Us Defence Department Releases UfOs Video In Urdu

امریکا نے ’یو اے پی‘ کی ویڈیو جاری کر دی


برطانوی ٹی وی بی بی سی کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے امریکی نیوی پائلٹس کی فلمائی گئی یہ ویڈیو جاری کی ہے جس میں ایک ’یو ایف او‘ کو واضح طور پر نہایت تیز رفتاری سے پرواز کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ خیال رہے کہ یہ سرکاری طور پر جاری کی گئی اپنی نوعیت کی پہلی ویڈیو ہے جس سے بجا طور پر یہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ کیا امریکی حکومت آہستگی سے کائنات یا کائنات سے باہر کے اُن ’ہول ناک ترین‘ رازوں سے پردہ اٹھانے کی طرف بڑھ رہی ہے جنہیں گزشتہ تین سو سالوں سے ’غیر سائنسی‘ قرار دے کر نام نہاد عقلیت کی نقاب تلے ڈھانک کر رکھا گیا ہے؟ سازشی نظریات پر یقین رکھنے والوں کا یہاں تک ماننا ہے کہ دنیا بھر میں حکومتیں ہزاروں (لاکھوں؟) سال سے ناقابل یقین رازوں سے واقف ہیں؛ مگر انسانی تہذیب کو برقرار  رکھنے کے لیے انہیں عوام سے پوشیدہ رکھنے کے جتن کیے جاتے رہے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق اس ویڈیو کو 2004 میں امریکی محکمہ دفاع کے ’ایڈوانسڈ ایرو اسپیس تھریٹ آئیڈینٹیفکیشن پروگرام‘ – جدید ترین فضائی خطروں کی شناخت کے منصوبے – کے تحت ایک تفتیشی مہم کے دوران فلمایا گیا تھا۔ اگرچہ امریکی حکومت نے تاحال اس بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں کہ آیا کہ اس ’فلائنگ آبجیکٹ‘ کی شناخت ہوئی یا نہیں؛ تاہم ویڈیو فلمانے والے ایک نیوی پائلٹ کے مطابق ’وہ چیز – یو ایف او – ہماری دنیا کی نہیں تھی۔‘ معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکہ محکمہ دفاع نے 2012 میں ’اے اے ٹی آئی پی‘ کو اچانک نا معلوم وجوہات کی بناء پر ختم کر دیا تھا۔ اس بارے میں جلد پڑھیے نیویارک ٹائمز کی ایک مفصل رپورٹ صرف نیرنگ پر کیوں کہ ’ٹرتھ از آؤٹ دیئر۔‘