Urdu Report on Paranormal Suicides In Gilgit-Biltistan

غذر میں ’پیرانارمل‘ خودکشیوں کا پُراسرار راز کیا ہے؟

گلگت بلتستان ميں ضلع غذر ميں خود کشی کرنے کا رجحان بڑھ گيا ہے۔ گزشتہ ماہ میں چھ خود کشی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔


Urdu Report on Paranormal Suicides In Gilgit-Biltistan


خودکشی کے رحجان میں اضافے کی وجوہات کا تعین نہیں کیا جا سکا ہے۔


غذر ميں خُود کشی کے واقعات پر کام کرنے والے ماہرين کے مطابق مئی اور جون کے مہينوں ميں خود کشی کی شرح ميں اضافہ ہو جاتا ہے۔


وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے غذر سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن اسرار الدين اسرار نے بتايا کہ اس حوالے سے ابھی تک کوئی سائنسی تحقيق نہيں ہوئی ليکن مئی اور جون ميں سال کے دوسرے مہينوں کی نسبت خود کشی کی شرح بہت زيادہ ہوتی ہے۔

خود کشی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پيش نظر گلگت بلتستان کی اسمبلی کی رکن رانی عتيقہ نے ايک قرار داد پيش کی جس کی روشنی ميں 2017 ميں ان واقعات کی کھوج لگانے کے لیے ايک سليکٹ کميٹی بنائی گئی۔ اس کمیٹی میں اسرار الدين اسرار بطور ٹيکنيکل ايکسپرٹ شامل تھے۔

اسرار الدين نے مزيد واضح کيا کہ گلگت بلتستان ميں خود کشيوں کا رُجحان 2000 ميں شروع ہوا اور اب تک 400 کے قریب افراد گلگت بلتستان ميں خود کشی کر چکے ہيں۔


Also Click Here


ان کے مطابق 2000 سے 2003 کے درميان ريکارڈ تعداد ميں 60 کے قريب لوگوں نے خود کشی کی جن ميں زيادہ تر تعداد خواتين کی تھي۔

انہوں نے مزيد بتايا کہ 2010 کے بعد مردوں اور خواتين ميں خود کشی کی شرح تقريباً برابر ہو گئی ہے۔

اسرار الدين کے مطابق خود کشی کرنے والے افراد کی عمريں عموماََ 14 سال سے 35 سال کے درميان ہوتی ہيں۔

بعض ماہرين گلگت بلتستان ميں بڑھتی ہوئی خود کشی کے واقعات کو ماحولياتی تبديلی سے بھی جوڑتے ہيں۔

غذر ضلع چار واديوں پر مشتمل ہے جن میں پونيال، اشکومن، ياسين اور گوپس شامل ہيں۔ غذر کو 1974 ميں ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے ميں ضلع کا درجہ ديا گيا تاہم بعد ميں اس کی يہ شناخت منسوخ کر دی گئی۔ البتہ بينظير بھٹو کے زمانے ميں 1994 ميں دوبارہ اس کے ضلعے کا درجہ بحال کيا گيا۔

اسرار الدين کے مطابق پونيال بنيادی طور پر سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ‘پھلوں کی ٹوکری’ کے ہيں۔ يہاں سرد علاقوں ميں پائے جانے والے تمام پھل مثلا بادام، ناشپاتی، سيب، انگور، انار، انجير، چيری، آڑو وغيرہ پیدا ہوتے ہيں۔


Also Click Here


ان کا کہنا تھا کہ گوپس، ياسين اور اشکومن سے گزرنے والے نالے جب اکٹھے ہو جاتے ہيں تو مقامی لوگ اسے دريائے غذر کہتے ہيں جسے پرانے وقتوں ميں ‘ہنی سارہ’ کا نام دیا جاتا تھا۔

ان کے مطابق مقامی آبادی کا ذريعہ معاش سرکاری و غير سرکاری نوکرياں ہے جب کہ اپنا کاروبار کرنے کا رُجحان بہت کم ہے۔

اسرار الدين اسرار گلگت بلتستان میں ہيومن رائٹس کميشن آف پاکستان کے معاون کے طور بھی کام کر رہے ہيں۔ ان کے مطابق خود کشی کے کيسز پر تحقيق کرنے والی سليکٹ کميٹی، جو کہ 2017 ميں قائم کی گئی تھی، ميں ماحوليات، اينتھرا پالوجی، سائیکالوجی، سوشل سائنس اور دوسرے علوم کے ماہر افراد کی مختلف آرا سامنے آئی تھی۔

سائيکالوجی کے ماہرين ملٹی ڈس آرڈر کی بات کرتے رہے ہيں۔ انہيں ميٹنگز ميں ماحوليات سے تعلق رکھنے والے ماہرين نے بتايا تھا کہ انسانی زندگی پر ماحوليات کا گہرا اثر ہوتا ہے کيونکہ مئی، جون ميں باقی مہينوں کی نسبت خود کشيوں کی شرح بڑھ جاتی ہيں تو کچھ نہ کچھ تو لازمی ہے اور زيادہ تر واقعات پانی ميں چھلانگ لگانے کے ہوتے ہيں۔

