Was He Boy or His Ghost in Urdu from Reddit

وہ بچہ تھا یا اس کی روح

 ریاست کینٹکی کے مشرق میں واقع جنگلات میں رات کی تنہائی اور تاریکی میں ڈرائیونگ کے دوران میری زندگی کا خوف ناک تریک واقعہ پیش آیا۔ جو لوگ اس علاقے سے وہ واقف ہیں وہ میری بات کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ وہاں چار سو سر اٹھائے فلک بوس پہاڑ ہیں اور نہایت گھنے درختوں سے سورج ڈھلنے کے بعد چاندنی چھن کر نیچے نہیں آ پاتی۔ اندھیرے کا وہ عالم ہوتا ہے کہ ہاتھ کو ہاتھ نہ سجھائی دے۔ یہاں موجود پہاڑ نہایت قدیم ہیں اور ان کے سینوں میں تاریخ کے عظیم پراسرار راز پوشیدہ ہیں جن کی گونج سے اٹھنے والا ارتعاش آج بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے اس جگہ کو انسانوں کے وجود سے نفرت ہو۔ جیسے یہ آپ کو مار ڈالنا چاہتی ہو۔   یہاں سڑکیں سنسان رہتی ہیں اور گھنٹوں سفر کے بعد کسی دوسری گاڑی یا انسان کی شکل نظر آتی ہے۔ یہاں موبائل فون کے سگنلز ملنا کسی افسانے سے کم نہیں اور ڈرائیونگ کے وقت ہونٹوں پر بس یہ دعا رہتی ہے کہ یہاں کار خراب نہ ہو جائے کیوں کہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ پہاڑوں کے پار بکھرے ہوئے اکا دکا گھروں میں رہنے والے لوگ مسافروں کو پسند نہیں کرتے اور انہیں اس بات سے سخت نفرت ہے کہ رات کے اندھیرے میں ان کی زمین پر کوئی اجنبی بھٹکتا ہوا ملے۔   میری ماں ان جنگلات کو ’بری جگہ‘ کہتی ہے اور اس نے مجھے ہمیشہ یہاں سے دور رہنے کی نصیحت کی ہے کیوں کہ اس کا کہنا ہے کہ یہاں یا تو میری جان جا سکتی ہے یا اس سے بھی بد ترین کوئی دوسرا واقعہ پیش آ سکتا ہے۔ میں بھی ان جنگلات سے وابستہ کہانیوں سے واقف ہوں۔ یہ کہانیاں ان لوگوں کے بارے میں ہیں جن کی ان جنگلات میں کہیں گاڑیاں خراب ہو گئیں تھیں اور جب یہ لوگ مدد ڈھونڈنے نکلے تو انہیں لوٹ لیا گیا؛ یہ لوگ اغوا ہو گئے یا پھر ان کی لاشیں ملیں۔ ان کہانیوں کے مطابق اس علاقے میں عجیب روشنیاں نظر آتی ہیں؛ پہاڑوں پر جانے والے لوگ بغیر کسی سراغ کے لا پتہ ہو جاتے ہیں اور یہاں رہنے والوں میں صدیوں سے آپس میں شادیاں کرتے رہنے کے باعث دماغی امراض اور دیوانگی عام ہے۔ کہا جاتا ہے یہاں سینکڑوں لوگ اس طرح لا پتہ ہوئے ہیں کہ آج تک ان کا نام و نشان نہیں ملا۔   میں نے ہمیشہ ان جنگلات اور پہاڑوں کے درمیان سفر کرنے سے گریز کیا تھا؛ مگر ایک رات مجھے یہاں اس ہائے وی پر سفر کرنا پڑا جو ایک خط مستقیم کی صورت میں ان پہاڑوں کی تاریکی میں گم ہو جاتا ہے۔   ہوا یوں کہ آدھی رات کے قریب مجھے اپنی ماں کا ایس ایم ایس ملا کہ تمہارے پاپا ہسپتال میں ہیں اور ان کی حالت سنگین ہے۔ میں نے اسی وقت بستر سے کار میں چھلانگ لگائی اگر چہ میری ماں نے مجھے رات میں سفر نہ کرنے اور صبح کا انتظار کرنے کو کہا تھا۔ اس وقت میرا گھر رچمنڈ کے علاقے میں تھا جب کہ میرے ماں باپ ہزارڈ میں رہ رہے تھے۔ میں نے اس ہائی وے کا انتخاب اس لیے کیا کہ دوسرے ہائی وے کی نسبت یہاں سے سفر میں کم وقت لگتا ہے؛ مگر یہ ’بری جگہ‘ کے درمیان سے گزرتا ہے۔   میں نے اپنے تئیں سوچا کہ کچھ نہیں ہو گا کیوں کہ بات صرف دو گھنٹے کے سفر کی تھی؛ مگر اس کے با وجود میرے وجود میں ایک نا دیدہ خوف سرایت کر چکا تھا اور عقل تقاضا کر رہی تھی کہ مجھے صبح ہونے کا انتظار کرنا چاہیے؛ تا ہم میں نے ایسا نہیں کیا کیوں کہ مجھے جلد سے جلد پاپا کے پاس پہنچنا تھا۔ رچمنڈ سے اروائین تک کا سفر خیریت سے طے ہوا جس کے دوران میں نے پہاڑوں کے درمیان سانپ کی طرح بل کھاتی سڑک پر مقررہ حد سے زیادہ تیز رفتار سے کار چلائی؛ مگر اروائن سے جیکسن کے دوران ساری کسر نکل گئی۔   یہاں شدید ترین تاریکی تھی اور میری کار کی تیز ہیڈ لائٹیں بھی اندھیرے کی اس دبیز چادر کو چاک نہیں کر پا رہی تھیں اور مرے پر سو درے کے مصداق سڑک بھی مسلسل بل پر بل کھا رہی تھی جس کی وجہ سے مجھے کار کی رفتار کم کرنا پڑی۔ اس دوران میں مسلسل دعا کر رہا تھا کہ میری گاڑی سڑک سے نہ اترنے پائے یا مخالف سمت سے آنے والی کسی گاڑی سے نہ ٹکرا جائے۔   مگر اب خوف میرے اعصاب پر طاری ہو رہا تھا۔ بے شک پاپا کی طبیعت کا سوچ کر میری پریشانی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا؛ مگر یہ سر اٹھائے پہاڑ یقیناً عام سے پہاڑ نہیں تھے۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے ان پہاڑوں میں زمانہ قبل از تاریخ کا کوئی شیطانی عفریت پوشیدہ ہے اور یہ سوچ سوچ کر دہشت کا سرد پنجہ دھیرے دھیرے میرے دھاڑ دھاڑ کرتے دل کی طرف سرکنے لگا۔ میں نے اپنا خوف کم کرنے کے لیے کار میں لگا ریڈیو آن کیا؛ مگر خراب سگنلوں کی وجہ سے وہ درست کام نہیں کر رہا تھا۔ چناں چہ میں نے سی ڈی پلیئر آن کیا؛ مگر پہلا گانا سننے کے بعد ہی پلیئر آف کر کے اپنی تمام تر توجہ ڈرائیونگ پر مرکوز کر دی۔   شاید میری چھٹی حس نے یہاں حالات کے غیر معمولی پن کو محسوس کر لیا تھا۔   مجھے لگا جیسے نا دیدہ آنکھیں مجھے گھور رہی ہیں۔ ہر تھوڑی دیر بعد مجھے جنگل میں روشنی نظر آتی تھی؛ جیسے کوئی وہاں آگ کا الائو جلائے بیٹھا ہو؛ مگر یہ روشنی عام روشنی کے مقابلے میں بہت تیز تھی اور میں قسم کھانے کو تیار ہوں کہ کرسٹل اور بیٹیوائل کے درمیان سڑک کے برابر میں ایک بلند قامت مگر زرد اور بالوں سے محروم انسانوں جیسی کوئی چیز میری کار کے پیچھے دوڑ رہی تھی۔ جب میں نے کار کے بریک لگا کرے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ہیولہ یک لخت درختوں کے عقب میں پھیلی تاریکی میں دوڑ گیا۔   بیٹیوائل سے نکلنے کے 30 منٹ بعد میری نظر ایک بچے پر پڑی جس نے پیلی قمیض پہنی ہوئی تھی۔ اس کی پینٹ کا رنگ نیلا تھا اور وہ ہڈ والی سرخ جیکٹ میں ملبوس تھا۔ مجھے ان رنگوں کو دیکھ کر سپر مین کا خیال آیا۔ عجیب بات یہ تھی کہ اس بچے نے جوتے نہیں پہنے ہوئے تھے۔ وہ اس سرد ترین رات میں ننگے پیر چل رہا تھا اور اسی بات نے مجھے پریشان کر دیا۔ میں نے اپنی کار کی لائٹیں ہلکی کریں اور کار کی رفتار دھیمے کرتے ہوئے اس لڑکے کا جائزہ لینے کی کوشش کی۔ اس بچے کی عمر 10 سال سے بھی کم لگ رہی تھی اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ رات کی اس تاریکی اور تنہائی میں آخر یہ بچہ یہاں کر کیا رہا ہے۔   عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میں نے پہلے چیک کیا کہ کار کے تمام دروازے مقفل ہیں یا نہیں اور اس کے بعد اپنی طرف کی کھڑکی کے شیشے کو درز بھر نیچے کرتے ہوئے اس بچے کو آواز دی۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے اپنے موبائل فون پر نظر ڈالی؛ مگر حسب توقع سگنل موجود نہیں تھے۔ میں نے بچے سے دوبارہ پوچھا کہ اس کے ساتھ کیا معاملہ ہے۔ اس بار اس نے خاموشی سے نگاہ اٹھا کر میری طرف دیکھا۔ اس کی جیکٹ کا ہڈ سر سے گر گیا تھا اور میں نے دیکھا کہ وہ رو رہا ہے۔   جوں ہی میں نے کار آہستہ کرتے ہوئے روکی وہ بھاگتا ہوا آیا اور کھڑکی کے شیشے کی درز بھر کھلی جگہ میں اپنی غلیظ انگلیاں ڈالر کر دروازے کو پیٹنے لگا۔ وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ ’وہ لوگ‘ اس کا ’شکار‘ کر رہے ہیں اور یہ کہ ’وہ لوگ اسے عفریت کے آگے کھانے کو ڈال دیں گے‘ – ’وہ لوگ‘ ابھی بھی تاریکی میں چھپ کر ہمیں دیکھ رہے تھے اور موقعے کے انتظار میں تھے۔   اس بچے کی یہ بات سن کر میرا پتہ پانی ہو گیا اور خوف سے میری بھی چیخیں نکلنے ہی والی تھیں۔ میں نے کھڑکی کا شیشہ واپس چڑھانے کی کوشش کی؛ مگر بچے نے وہاں سے اپنی انگلیاں نہیں نکالیں۔ میرا خیال ہے وہ کار میں زبردستی گھسنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یک لخت ہمارے اوپر ایک تیز روشنی پڑی اور بچہ بری طرح چیخ پڑا۔ اس نے میری کار کی کھڑکی سے ہاتھ نکالا اور سڑک پر مڑ کر بری طرح بیٹیوائل کی جانب بھاگنا شروع کر دیا۔   میں بھی وہاں سے بھاگ نکلا اور آج تک اس بات کو سوچ کر شرم سار ہوں۔ اس وقت میں یہ سوچ کر خوف زدہ ہو رہا تھا کہ میں بھی مر کر ان پہاڑوں کی داستانوں کا ایک کردار بن جائوں گا۔   