Village vanished overnight in Urdu

صفحہ ارض سے یکایک مٹ جانے والا گاؤں

میں اُس ٹیم میں شامل تھا؍ جسے صفحہ ارض سے غائب ہو جانے والے گاؤں میں تحقیق کے لیے بھیجا گیا ۔اگرچہ میں اس کہانی کو اپنے اکاؤنٹ سے پوسٹ کر رہا ہوں مگر یہ واقعات میرے ساتھ پیش نہیں آئے ہیں۔ اخفائے راز کے معاہدوں کے پیش نظر صاحب واقعہ کا نام ظاہر نہیں کیا جائے گا؍ تا ہم کہانی ان ہی کے الفاظ میں پیش خدمت ہے: ۔میں ایک ماہر حیاتیات ہوں اور متعدی بیماریوں کے بارے میں میری مہارت خاص ہے۔ چوں کہ میں پہلے بھی یو این ایڈ اور سی ڈی سی (سینٹرز فار ڈیزی کنٹرول اینڈ پری وینشن) کے ساتھ کام کر چکا ہوں اس لیے میرا خیال تھا کہ مذکورہ اسائنمنٹ بھی ان ہی دونوں میں سے کسی ایک کی طرف سے آیا ہے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ مجھے ایک جگہ روانہ کیا جائے گا لیکن اس بارے میں کوئی وضاحت پیش نہیں کی۔ یہ اسائنمنٹ کے بارے میں کال موصول ہونے سے ایک ہفتہ قبل کی بات ہے مگر میں نے اپنی تمام تیاری مکمل کر لی تھی کیوں کہ مجھے کسی بھی وقت طلب کیا جا سکتا تھا۔  ۔چودہ دسمبر کی صبح تقریباً 5 بجے مجھے کال موصول ہوئی جس کے مطابق مجھے ائر پورٹ لے جانے والی گاڑی ایک گھنٹے میں میرے گھر پہنچ رہی تھی۔ میں اتنے مختصر نوٹس پر کام کرنے کا عادی نہیں ہوں کیوں کہ یو این وغیرہ ہفتوں پہلے اپنی منصوبہ بندی سے آگاہ کر دیتے ہیں؍ مگر اس بار مجھے گویا بستر سے کھنچ کر کام پر روانہ کیا جا رہا تھا۔ تقریباً 13 گھنٹوں بعد میں پیرو کے دارالحکومت لیما پہنچ چکا تھا مگر ابھی بھی مجھے منزل کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔  ۔وہاں پہنچتے ہی سب سے پہلے مجھ سے میرے تمام برقی آلات لے لیے گئے؍ مگر میں خاموش رہا کیوں کہ معاوضہ نا قابل یقین تھا۔ اس کے بعد ان لوگوں نے ہم 13 لوگوں کو ائرپورٹ کے احاطے میں بنے ایک کمرے میں تفصیلات سے آگاہ کرنے کے لیے جانوروں کی طرح ٹھونس دیا۔ یہاں ہمیں صرف اس بات سے آگاہ کیا گیا کہ ہمیں طیارے کے ذریعے پہاڑوں تک لے جایا جائے گا۔ اس دوران میں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بات چیت کرنے کی کوشش کی تا کہ کچھ نہ کچھ سامنے آ سکے۔  ۔میرے ساتھ متعدی بیماریوں کے تین اور ماہر تھے؍ مگر دیگر 5 ماہرین کا تعلق کسی نہ کسی حوالے سے ’سی ڈی سی‘ سے تھا لہٰذا ان لوگوں سے کچھ اگلوانے کا سوال ہی نہیں تھا۔ اگلے 10 منٹ کے دوران میرے کانوں نے ’وبا‘ اور ’پھوٹ پڑنے‘ کے الفاظ 50 بار سے زائد سنے۔ اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ ہم کسی معمول کی کارروائی میں حصہ نہیں لے رہے۔  ۔