What Is A Ventilator And How It Works?

ایک وینٹی لیٹر کیا ہوتا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟

آسان لفظوں میں جب مریض کے پھیپھڑے کام کے قابل نہ رہیں تو وینٹی لیٹر انسانی جسم کے نظام تنفس کو سنبھال لیتا ہے۔ وینٹیلیٹر مریض کو انفیکشن سے لڑنے کے لیے مزید وقت مہیا کرتا ہے اگرچہ مریضوں کو سانس لینے میں آسانی پیدا کرنے کے لیے کئی قسم کی مشینیں موجود ہیں۔دراصل کورونا وائرس سے شدید متاثرہ افراد کے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچتا ہے اور جسم کا مدافعاتی نظام خطرے کو بھانپتے ہوئے خون کی رگوں کو کھلا کر دیتا ہے تاکہ مدافعاتی سیل ان میں داخل ہو سکیں مگر مدافعاتی نظام کے اس ایکشن کی وجہ سے پھیپھڑوں میں سیال بھر جاتا ہے جس سے سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے اور اس طرح جسم میں آکسیجن کی سطح کم ہو جاتی ہے اس لیے  جسم میں آکسیجن کی کمی کو دور کرنے کے لیے وینٹی لیٹرز کے ذریعے جسم میں آکسیجن کو داخل کیا جاتا ہے۔ وینٹی لیٹر میں ایک ہیومڈفائر بھی موجود ہوتا ہے جو مریض کے جسم کے درجہ حرارت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری حرارت اور نمی مہیا کرتا ہے۔ اس دوران مریضوں کے نظام تنفس کے پھٹوں کو ڈھیلا کرنے کے لیے دوائیاں دی جاتی ہیں تاکہ مشین کے ذریعے سانس کے نظام کو مربوط بنایا جا سکے تاہم ایسے مریض جن میں وائرس کے آثار زیادہ شدید نہ ہوں ان کے نظام تنفس کی مدد کے لیے چہرے کے لیے ماسک اور ناک کو ڈھانپنے والے ماسکک ا استعمال کر کے گیسوں کو ان کے پھیپھڑوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ آج کل کووڈ-19 کے مریضوں کے علاج کے لیے ٹوپی نما ہُڈ کو استعمال کیا جا رہا ہے جس میں ایک والو کے ذریعے پریشر کے ساتھ آکسیجن مریض کے جسم داخل کی جاتی ہے۔ اس طریقے سے وائرس کے قطرے ہوا میں اڑ کر دوسرے شخص کو لگنے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ اسے ’نان انویسو وینٹی لییشن‘ کہا جاتا ہے یعنی جسم میں پائپ داخل کیے بغیر مریض کے نظام تنفس کی مدد کی جاتی ہے لیکن انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں مریضوں کو مکینکل وینٹی لیشن پر ڈال دیا جاتا ہے تاکہ مریض کے جسم میں آکسیجن کے درجے کو نارمل رکھا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق کووِڈ-19 کے زیادہ تر مریضوں کو مکینکل وینٹی لیٹر کی ضرورت پیش نہیں آتی اور وہ گھر میں یا آکسیجن مہیا کرنے والے آلات کی مدد سے مرض پر قابو پا لیتے ہیں۔ مکینکل وینٹی لٹر کے استعمال میں کئی خطرات بھی ہیں لیکن پھر بھی کووِڈ-19 سے شدید طور پر متاثرہ مریضوں کے جسم میں آکسیجن کی سطح کو برقرار رکھنے کے لیے وینٹی لیٹرز ہی بہترین ذریعہ ہیں گو کہ مکینکل وینٹی لٹرز کے استعمال کے لیے تربیت یافتہ عملے کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ یہ ایسی طاقت ور مشین ہے کہ اگر اس کو صحیح اندازمیں استعمال نہ کیا جائے تو یہ مریض کے لیے انتہائی نقصان (شاک) کا باعث ہو سکتی ہے۔