امریکا اڑن طشتریوں کی خفیہ ترین معلومات دے گا

امریکہ کی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی پینٹاگون کے خلائی طشتریوں سے متعلق ‘یو ایف او’ پروگرام میں اصلاحات پر غور کر رہی ہے۔

اس پروگرام میں اصلاحات کا مقصد عوام کو بہتر انداز سے تمام امور سے باخبر رکھنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے تمام اداروں کے درمیان خفیہ معلومات کا بہتر انداز سے تبادلہ یقینی بنانا ہے۔

امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے پینل کا کہنا ہے کہ ‘یو ایف او’ پروگرام میں اصلاحات سے ‘اَن آئیڈنٹیفائیڈ ایرئیل فینامِنا ٹاسک فورس’ کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔

اس سے قبل مریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا تھا کہ اس پروگرام کو 2012 میں ختم کر دیا گیا ہے۔

پینٹاگون نے دسمبر 2017 میں تسلیم کیا تھا کہ اس نے خلائی طشتریوں کے بارے میں تحقیقات کے اس پروگرام کو خفیہ طور پر لاکھوں ڈالرز بھی جاری کیے تھے۔

سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے زیرِ غور بل ‘انٹیلی جنس اتھورائزیشن بل 2021’ کی ایک شق میں اس پروگرام کا ذکر موجود ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ پروگرام اب بھی جاری ہے۔

یاد رہے کہ دنیا کے بعض علاقوں میں مبینہ طور پر دیکھی جانے والی پراسرار اڑن طشتریاں ‘یو ایف اوز’ کہلاتی ہیں۔ ان سے متعلق عمومی خیال یہ ہے کہ وہ کسی دوسرے سیارے سے زمین پر آتی ہیں۔

ایک خیال یہ بھی کہ کسی دوسرے سیارے کی کوئی ذہین مخلوق زمین سے تعلق قائم کرنے یا اس کے بارے میں تحقیق کے لیے اپنی اڑن طشتریاں بھیج رہی ہے۔ تاہم اب تک ان دعوؤں کی سائنسی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

امریکی اخبار ‘نیویارک ٹائمز’ رپورٹ کر چکا ہے کہ پینٹاگون کا ‘یو ایف اوز’ پروگرام اب بھی موجود ہے اور اس کی سرگرمیاں جاری ہیں۔

‘نیویارک ٹائمز’ نے ریکارڈ اور عہدے داروں کے حوالے سے لکھا تھا کہ ہوا بازی سے متعلق خطرات کی نشاندہی کا جدید پروگرام 2007 سے 2012 تک جاری رہا اور اس کے لیے پینٹاگون اپنے بجٹ سے سالانہ دو کروڑ 20 لاکھ ڈالرز فراہم کر رہا تھا۔

واضح رہے کہ امریکہ کی سینیٹ اس پروگرام کے مقابلے میں حقیقی دنیا کے مخالف ممالک جیسے چین کے حوالے سے خطرات پر زیادہ خدشات کا اظہار کرتی رہی ہے۔

خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق امریکہ چین کی جاسوسی کی صلاحیت اور اس کام کے لیے ڈرون اور دیگر خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے بھی پریشانی کا شکار ہے۔

سینیٹ کے ارکان تسلیم کرتے ہیں کہ یہ موضوع انتہائی حساس ہے۔ اس لیے پینٹاگون سے ‘یو ایف او’ پروگرام کی پیش رفت کے حوالے سے ایک تفصیلی اور پبلک رپورٹ طلب کی گئی ہے۔

سینیٹ نے کسی بھی پراسرار خلائی اڑن طشتری کے مشاہدے کے حوالے سے بھی پینٹاگون سے استفسار کیا ہے۔

پینٹاگون کے ‘یو ایف اوز’ سے متعلق پروگرام کی تمام نگرانی نیول انٹیلی جنس آفس کے ذریعے کی جاتی ہے جس کا کام کسی بھی پراسرار اڑن طشتری سے متعلق آگاہ کرنا یا اگر ان کا کسی بھی دشمن ملک سے تعلق یا امریکہ کی فوج کے لیے خطرے کا سبب ہونے سے متعلق معلومات جمع کرنا ہے۔

‘انٹیلی جنس اتھورائزیشن بل 2021’ میں یو ایف اوز پروگرام سے متعلق ایک حصہ شامل کیا گیا ہے۔

یہ بل سینیٹ میں پیش ہونا ہے۔ اگر بل سینیٹ سے پاس ہو جاتا ہے تو پینٹاگون پابند ہو گا کہ 180 دن میں اس پروگرام کے حوالے سے رپورٹ سینیٹ میں جمع کرائے۔

رواں برس اپریل میں پینٹاگون نے تین ویڈیوز جاری کی تھیں۔ جن میں امریکی نیوی کے پائلٹس کا کسی ‘یو ایف او’ نما چیز یا پُر اسرار اڑن طشتری سے سامنا ہوتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

ان میں سے ایک ویڈیو نومبر 2004 میں ریکارڈ کی گئی تھی جب کہ باقی دو ویڈیوز جنوری 2015 کی تھیں۔

ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ جہاز پر لگا ہوا اسلحہ استعمال کرنے کا سینسر ایک دم کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ تاہم پائلٹ اس کو سنبھال لیتا ہے۔ پائلٹ سینسر میں دیکھتا ہے کہ بہت دور کوئی چیز تیزی سے دائیں سے بائیں جانب پرواز کرتے ہوئے غائب ہو جاتی ہے۔

دوسری ویڈیو میں ایک اور پائلٹ بادلوں کے اوپر کسی چیز کو پرواز کرتے ہوئے دیکھتا ہے جو کہ گول گھوم رہی ہے تاہم پائلٹ کا خیال تھا کہ یہ ڈرون بھی ہو سکتا ہے البتہ یہ واضح نہیں تھا کہ یہ ڈرون ہی ہے۔