کار عقبی آئینے میں دیکھنے پر مجھے ایسا لگا جیسے تین آدمی سڑک پر دوڑ رہے ہوں؛ مگر ان کے چہرے ہڈ میں چھپے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک نے طاقت ور فلیش لائٹ ہاتھ میں تھامے ہوئی تھی اور اس کی روشنی ایک ایسے زاویے سے عقبی آئینے پر پڑی جس سے لمحے بھر کے لیے میری آنکھیں چندھیا گئیں؛ مگر مجھے لگا جیسے باقی دو آدمی بچے کے تعاقب میں جا رہے ہیں۔ میں نے اپنی پلکیں چھپکائیں اور پوری رفتار سے کار بھگانا شروع کر دی۔   جیکسن پہنچتے ہی میں نے سیدھے پولیس اسٹیشن کا رخ کیا۔ پولیس اسٹیشن میں دو سراغ رساں اور ایف بی آئی کا ایک ایجنٹ بھی موجود تھا جنہوں نے نہایت توجہ سے میری بات سنی۔ یہ تینوں مقامی پولیس کے ساتھ مل کر کسی کیس پر کام کر رہے تھے۔ میری بات کے اختتام پر ایف بی آئی ایجنٹ نے میرا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایک روز قبل کینٹکی دریا کے پاس لگے بائبل کیمپ سے ایک بچہ لا پتہ ہو گیا ہے اور یہ کہ وہ لوگ اسی سلسلے میں مشترکہ تحقیقات کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ بچہ اور اس کے دوست دن کے وقت جنگل میں چھپن چھپائی کھیل رہے تھے کہ یک لخت وہ بچہ وہاں سے غائب ہو گیا۔ اس نے سپر مین کی طرح زرد، نیلے اور سرخ رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ پراسرار ترین بات یہ تھی کہ اس بچے کے قدموں کے نشانات جس جگہ ختم ہو رہے تھے وہاں اس کے جوتے پڑے ملے تھے جن سے ایسا لگتا تھا جیسے اسے اوپر ہوا میں معلق کسی نے چیز نے زمین سے اچک لیا ہو۔ ۔ ۔   میری اس اطلاع کے ملتے ہی نصف درج پولیس کی گاڑیاں، ایک درج پولیس والے، ایف بی آئی ایجنٹ اور ایک سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم فوری طور پر اس جانب روانہ ہو گئی۔ میں نے ایک مقامی ہوٹل کا رخ کیا اور رات جیکسن ہی میں گزاری۔  سورج نکلنے کے بعد میں ہزارڈ کی طرف روانہ ہوا جو وہاں سے صرف 40 منٹ کے فاصلے پر ہے۔ تمام ماجرا سننے کے بعد میری ماں کا گھبراہٹ سے برا حال ہو گیا؛ مگر وہ میرے وہاں خیریت سے پہنچنے پر خوش تھی۔ ماں نے مجھے سمجھایا کہ جو کچھ میں نے کیا وہ میری بقا کا سوال تھا اور مجھے اس بارے میں شرم سار نہیں ہونا چاہیے۔ ماں کا کہنا تھا کہ میں ایک بہادر ہوں اور کوئی بزدل نہیں۔ پاپا بھی بہت جلد صحت یاب ہو گئے۔   اگر آپ یہ کہانی سن کر متعجب ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ میں نے بزدلی کا مظاہرہ کیا تو اس کا جواب ہے کہ ہاں میں نے بچے کو بچانے میں بزدلی دکھائی اور یہ بات آج بھی ایک آسیب کی طرح میرا پیچھا کرتی ہے؛ مگر مجھے نہیں معلوم کہ اگر میں وہاں ذرا سی دیر اور رکا ہوتا تو کیا ہوتا۔  یقینی طور پر اس بچے کی طرح میرا بھی کبھی کوئی سراغ نہیں ملتا۔  

 

ختم شد