وہ سمجھتے ہيں کہ موسم کا کوئی نہ کوئی اثر ضرور ہے۔ تاہم وہ کہتے ہيں کہ اس پر ابھی تک کوئی تحقيق نہيں ہوئی ہے اور اگر کوئی مناسب تحقيق ہوئی تو پھر بہت سارے عوامل سامنے آ جائيں گے۔

تاہم گلگت بلتستان اسمبلی کی رکن اور کميٹی شامل رانی عتيقہ اس بات سے متفق نہيں ہيں۔ ان کے مطابق ايسی باتيں حقيقت سے منہ پھيرنے کے علاوہ کچھ نہيں۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتايا کہ وہ عرصہ دراز سے علاقے ميں خود کشی کا بڑھتا ہوا رجحان ديکھ رہی تھيں۔ انہوں نے گلگت بلتستان اسمبلی ميں خود کشی کے واقعات کی روک تھام کے لیے قرار داد بھی پیش کی تھی جسے متفقہ طور پر منظور کر ليا گيا۔

انہيں اس بات پر افسوس ہے کہ ان کی قرارداد پر قائم ہونے والی کميٹی کی سربراہی ان کے بجائے کسی اور کے پاس ہے جس کی وجہ سے خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔

ان کے مطابق کميشن کی حاصل کردہ معلومات انتہائی دقیانوسی تھیں۔ يہ بہت وسيع موضوع ہے جس کی بہت گہرائی سے تحقيق کی ضرورت تھی جس سے اس بات کا پتہ لگايا جا سکے کہ وہ کونسے عوامل ہيں جو خواتين کو خود کشی پر مجبور کرتے ہيں۔ خواتين کی طرح اب نوجوان لڑکوں ميں بھی اس رجحان میں اضآفہ ہوا ہے۔

رانی عتيقہ کے مطابق ان کی نظر ميں گلگت بلتستان خصوصا ضلع غذر ميں جب سے لڑکيوں کو پڑھنے لکھنے کا موقع ملا اور انہوں نے تعليم ميں نماياں پوزيشن لينا شروع کی۔ وہيں سے علاقے ميں خودکشيوں کا رجحان شروع ہوا۔

دوسری جانب لڑکوں نے تعليم ميں اتنی زيادہ دلچسپی نہيں دکھائی لہٰذا لڑکياں جب تعلیم سے فارغ ہو جاتی تھيں تو شادی کے وقت ان کے خاندان والے رشتے کے حوالے سے ان لڑکیوں سے انصاف نہیں کر پاتے تھے۔

ايک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتايا کہ ايک پڑھی لکھی لڑکی کی شادی ايک ڈرائيور سے کر دی گئی۔ اسی طرح گھريلو تشدد کے واقعات بھی علاقے ميں ديکھے گئے جس کو بعض کيسز ميں خود کشی کا نام ديا گيا۔

گلگت بلتستان کے علاوہ پاکستان کے دوسرے علاقوں ميں بھی خودکشيوں کے واقعات ميں اضافہ ديکھنے ميں آ رہا ہے۔

ماہرين کے مطابق وہ دراصل غيرت کے نام پر قتل کو خود کشيوں کے لبادے ميں چُھپا ديا جاتا ہے۔

ضلع غذر ميں تعينات سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) عبدالرؤف گلگت بلتستان ميں غيرت کے نام پر قتل کے واقعات کی تردید کرتے ہيں۔

ان کے مطابق پوليس موت کی محرکات کی جانچ پڑتال ضرور کرتی ہے۔ اس ضمن ميں گزشتہ چھ ماہ کے دوران پوليس نے چھ افراد کو گرفتار بھی کيا ہے۔

انہوں نے واضح کيا کہ يہ افراد براہ راست قتل ميں ملوث نہيں ہيں بلکہ ان کے کسی اقدام سے خودکشی کی گئی۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے ایس پی عبدالرؤف نے بتايا کہ 99 في صد خود کشی کے کيسز اسماعيلی برادری ميں ہو رہے ہيں۔

ان کے مطابق ضلع غذر کے لوگ بہت حساس طبيعت کے مالک ہيں اور يہی وجہ ہے کہ بہت چھوٹی سی بات بھی اگر انہيں ناگوار گزرے تو بعض اوقات بات خود کشی تک پہنچ جاتی ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ علاقے ميں خود کشی کا مسئلہ سال ہا سال سنگين ہوتا جا رہا ہے جب کہ والدين، عمائدين، برادری، غير سرکاری تنظيمیں اور دوسرے ادارے اس کی روک تھام کے حوالے سے ناکام نظر آتے ہیں۔

ایس پی عبدالرؤف کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے دوسرے اضلاع ميں غذر کی نسبت کافی سنگين مسائل ہيں ليکن وہاں پر خود کشی کے کيسز نہ ہونے کے برابر ہيں۔

انہوں نے واضح کيا کہ اسماعيلی برادری کی لڑکيوں ميں تعليم کی شرح بہت زيادہ ہے اور شادی کے لیے رشتوں ميں مطابقت نہ ہونا بھی بہت سارے کيسز ميں خود کشی کا باعث بنتا ہے۔

ایس پی عبدالرؤف کے مطابق وہ علاقے کے عمائدين سے رابطے ميں ہیں اور خود کشيوں کی روک تھام کے لیے کوشاں ہيں۔