We Investigated UfOs Pentagon Acknowledges In Urdu

پینٹاگون کا بلآخر یو ایف اوز کی تحقیقات کا اعتراف

زمین سے فضاء یا آسمان کی وسعتوں میں صدیوں، ہزاروں بلکہ لاکھوں سال سے اڑتے یا تیرتے ہوئے نظر آنے والے ’مصنوعی‘ نامعلوم اجسام اگرچہ تا حال ایک معمہ ہیں مگر امریکی محکمہ دفاع نے بلآخر ان اجسام کی جنہیں یو ایف اوز یا یو اے پی کی اصطلاح سے تعبیر کیا جاتا ہے باقاعدہ تحقیات کرنے کا اعتراف کر لیا ہے جس کے مطابق مبینہ بلیک بجٹ سے چلنے والے اے اے ٹی آئی پی – ایڈوانسڈ ایرو اسپیس تھریٹ آئیڈینیٹیفکیشن پروگرام – فضاء میں اڑتے ہوئے دکھائی دینے والے نامعلوم اجسام کی تحقیق و مشاہدات کرتا رہا ہے۔ موقر امریکی جریدے نیو یارک ٹائمز کے مطابق ملکی محکمہ دفاع کے ترجمان نے ایک خصوصی بیان میں اعتراف کیا ہے کہ پینٹاگون نے نا صرف یو ایف اوز اور یو اے پی – ان آئیڈینیٹیفائیڈ ایریل فینومینا – کے بارے میں تحقیق و مطالعہ کیا بلکہ یہ عمل ابھی بھی جاری ہے۔ اس سلسلے میں سرکاری طور پر یو ایف اوز کی تین ویڈیوز بھی جاری کی گئی ہے جو امریکی فضائیہ کے طیاروں سے ریکارڈ کی گئی تھیں۔ اگرچہ کہا جاتا ہے کہ اے اے ٹی آئی پی کو 2012ء میں ختم کر دیا گیا تھا مگر نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ خفیہ پروگرام ابھی بھی جاری ہے۔ پینٹاگون سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی محکہ دفاع ملکی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ہر ائرکرافٹ پر نظر رکھتا ہے کیوں کہ ان میں سے کچھ امریکی مفادات کے لیے خطرہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے پینٹاگون ملکی سلامتی کو یقینی بنانے اور دشمن کی جانب سے اچانک حملے سے نمٹنے کے لیے کسی بھی ذریعے سے نامعلوم فضائی اجسام کے بارے میں ملنے والی تمام تر اطلاعات کی سنجیدگی سے تحقیات جاری رکھے گا۔