Us Congress Urged To Investigate Flying Saucers in Urdu

‘امریکی کانگریس یو ایف اوز کی تحقیقات کرے’

آج سے قریب تین سال قبل یعنی 2017 ء میں امریکا کے مبینہ بلیک بجٹ کا معاملہ اٹھنے کے بعد آسمان کی وسعتوں میں لاکھوں سال سے محو پرواز دکھائی دینے والے نا قابل فہم ’اجسام‘ سے منسوب روایتی مباحث کا رخ اس وقت یک سر تبدیل ہو گیا جب یہ بات سامنے آئی کہ امریکی حکومت بلیک بجٹ میں مختص کردہ اربوں ڈالر کے ذریعے ’ایڈوانسڈ ایرواسپیس تھریٹ آئیڈینٹیفکیشن پروگرام‘ (اے اے ٹی آئی پی) نامی ایک خفیہ تحقیقاتی منصوبہ چلا رہی تھی اور ان سوالات نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا کہ امریکی حکام یو ایف اوز یا مبینہ طور پر غیر ارضی مخلوق کے خلائی جہازوں کے بارے میں آخر کس حد تک جانتے ہیں۔ جب ان مباحث نے زور پکڑا تو بالآخر حقیقت طشت از بام ہوئی کہ امریکی وزارت دفاع اور متعلقہ حکام یو ایف اوز اور ایسی ہے دوسرے غیر معمولی فضائی مظاہر کی بابت ’اچھا خاصا‘ علم رکھتے ہیں کیوں کہ اس نوعیت کے ’ائرکرافٹ‘ باقاعدگی سے امریکی فضائی حدود میں داخل ہوتے رہتے ہیں جب کہ جدید ترین امریکی جنگی طیارے ان کے سامنے پرِ کاہ کی اہمیت بھی نہیں رکھتے۔ خیال رہے یہاں ذومعنویت غیر ارادی تھی۔ دراصل امریکی حکومت میں دو طرح کے گروپ ہیں۔


‘ایسے شواہد مل گئے ہیں جن کی رو سے اب یو ایف اوز کے معاملے کو جھٹلانا یا ان کا انکار کرنا ممکن نہیں‘


اول وہ جو اس نوعیت کے تحقیقی مطالعوں کے حق میں ہیں جب کہ دوسرا گروپ وہ ہے جو انہیں نظر انداز کرنا ہی مناسب سمجھتا ہے۔ مگر اس کے باوجود امریکی کے اہم ترین خفیہ اداروں میں آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں کہ ان فضائی اجسام کے بارے میں یہ تحقیقات کرنا حکومت کا فرض ہے کہ آیا کہ یہ یو ایف اوز ممکنہ طور پر امریکی فضائی بالا دستی، امریکی عوام کے تحفظ بلکہ بذات خود پوری انسانیت کے لیے مہلک ترین خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ اس گروپ سے تعلق رکھنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد گزشتہ سالوں میں سینکڑوں پراسرار ترین یو ایف اوز کے نہ صرف امریکی فضائی حدود بلکہ دفاعی اعتبار سے پروازوں کے لیے غیر ممنوعہ حدود میں داخلے اور امریکی دفاعی اداروں کی جانب سے ان کا تعاقب تو درکنار ان کی شناخت تک میں نا کامی کو ملکی انتظامیہ کی کھلی شکست سے تعیبر کر رہی ہے۔


’اگر  یو ایف اوز کا غیر ارضی ہونا ثابت ہو جائے تو اس کائنات کی نوعیت اور اس کائنات میں ہمارے وجود سے منسوب تمام تر تصورات بے معنی ہو سکتے ہیں‘


ماہرین اور تجزیہ نگاروں کا مطالبہ ہے کہ ان کھلے شواہد کی روشنی میں امریکی سینیٹ کا فرض ہے کہ وہ اپنا قومی فرض نبھاتے ہوئے اس سلسلے میں قانونی کارروائی کرے جس کی رو سے ایسے پراسرار فضائی اجسام یا مبینہ غیر ارضی مخلوق کے اسپیس کرافٹس کی تحقیقات کی جا سکیں۔ ماہرین نے بلاخوف تردید کہا کہ ایسے شواہد موجود ہیں جن کی رو سے یو ایف اوز کے معاملے کو جھٹلانا یا ان کا انکار کرنا ممکن نہیں جب کہ حالیہ سالوں میں ان کی تعداد میں پراسرار طور پر خطرناک حد میں اضافہ ہو گیا ہے اس لیے وقت آ گیا ہے کہ امریکی حکومت فوری طور پر اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے حل کرنے کی کوشش کرے۔ ماہرین کے مطابق اگر یو ایف اوز دنیا ہی میں کوئی ملک یا ادارہ بنا رہا ہے تو اس میں اتنی تشویش کی بات نہیں؛ تاہم اگر ان کا غیر ارضی ہونا ثابت ہو جائے تو اس کائنات کی نوعیت اور اس کائنات میں ہمارے وجود سے منسوب تمام تر تصورات بے معنی ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ابھی یہ غیر واضح ہے کہ اس مطالبے کے جواب میں کانگریس کا کیا رد عمل ہو گا؛ تاہم یہ امر باعث اطمینان ہے کہ امریکا میں موقر ترین سیاسی جریدے یو ایف اوز کے معاملے کو نہایت سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن تھا کہ کہیں بہت اوپر سے ان کی ڈوریں ہلائی جائیں۔ خیال رہے کہ امریکی حکومت کے خفیہ ترین اداروں سے تعلق رکھنے والے سابقہ ماہرین اور تجزیہ کاروں کے علاوہ دیگر گروپ بھی امریکی حکومت پر یو ایف اوز سے متعلق خفیہ فائلوں کو عوام کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اکثریت کا ماننا ہے کہ اے اے ٹی آئی پی کی جانب سے حالیہ دنوں میں ایک مبینہ یو ایف او کی جاری کردہ فلم مسقبل میں کیے جانے والے حیرت انگیز ترین انکشافات کی پہلی کڑی کے سوا اور کچھ نہیں۔