تقریباً ایک گھنٹے بعد انہوں نے ہمیں تین امریکی فوجی ہیلی کاپٹروں میں ٹھونس دیا؍ مگر اس وقت بھی ہمیں کچھ اندازہ نہیں تھا کہ ہمیں کہاں لے جایا جا رہا ہے اور کام کی نوعیت کیا ہو گی۔ لیما کی حدود سے باہر نکلنے کے بعد ہم سب کے ہاتھوں میں زرد لفافے دیے گئے جن کے ساتھ اخفائے راز کے معاہدے بھی منسلک تھے۔ ان معاہدوں کی رو سے ہم اس کارروائی کے بارے میں کسی سے ایک لفظ بھی نہیں کہہ سکتے تھے ۔ ۔ ۔  چوں کہ میں پہلے بھی اس نوعیت کی کارروائیوں سے گزر چکا تھا اس لیے مجھے کوئی خاص پریشانی نہیں تھی۔  ۔ہم اینڈس نامی پہاڑی سلسلے کے جانب بڑھ رہے تھے جہاں ہمیں ایک ایسے گاؤں کے بارے میں تفتیش کرنی تھی جو یک لخت صفحہ ارض سے غائب ہو گیا تھا۔ میرا خیال تھا کہ یہ واقعہ برف باری یا مٹی کے تودوں کے پھسلنے کی وجہ سے پیش آیا ہو گا؍ مگر صفحہ نمبر 3 پر مصنوعی سیارے سے لی گئی تصویریوں میں تین عمارتیں، جھونپڑیاں اور اسی طرح کی دوسری چیزیں واضح نظر آ رہی تھیں۔ ان میں سے زیادہ تر سیاہ ہو رہی تھیں مگر ان کا وجود برقرار تھا۔ میرے خیال میں پہاڑوں کی اتنی بلندی پر آگ کا لگنا نا ممکن ہے مگر تصویروں سے صاف ظاہر تھا کہ آگ اچھی طرح عمارتوں کی درمیان پھیلی تھی۔ تصویروں میں کسی لاش وغیرہ کا نام و نشان نہیں تھا مگر وہاں پھیلی ابتری کی کیفیت میرے تصور کو کسی اور ہی آں چک سے مہمیز کر رہی تھی۔ ۔ہیلی کاپٹر ہمیں کافی دور تک لے کر گئے مگر پھر انہوں نے آکسیجن ٹینک ہمارے حوالے کرنے کے بعد ہمیں پہاڑوں کی ڈھلانوں پر اتار دیا۔ جس کے بعد ہم آدھے گھنٹے پیدل چلنے کے بعد ’موبائل لیب‘ تک پہنچے۔ یہ لیب ایک ٹینٹ پر مشتمل تھی جس کے اندر بے شمار آلات رکھے ہوئے تھے۔ اس ٹینٹ کے 6 حصے تھے اور ہر حصے کو مختلف رنگ کے ٹیپ سے ممیز کیا گیا تھا۔ اگر آپ کو سبز ٹیپ پار کرنے کی اجازت نہیں تھی تو اس کا مطلب تھا کہ آپ کسی بھی صورت میں سبز ٹیپ والے سیکشن میں نہیں جا سکتے تھے۔ مگر یہ کوئی قابل تشویش بات نہیں تھی کیوں جس سیکشن میں؍ میں کام کر رہا تھا اس کے برابر والے سیکشن پر حیاتیاتی خطروں کی علامتیں بنی ہوئی تھیں۔  ۔’لیب‘ میں کسی قسم کی آسائش کا کوئی تصور نہیں تھا اور یہاں صرف وہ آلات تھے جنہیں ہیلی کوپٹروں کے ذریعے لایا گیا تھا۔ کام کی وسعت کو دیکھتے ہوئے میرا خیال تھا کہ ہمیں رات بھی اس لیب میں گزارنی ہو گی مگر ہمارے وہاں پہنچتے ہی ہمیں سب سے پہلے اس بات سے آگاہ کیا گیا کہ سورج ڈوبنے کے بعد یہاں کسی کو ٹہرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ اس تاکید کا تعلق حیاتیاتی خطرات سے تھا اور نہ ہی وہاں پڑ رہی شدید ٹھنڈ سے۔ چناں چہ دن کے خاتمے پر ہمیں ہیلی کوپٹروں کے ذریعے لیما لے جایا جاتا تھا جب کہ اگلی صبح یہ ہی ہیلی کوپٹر ہمیں دوبارہ لیب تک اڑا لے آتے تھے۔  ۔وہاں پہنچنے کے بعد ہمیں مخصوص حفاظتی لباس پہننے کو دیے گئے جو مکمل طور پر سیل بند تھے اور ان کی اپنی آکسیجن سپلائی تھی۔ یہ گاؤں نیچے ڈھلان میں 15 منٹ کی پیدل مسافت پر تھا مگر وہاں تک ہمیں خود ہی جانا تھا۔ اس دوران اُن لوگوں نے ہم سے ریڈیو پر رابطہ رکھنا تھا مگر ان میں سے کوئی بھی ہمارے ساتھ وہاں نہیں جا رہا تھا۔ جب میں نے ان سے سوال کیا کہ کیا وہاں جانا خطرناک ہے تو انہوں نے جواب دیا نہیں؍ مگر پھر بھی ان میں سے کسی کو وہاں جانے کی اجازت نہیں تھی۔ اس مرحلے پر میرے ذہن نے خطرے کی گھنٹی بجانے شروع کر دی تھی اور سچ یہ ہے کہ میری وجود میں خوف سرایت کر رہا تھا۔ آپ خود سوچیے آپ سے کہا جاتا ہے کہ پہاڑ کے اس طرف ایک ایسا گاؤں ہے جو راتوں رات غائب ہو گیا ہے؛ بغیر کسی وجہ کے وہاں انتہائی درجے کے حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور آپ کو تنہا وہاں جا کر معلوم کرنا ہے کہ ماجرا کیا ہے تو آپ کی اس وقت کیا حالت ہو گی ۔ ۔ ۔ ؟ مگر مجھے ایسی ہی چیزوں اور جگہوں میں مداخلت کرنے کا خطیر معاوضہ ملتا ہے جن کا ایک عام انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔  ۔میں نے پہاڑوں پر کوئی زیادہ وقت نہیں گزارا مگر مجھے معلوم ہے کہ وہاں جنگلی حیات ضرور ہوتی ہے جیسے پرندے، کیڑے مکوڑے اور اسی طرح کی دوسری مخلوقات مگر یہاں جو چیز میں نے سب سے پہلے محسوس کی وہ مکمل ترین خاموشی تھی۔ اس مخصوص حفاظتی لباس میں ہر طرح کی آوازیں سنائی دیتی ہیں اور ہم لوگ ایک دوسرے سے بات چیت کرتے رہتے ہیں؍ مگر وہاں ہمارے سوا زندگی نام کی کوئی چیز موجود نہیں تھی جنہوں نے مخصوص حفاظتی لباس پہنے ہوئے تھے اور حتیٰ کہ غور سے دیکھنے پر گھاس بھی بیمار نظر آتی تھی۔  ۔اینڈس کے اس پہاڑی سلسلے پر آباد دیہات بہت دور دراز واقع ہیں اور ہمیں کچھ اندازہ نہیں تھا کہ یہ گاؤں کب سے ویران پڑا ہے۔ یہ لوگ عام طور پر اونٹ سے مشابہ جانور لاما اور الپاکو بھیڑیں پالتے ہیں ۔تصویریں ۔اور ان مویشیوں کے خریدار عام طور پر مہینے میں ایک بار ان دیہاتوں کا چکر لگاتے ہیں۔ یہ خریدار ہی ان مقامی لوگوں کا بیرونی دنیا سے واحد رابطہ ہوتے ہیں۔ جب میں نے ان ڈھلانوں پر قدم رکھا تو سب سے پہلے مجھے جو خیال آیا وہ یہ تھا کہ یہاں کم از کم ایک ہفتہ پہلے لوگ موجود تھے۔ مجھے لگا ان لوگوں کو یہاں سے گئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا؍ مگر اس جگہ کی حالت  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے انہیں زبردستی ان کے گھروں سے نکال لے جایا گیا ہے۔  ۔میری آنکھوں نے یہاں جو دیکھا میں اس کے لیے بالکل تیار نہیں تھا۔ میں آج بھی اس کیفیت کو پوری طرح الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ ایسا لگتا تھا جیسے یہاں کوئی بہت بڑی طاقت زبردستی گھسی ہے اور اس نے ہر چیز کو اپنی طاقت کے بل تہس نہس کر دیا ہے۔ یہاں 6 یا 7 پتھر کے مکانات تھے مگر ان سب کے دروازے ٹوٹے ہوئے تھے۔ بعض دروازے اپنے قبضوں سے الگ پڑے تھے اور کچھ اس طرح ٹوٹ کر بکھرے تھے جیسے کسی ٹرین کے انجن نے انہیں پوری طاقت سے ٹکر دے ماری ہو۔  ۔ان مکانوں کی یاد آج بھی میرے خوابوں میں ایک آسیب کی طرح سانس لیتی ہے۔ ان مکانوں کے دروازوں کے عقب میں ساز و سامان اوپر تلے رکھا ہوا تھا؍ پائپ اور لکڑی کے ٹکڑے جا بجا پڑے تھے اور دروازوں سے لے کر باہر دور تک بے شمار ناخنوں اور خون کے دھبوں کے ساتھ زمین کو کھرچنے کے گہرے نشان ثبت تھے۔ ان دیہاتیوں کی بندقوں میں ایک بھی گولی باقی نہیں بچی تھی ۔ ۔ ۔ یہ لوگ باسکٹوں میں اپنی بھیڑوں سے حاصل ہونے والی اون بچھا کر جھلانے کے لیے ان کے اندر اپنے بچے لٹاتے ہیں؍ مگر وہاں یہ باسکٹیں بھی ٹوٹی پڑی تھیں اور ان میں ایک بھی بچے کا نام و نشان نہیں تھا ۔ ۔ ۔  ۔ یہاں میں کہانی مختصر کر رہا ہوں۔ جنہوں نے مجھے یہ کہانی سنائی وہ اس مرحلے پر حد سے زیادہ جذباتی ہو گئے تھے اس لیے انہوں نے باقی کہانی مجھے بعد میں سنائی:  ۔’ہمیں اپنا کام کرنا تھا چناں چہ ہم گروپوں میں بٹ گئے۔ میرا کام ہر اس جگہ سے نمونے اکٹھا کرنا تھا جہاں ذرا بھی کسی کے چھونے کا شبہ ہو۔ چناں چہ میں نے دروازوں کے نیچے، خون کے دھبوں اور وہاں پڑے ناخنوں سے نمونے لیے۔ اس کے بعد میں نے گاؤں میں جگہ جگہ سے مٹی کے نمونے بھی لیے۔  ۔ایک جلے ہوئے مکان کو دیکھ کر لگتا تھا جیسے وہاں یہ آگ اس کے چولہے سے لگی ہو؍ مگر دیگر تین مکان گاؤں کے دوسرے سرے پر تھے اور ممکن نہیں تھا کہ آگ اتنی دور تک پھیل کر انہیں بھی خاکستر کر سکتی۔ میں نے ان مکانوں سے بھی نمونے حاصل کیے۔ اس وقت وہاں بجھی برف کی تہہ زیادہ گہری نہیں تھی؍ مگر پھر بھی اتنی گہری ضرور تھی کہ اس کے نیچے دفن زمین نظر نہیں آ رہی تھی۔ جب میں نے برف کی تہہ کھرچی تو انکشاف ہوا کہ سرد برف تلے چھپی گھاس بھی جل کر سیاہ ہو رہی تھی ۔ ۔ ۔  ۔ایسا لگتا تھا جیسے اس مقام کو ایک بہت بڑے محدب عدسے سے سورج کے شعاعیں مرتکز کر کے جلایا گیا ہے۔ ہر چیز جلی ہوئی تھی مگر جل کر سیاہ ہونے کے با وجود اس کا وجود اس طرح برقرار تھا؍ جیسے اس پورے دیہات کو توے پر ڈال کر کباب کی طرح تلا گیا ہو۔ میرے خیال میں ہمارا یہاں سے جلد از جلد اپنا کام ختم کر کے نکلنا ہی بہتر تھا۔ چناں چہ ہم نے اپنا کام جاری رکھا۔ ہم لیب میں واپس گئے۔ اپنے جمع کردہ نمونوں کا تجزیہ کیا اور رات گزارنے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لیما چلے گئے۔ ہمیں وہاں ایک ہوٹل میں ٹہرایا گیا تھا مگر ہمیں نقل و حرکت کی اجازت نہیں تھی۔ ہم یہ کام کئی دنوں تک ایک معمول کی طرح انجام دیتے رہے۔  ۔جس وقت میں اس گاؤں میں نہیں ہوتا تھا اس وقت میں لیب میں نمونوں کا تجزیہ کر رہا ہوتا تھا۔ تجزیے کے لیے ہم طاقت ور مائکرو اسکوپس استعمال کر رہے تھے اور میں زیادہ تر خلیوں کو محض دیکھ کر ہی پہچان لیتا تھا؍ جیسے بال، خون، تھوک اور ٹوٹے ہوئے ناخنوں کے خلیات وغیرہ؍ مگر بیرونی اشیا سے اکٹھے کئے گئے نمونے نا قابل شناخت تھے۔ یہ نمونے بالکل سیاہ اور عجیب سے تھے جنہیں میں کسی بھی صورت پہچان نہیں سکا۔ ان میں سے بعض شکل و صورت سے خلیوں کے طرح لگتے تھے اس لیے میں نے انہیں نشونما کرنے والے مرکب میں بھی ڈال کر دیکھا مگر کچھ نتیجہ نہیں نکلا۔ یہ عجیب و غریب خلیے مکمل طور پر مردہ تھے؍ ان کا ڈی این اے نا قابل شناخت تھا اور انہیں صرف ’انامولی‘ کا نام دیا جا سکتا تھا یعنی ایک ایسی شے جس کی فی الوقت سائنس کوئی توجیہ پیش نہیں کر سکتی۔  ۔مجھے نہیں پتہ کہ میں کیا تلاش کرنا چاہ رہا تھا۔ ہمیں کسی نے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا کہ وہاں کیا واقعہ پیش آیا ہے اور زیادہ تر معلومات میں نے ان ہدایات سے اخذ کی تھیں؍ جنہیں میں کسی سے بھی شیر نہ کرنے کا پابند تھا حتیٰ کہ اپنی ٹیم کے اراکین سے بھی۔ ۔ ۔ مگر اس کے با وجود اس معلومات کو اس طرح الگ الگ رکھا جا رہا تھا کہ میرے لیے تمام نقطے ملا کر ایک واضح تصویر بنانا ممکن نہیں تھا۔ چناں اپنے فرض کو مکمل طور پر انجام دینے کے لیے میں نے جوابات ڈھونڈنا شروع کیے۔ میں نے بیس کے عملے سے پوچھا مگر وہ محض کندھے اچکا کر رہ گئے اور جب میں نے اعلیٰ افسران سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ ہر کسی کو صرف اتنا ہی بتایا جا سکتا ہے جتنا اس کے کام کرنے کے لیے ضروری ہے؍ اور اس سے زیادہ کسی کو کچھ بھی بتانے کی اجازت نہیں ہے۔  ۔مجھے نہیں پتہ کہ انہیں ہم سے کس حد تک خاموش رہنے کی توقع تھی اور خاص طور پر ایک ایسے ماحول میں جہاں کوئی ہمارے سر پر نگرانی کے لیے دور دور تک موجود نہیں تھا۔ مگر آہستہ آہستہ تفصیلات سامنے آنے لگیں جیسے:  مقناطیسی انامولیز، آئسو ٹوپس کی غیر معمولی موجودگی، تاب کاری کی اتنی بلند سطح جو وہاں نہیں ہونا چاہیے تھی اور وغیرہ وغیرہ۔ اس دیہات کے رہائشی گلہ بان تھے اور وہ لاماؤں اور الپاکا بھیڑوں کو مویشیوں کے طور پر پالتے تھے مگر یہاں ان کے ایک بھی جانور کا نام و نشان نہیں تھا۔ آپ کو پتہ ہے ان جانوروں کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ جب پہلی بار اس علاقے کا ہیلی کاپٹروں کے ذریعے جائزہ لیا گیا تو پتہ چلا کہ 50 سے زیادہ مردہ مویشی ڈھلان پر نصف میل نیچے بکھرے پڑے ہیں۔ ان جانوروں نے اندھا دھند دوڑتے ہوئے پہاڑوں سے گر کر اپنے ہی ہاتھوں اپنی ہلاکت کا سامان کیا تھا ۔ ۔ ۔  ۔اس وقت تک ہر ٹیم ممبر کا مزاج بگڑ چکا تھا اور ہمیں اچھی طرح پتہ چل گیا تھا کہ ہم ایک کبھی نہ سلجھنے والی گتھی کو سلجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں نے سوچا چوں کہ میں میرا تعلق فوج سے نہیں اس لیے میرا کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا چناں چہ میں نے ادھر ادھر ٹوہ لینے کی ٹھانی۔ یہ لیب کوئی فوجی بیس نہیں تھی اس لیے جو معلومات لیپ ٹاپ میں محفوظ نہیں کی گئی تھیں وہ فولڈر کی شکل میں شیلف پر رکھی جاتی تھیں۔ ایک دن میرا ایک مینیجر ایک فولڈر کھلا چھوڑ کر کہیں باہر چلا گیا اور میں نے تیزی سے اس فولڈر کے صفحات پلٹنا شروع کر دیے۔ تقریباً نصف کے قریب صفحے پلٹنے کے بعد مجھے ایک خط نظر آیا۔ اس خط میں نام و پتے کو مٹا دیا گیا تھا مگر یہ تین حرف جلی انداز میں درج تھے:  ۔ای بی ای ۔ہم سب نے اتنی فلمیں ضرور دیکھ رکھی ہیں کہ ہم ’ماورائے ارض حیاتیاتی وجود‘ سے اچھی طرح واقف ہیں۔ اس خط میں درج معلومات یا تو کوڈ ورڈز کی شکل میں تھیں یا پھر اتنی پیچیدہ کہ وہ میرے سر سے گزر گئیں۔ ہو سکتا ہے میں نے غلط دیکھا ہو۔ ہو سکتا ہے میں نے غلط سمجھا ہو۔ ہو سکتا ہے کہ اس تحریر کا سیاق و سباق کچھ اور ہو مگر یک لخت ہر راز گویا مجھ پر منکشف ہونا شروع ہو گیا۔ میں مائکرو اسکوپ میں جو سیاہ خلیے دیکھ رہا تھا وہ اس دنیا کے نہیں تھے اور جس طرح سے لیب کو سیکشنوں میں بانٹا گیا تھا اس سے اب ہر بات واضح ہو رہی تھی ۔ ۔ ۔  ۔اس طرح میں نے وہاں 3 ہفتے گزارے۔ وہ ہمیں صبح ہیلی کاپٹروں میں اس جگہ تک لاتے تھے۔ ہم دن بھر کام کرتے تھے۔ بسا اوقات وہاں سے مزید نمونے اکٹھے کرتے تھے اور شام میں اپنی رپورٹ جمع کرا دیا کرتے تھے۔ روزانہ کی اس رپورٹ کا لب و لباب یہ ہوتا تھا کہ ہنوز ہم کچھ نیا معلوم نہیں کر پائے ہیں۔ مجھے کچھ اندازہ نہیں تھا کہ ہمیں یہاں ابھی اور کتنی مدت تک کام کرنا ہے مگر مجھے اپنی بیوی اور بچوں تک کو کال کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ اگر چہ اس بات کے با وجود میں ایک طویل عرصے تک یہاں کام کرنے کے لیے تیار تھا؍ مگر ہر سوال کے جواب میں خاموشی میرے لیے نا قابل برداشت ہو چکی تھی۔  ۔ پھر ایک دن کام ختم ہو گیا۔ ہم ایک روز جب کام کرنے وہاں پہنچے تو ہماری لیب کا تیا پانچہ ہو چکا تھا۔ وہاں موجود ہر چیز تہس نہس کر دی گئی تھی اور ایسا لگتا تھا جیسے لیب کے اندر کسی بہت بڑے عفریت نے گھس کر دیوانہ وار ہر طرف ٹکریں ماری ہیں۔ ہیلی کاپٹروں نے اس جگہ پر ایک چکر لگایا؍ اس کے بعد پلٹ کر لیما کا رخ کیا اور ہم اس جگہ دوبارہ کبھی نہیں گئے۔ میں اسی رات گھر واپسی کے لیے جہاز پر سوار ہو گیا۔ مجھے سختی سے ہدایات دی گئی تھیں کہ اس بارے میں ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکالنا اور یہ کہ خاموش رہنے کی صورت میں خطیر معاوضے کے ساتھ مزید کام بہت جلد دیا جائے گا۔ اگر چہ انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ زبان کھولنے کی صورت میں کیا ہو گا؍ مگر ظاہر ہے ہر بات پوچھنے کی ہوتی ہے اور نہ ہی ہر بات کا جواب ہوتا ہے۔  ۔یہ ماجرا 2003 میں پیش آیا۔ مجھے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بات چیت اور اپنے تجربات کی رو سے پتہ چلا ہے کہ دنیا میں بالکل اسی طرح کے 50 سے زائد واقعات رو نما ہو چکے ہیں۔ یہ تمام واقعات دنیا کے دور دراز ترین اور سطح سمندر سے بہت بلند جگہوں پر پیش آئے ہیں۔ کچھ عرصے بعد ان لوگوں نے ہمیں بتایا کہ یہ واقعہ ایک ایسے مہلک ترین وائرس کی وجہ سے پیش آیا تھا جو ہوا میں پھیل میں گیا تھا۔ مگر ظاہر ہے اس وضاحت پر کوئی احمق ہی یقین کر سکتا ہے۔ اگر یہ بات درست تھی تو پھر لاشیں کہاں تھیں ۔ ۔ ۔ ؟  ۔میں آپ کو بتاؤں میرا اپنا خیال کیا ہے؟  ۔میرے خیال میں کوئی چیز دور دراز انسانی آبادیوں کو آسمانوں میں اچک رہی ہے۔ ذرا سوچیں: آکسیجن سب سے زیادہ متعامل عنصر ہے۔ شاید وہ جو کچھ بھی ہے آکسیجن اس کے لیے زہر ہے اور اسی لیے بلند جگہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جہاں یہ گیس بہت کم رہ جاتی ہے۔ مجھے نہیں پتہ کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں؍ مگر یہ کسی بھی طور ایک پر امن کارروائی نہیں ہے۔ لیما سے واپس آنے کے بعد میں آج تک پہاڑوں کی بلندیوں پر نہیں گیا۔ میں اب ہائکنگ نہیں کرتا اور اندھیرا چھا جانے کے بعد ہر گز آباد شہروں سے نکل کر باہر نہیں جاتا۔ میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ میں اور میری فیملی سطح سمندر سے نزدیک تر رہیں۔  ۔میرے منع کرنے کے با وجود وہ لوگ مجھے خطیر ترین معاوضے کے عوض مسلسل کام پر واپس بلا رہے ہیں؍ کیوں کہ ان واقعات کا سلسلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔  ۔ ۔

 

جاری ہے ۔ ۔