلے بھر گئے تھے اور یہ ہی وجہ تھی کہ وہ ایسی عجیب و غریب باتیں کیا کرتے تھے۔ مختلف قسم کی گیسیں، پانی کا دبائو، تنگ جگہیں اور جاب کے دوران ذہنی دبائو نے انکل کا دماغ خراب کر دیا تھا۔‘ مگر جل بھی ایک سرکاری ملازم تھی اور وہیں ان دونوں کی ملاقات ہوئی تھی، مگر انکل برائن کے لا پتہ ہو جانے کے بعد وہ اس طرح ظاہر کرتی تھی جیسے وہ انہیں بالکل بھول چکی ہو۔ واضح طور پر اس کا مقصد یہ تھا کہ میں انکل برائن کی باتوں کو محض ایک دیوانے کی بات سمجھ کر ہمیشہ کے لیے فراموش کر دوں ۔ ۔ ۔ اب مجھے یاد آتا ہے کہ جل کے پاس سے بھی انہیں مخصوص کیمیائی مادوں کی بو آیا کرتی تھی ۔ ۔ ۔

[اس کہانی کا گلا حصہ آ سکتا ہے]