Voynich Script in Urdu - Read Mysterious Book in Urdu

ناقابل فہم پراسرار کتاب – ’وائینک مینیو اسکرپٹ‘

وائنک مینیواسکرپٹ دنیا کی ایک پر اسرار ترین کتاب ہے جس کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ اسے 1438-1404 کے درمیان تحریر کیا گیا ہے۔ اس کتاب کی تحریر آج تک نہیں پڑھی جا سکی اور ماہرین ایک صدی سے اس معمے کو سلجھانے کی تا حال نا کام کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس چھ سو سال پرانی کتاب نے اپنی پر اسرایت کے لحاظ سے ہر کسی کو مسحور کر رکھا ہے۔ اگر چہ اس کی زبان آج بھی نا قابل فہم ہے مگر اب اس کے بارے میں نت نئے انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ اس پر اسرار قدیم مسودے کو پولینڈ نژاد امریکی کتب فروش ولفرڈ ایم وائنک کے نام پر ’وائنک مسودے‘ کا نام دیا گیا ہے جنہوں نے اسے 1912 میں حاصل کیا تھا۔ یہ کتاب 240 صفحوں پر مشتمل ہے اور ایک ایسی زبان یا رسم الخط میں تحریر کی گئی ہے جسے آج تک کوئی نہیں پڑھ سکا۔ بعض ماہرین نے جو اس معمے کو سلجھانے سے قاصر رہے تنگ آ کر یہاں تک دعویٰ کیا ہے کہ یہ کتاب ایک قدیم ’دھوکے‘ کے سوا اور کچھ نہیں جسے کسی نے محض لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لیے قصداً تحریر کی شکل دی ہے۔ یہ دعویٰ کرنے والے ماہرین میں برطانیہ کی کیلی یونی ورسٹی کے گورڈون رگ بھی شامل ہیں جنہوں نے اس کتاب کی تحقیق پر ایک عشرے سے زائد وقت صرف کیا ہے۔ رگ کا کہنا ہے کہ اگر اس کتاب کا مصنف خفیہ زبان لکھنے میں ماہر تھا تو اس کے لیے ایسی کوئی کتاب لکھنا بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ رگ کے مطابق ماہرین یہاں تک سمجھ گئے ہیں کہ اس کتاب کی ہجیں باقاعدہ ہیں مگر ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ شماریاتی اعتبار سے اس طرح کی با قاعدہ مگر بے معنی تحریر کا استعمال نا ممکن نہیں۔ مگر ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ضروری نہیں ہر شخص کی اس نوعیت کی کوشش کام یاب بھی ثابت ہو۔ مگر دوسری طرف ایسے ماہرین بھی ہیں جنہوں نے اس دعوے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ 2013 میں ایک جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق سائو پالو کے مرکز تحقیق برائے ریاضی و کمپیوٹر کے پروفیسر ڈاکٹر ڈائگو امانکیو نے اس بارے میں وضاحت پیش کی ہے کہ اس کتاب کی دل فریب تحریر در اصل ایک با قاعدہ زبان ہے۔ ان کہا کہنا ہے: ’بے ترتیب آزمائشوں کے ذریعے پتہ چلا ہے کہ اس کتاب کی تحریر فطری زبانوں کی تحریر ہی کی طرح ہے۔‘ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کتاب کی خفیہ تحریر کے ’پاس ورڈز‘ کا پتہ لگا لیا گیا ہے جس سے اس معمے کو سلجھانے میں مدد مل سکے گی۔‘ حال ہی میں یونی ورسٹی آف البرٹا میں فطری زبانوں کے محقق گریگ کونڈارک نے اس کتاب کی خفیہ زبان کو سمجھنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر ان کے تحقیق کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ممکن ہے اس کتاب کو عربی یا عبرانی زبان میں لکھا گیا ہو۔ محققین کے مطابق اس بات کا امکان ہے کہ اس کتاب کی تحریر میں ’الفا گرام‘ طریقے کو استعمال میں لایا گیا ہے جہاں کسی حرف کے الفاظ کو الف بائی ترتیب سے تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ چناں اس بنیاد پر انہوں نے اس کتاب کی تحریر کو پڑھنے کے لیے ایک الگورتھم تیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ کونڈارک نے ایک بیان میں کہا کہ تحقیق جو بات سامنے آئی وہ یہ تھی کہ اس کتاب کے 80 فی صد سے زائد الفاظ عبرانی کے ہیں مگر ہم ان کے معنی سمجھنے سے قاصر ہیں۔ عبرانی ماہرین کی اس زبان کو پڑھنے میں نا کامی کے بعد کوڈارک اور ان کی ٹیم نے ’گوگل ٹرانسلیٹ‘ کا رخ کیا۔ حیرت انگیز طور پر گوگل نے ایک پورے جملے کا کا میابی سے ترجمہ کر دیا۔ گرامر کے اعتبار سے درست اس جملے کا اردو ترجہ کچھ یوں ہے: ’اس (عورت) نے پادری، گھر کے مالک، مجھے اور لوگوں کو سفارشات پیش کیں‘۔ ماہرین کے مطابق اس مسودے کا اس طرح شروع ہونا عجیب مگر بہر حال ایک قابل فہم بات ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اگر عبرانی زبان کے تاریخ دان اس معمے کو سلجھانے میں نا کام رہے تو پھر اسے کبھی بھی سلجھایا نہیں جا سکے گا۔ اگر چہ یہ ابھی دور کی بات ہے مگر ممکن ہے اس کتاب کی نقول بڑے پیمانے پر بکنا شروع ہو جائیں کیوں کہ اسپین کے سائلو نامی اشاعتی ادارے نے 2016 میں اس کتاب کی نقول شائع کرنے کے حقوق حاصل کر لیے ہیں۔ سائلو کے مطابق یہ کتاب اس طرح پر اسراریت کے ہالے میں لپٹی ہوئی ہے کہ اس پر پہلی نظر پڑتے ہی جو احساسات پیدا ہوتے ہیں انہیں الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ اس ادارے نے ایک ایسا خفیہ طریقہ بھی تیار کر لیا ہے جس سے اس کتاب کی نقول بالکل قدیم دکھائی دیں گی۔ سائلو گزشتہ ایک عشرے سے اس کتاب کی نقول شائع کرنے کی اجازت کے حصول میں کوشاں تھا۔ اشاعت کے بعد اب پر اسرار مظاہر میں دل چسپی رکھنے والے لوگ اس کتاب کی اصل سے قریب ترین نقول کتب خانوں سے حاصل کر سکیں گے۔ پر اسرار تحریر کے علاوہ اس کتاب میں ستاروں کے نقشوں، زائچوں، جانوروں، انسانوں اور ایسے پودوں کی بے شمار تصویریں ہیں جنہیں آج تک روئے ارض پر نہیں دیکھا گیا۔ چناں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ کتاب یا تو کسی غیر ارضی مخلوق (aliens) کی تخلیق ہے یا پھر زمانہ قدیم کے کسی ایسے ساحر کی ’یاد داشتیں‘ جس نے کائنات کی دوسری جہات تک رسائی حاصل کر لی تھی۔ اس کتاب کی بعینہ نقل کی متوقع قیمت 10 لاکھ روپے تک ہو گی، تا ہم اس کی مجلد نقل انٹر نیٹ سے 5 ہزار روپے میں بھی خریدی جا سکتی ہے۔