Who Killed My Mother?

قاتل کون؟

جب میں بہت چھوٹا تھا تو ڈیڈ اور میری حقیقی ما کے درمیان طلاق ہو گئی تھی اور مما ڈیڈ کی دوسری بیوی تھیں۔ جتنا مجھے پتہ ہے ان دونوں کے تعلقات خوش گوار تھے۔ میں اپنی مما کی عزت کرنے کے ساتھ ان سے دھیرے لہجے میں بات کرتا تھا مگر میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے ان سے محبت تھی مگر مما کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بہت بھیانک ہے اور میں نے ان کے بارے میں کبھی ایسا نہیں سوچا تھا۔ ڈیڈ اس واقعے کے بعد سے بالکل بدل کر رہ گئے ہیں۔ ہوا یہ کہ ایک رات مما گھر سے گئیں اور بعد میں وہاں سے دو گھنٹے کی مسافت پر وہ اپنی کار میں مردہ پائی گئیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ اصل ماجرا کیا ہے۔ آج تک ان کا قاتل نہیں پکڑا گیا ہے اور یہ بات میرے لیے کافی ہول ناک ہے۔ ایک ہفتے پہلے میں نے ڈیڈ کو نیند میں بولتے سنا۔ یہ کافی رات گئے کی بات ہے اور مجھے ان کی آواز سن کر حیرانی نہیں ہوئی۔ ڈاکٹروں نے ڈیڈ کو نیند کی گولیاں دی ہیں مگر میرا نہیں خیال کہ وہ ڈیڈ پر اثر کر رہی ہیں اور ڈیڈ رات کو اکثر نیند میں چلتے ہیں اور اس کے علاوہ بے تحاشا شراب نوشی بھی کر رہے ہیں جو ان کی صحت کے لیے مزید نقصان دہ ہے چناں چہ جب سے یہ واقعہ پیش آیا ہے میں ڈیڈ کے ساتھ ہی رہ رہا ہوں تا کہ ان پر نظر رکھ سکوں۔ اس رات مجھے لگا تھا جیسے ڈیڈ گھر میں ادھر ادھر گھوم رہے ہیں مگر چوں کہ سوتے میں چلنے والے شخص کو یک دم جگانا اچھا نہیں ہوتا اس لیے میں نے کوئی مداخلت نہیں کی۔ میں نے سوچا ہو سکتا ہے انہیں باتھ روم وغیرہ جانا ہو مگر جب میں نے انہیں منہ ہی منہ میں کچھ بولتے سنا تو اس بات نے مجھے بہت حیران کیا۔ ’ویرونیکا مجھے چھوڑ کر جا چکی ہے اور میں یہاں اس کے ساتھ پھنسا ہوا ہوں جس نے اسے قتل کیا ہے۔ ہر روز مجھے اس مکروہ کی شکل برداشت کرنا پڑتی ہے جو میرے لیے سوہان روح سے کم نہیں؛ مگر مجھے پتہ ہے ایک نہ ایک دن یہ ضرور پکڑا جائے گا؛ مگر میں قانون سے پہلے ہی خود اس کا کام تمام کر دینا چاہتا ہوں۔‘ ڈیڈ نے یہ بات کہی اور اس کے بعد وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں چلے گئے۔ میرا حیرت سے برا حال تھا اور مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ یہ بات میں نے اپنے کانوں سے سنی ہے۔ میرے خیال میں یہ ممکن نہیں تھا۔ مگر مجھے ڈیڈ کی یہ بات سن کر ان کے لیے مزید دکھ ہوا۔ کیوں کہ نہ صرف یہ کہ ان کی بیوی کو ان سے جدا کر دیا گیا تھا بلکہ جس نے یہ گھنائونا کام کیا تھا ڈیڈ اسے جانتے بھی تھے اور اس وجہ سے اس وقت ان کی زندگی جہنم سے بد تر تھی۔ سب سے پہلے میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ ڈیڈ نے یہ بات پولیس کو کیوں نہیں بتائی۔ میرے ذہن نے سوچا کہ کہیں یہ کام خود ان کا تو نہیں ۔ ۔ ۔ ۔؟ یا پھر یہ کہ پولیس اس بات سے آگاہ ہے مگر اس کے پاس اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے؟ میں نے سوچا نہ جانے وہ کون ہے جس کے بارے میں ڈیڈ جانتے ہیں کہ اس نے ان کی بیوی کو قتل کیا ہے؛ مگر میرے ذہن میں ایسا کوئی نام نہیں آیا۔ ہو سکتا ہے یہ کام ان کے کسی دشمن کا ہو یا کسی مخالف کا۔ چوں کہ میں کافی طویل عرصے سے ان کے ساتھ نہیں رہ رہا تھا اس لیے میں اس بارے میں کوئی درست اندازہ نہیں لگا سکا۔ مگر اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوا بلکہ میرے لیے حالات اور بگڑ گئے۔ میرے ڈیڈ کا خیال تھا کہ جس کسی نے ان کی بیوی کو قتل کیا انہیں روزانہ اس کی شکل دیکھنا پڑتی ہے۔ ایک ہفتے تک میں نے حالات کا بغور جائزہ لیا۔ میں نے سوچا اس جرم میں کوئی گھر کا ملازم تو ملوث نہیں۔ مگر ڈیڈ کے مطابق وہ اپنے تمام ملنے والوں سے محبت رکھتے ہیں۔ اس لیے میں نے اس بارے میں ان پر زیادہ زور نہیں دیا؛ مگر اندر سے میں گویا انگاروں پر چل رہا تھا اور ڈیڈ کے ہر ملنے والے شخص کا چہرہ میری نگاہوں میں گھوم رہا تھا۔ جب مجھے کسی بات کا جواب نہیں ملا تو میں یہ سوچ کر خوف زدہ ہو گیا کہ قاتل جو کوئی بھی ہے وہ ہمارے ارد گرد ہی ہے۔ اب میں ڈیڈ کے نیند میں چلنے کا منتظر تھا تا کہ اس کیفیت میں ان کے منہ سے مزید کام کی بات نکل جائے۔ چناں چہ ہر رات میں بے تابی سے جاگنے لگا مگر ڈیڈ پر کافی دنوں تک یہ کیفیت طاری نہیں ہوئی۔ مگر گزشتہ رات میں ان کی آواز سن کر چونک اٹھا اور جب انہوں نے بولنا شروع کیا تو مجھے لگا جیسے میرا دل اچھل کر حلق میں آ جائے گا۔ ’تم سمجھتے ہو کہ تم سزا سے بچ جائو گے؟ کبھی نہیں۔ یاد رکھو تمہارے دن قریب آ چکے ہیں۔ جائو جا کر سو جائو ذلیل آدمی۔‘ ڈیڈ نے اتنا کہا اور پھر اپنے کمرے میں جا کر اس کا دروازہ بند کر دیا۔ مجھے لگا جیسے میرا سینہ پھٹنے والا ہے۔ انہیں اس طرح ہوائوں سے باتیں کرتے دیکھنا پہلے ہی کم خوف ناک نہیں تھا مگر اب یہ بات میری سوچ سے زیادہ پریشان کن ہو گئی تھی۔ پہلے جب ان کی بات سن کر مجھے لگا تھا کہ وہ کسی سے انتقام لینے کی بات کر رہے ہیں تو اس بات نے مجھے خوف زدہ کر دیا تھا مگر اس بار مجھے کچھ اور ہی محسوس ہوا۔ دراصل ڈیڈ باتھ روم میں ہوائوں سے باتیں نہیں کر رہے تھے بلکہ وہاں فی الواقع کچھ نہ کچھ موجود تھا۔ آج بھی ان کی آواز بالکل پہلے ہی کی طرح تھی مگر جب وہ یہ بات کر رہے تھے تو میں نے دروازے کی درز سے دیکھا تھا کہ وہ دوائیں رکھنے والی الماری کے سامنے کھڑے ہیں۔ اور یک لخت مجھے یاد آیا کہ اس الماری میں ایک قد آدم آئینہ لگا ہوا ہے۔ ۔ ۔

ختم شد