White House Slams Voice of America
اہم ترین - جامِ جہاں نما - اپریل 11, 2020

ٹرمپ سرکاری ریڈیو پر برہم، وی او اے کا سخت جواب

امریکی نشریاتی ادارے ’وائس آف امریکا‘ نے کرونا وائرس کی عالمی کوریج میں امریکا مخالف رویے کے حکومتی الزام پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے امریکی نشریاتی ادارے ‘وائس آف امریکا’ پر الزام عائد کیا تھا کہ ادارہ کورونا وائرس سے متعلق کوریج پر امریکی عوام کی آواز بننے کے بجائے چین اور ایران جیسی ’آمرانہ‘ ریاستوں کی ترجمانی کر رہا ہے تاہم وی او اے نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارہ غیر جانب دار اور صحافتی اُصولوں کے تحت واقعات کا ہر رُخ پیش کر رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس سے جاری کردہ بیان میں امریکی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’وائس آف امریکا‘ آپ کے ٹیکس کے پیسوں سے آمرانہ حکومتوں کی آواز بن رہا ہے۔

بیان میں چین کے شہر ووہان میں معمولاتِ زندگی بحال ہونے اور ایرانی وزیرِخارجہ کی امریکا پر تنقید کی خبروں کا حوالہ دیا گیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ دو سو ملین ڈالر کے سرکاری فنڈ سے چلنے والا وی او اے امریکا کے بجائے اس کے حریفوں کی آواز بن چکا ہے۔

جب کہ ایک ٹوئٹ میں وائٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر سوشل میڈیا ڈین سکاوینو نے وائس آف امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ امریکا کے لیے ’بدنامی‘ کا باعث بن رہا ہے۔

اس حکومتی بیان کے جواب میں وائس آف امریکا نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے نے کورونا وائرس کی کوریج کے دوران صحافتی اُصولوں پر عمل کرتے ہوئے تصویر کا ہر رخ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

خیال رہے وائس آف امریکا یو ایس ایجنسی فور گلوبل میڈیا (یو ایس اے جی ایم) کی سرکاری فنڈنگ کے تحت چلنے والا ادارہ ہے جس کے تحت ریڈیو فری یورپ، ریڈیو لبرٹی اور ریڈیو فری ایشیاء جیسے ادارے بھی کام کر رہے ہیں۔