Who Was He A Sci Fi Horror in Urdu

دماغ کی قیدی

 وہ آج رات بھی وہیں تھا۔ میں بستر پر لیٹی سونے کی اداکاری کر رہی تھی، مگر وہ کھڑکی کے پار کھڑٓا مجھے تک رہا تھا۔ میں جب سے اس نئے گھر میں منتقل ہوئی ہوں یہ شخص روزانہ رات کو میری کمرے کی کھڑکی کے باہر آ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس کا خیال ہے وہ ایک چالاک آدمی ہے اور میں اس کی اس حرکت سے لا علم ہوں، مگر میں اسے روزانہ دیکھتی ہوں۔ میں اسے محسوس کرتی ہوں۔ جب وہ مجھے گھور رہا ہوتا ہے تو میں پتھر کی طرح ساکت ہو جاتی ہوں؛ مگر میرے دل کی حرکت بڑھ جاتی ہے اور میں اس طرح ظاہر کرتی ہوں جیسے گہری نیند میں ہوں۔ اس وقت میرے پسینے چھوٹ رہے ہوتے ہیں اور میرا خون رگوں میں جم جاتا ہے، مگر میں ذرہ برابر بھی نہیں ہلتی۔ کبھی کبھار وہ اپنی دونوں ہتھیلیاں میری کھڑکی پر رکھتا ہے اور اس کی سانس سے کھڑکی کا شیشہ دھندلا جاتا ہے۔ کبھی کبھی مجھے اس کے رونے کی آواز بھی آتی ہے۔ میں جانتے ہوں اس آدمی کے ارادے خطرناک ہیں۔ اب اس نے میرے کمرے کے اندر آنا شروع کر دیا ہے۔ وہ میرے بیڈ کی پائنتی ایک کرسی پر بیٹھ کر گہری گہری بھاری سانسیں لیتا ہے۔ اس کی سانسوں سے میرے کمرے کی فضا آلودہ ہو جاتی ہے۔ کبھی کبھار وہ کچھ بڑبڑاتا ہے۔ کبھی لوریاں سناتا ہے اور کبھی صرف خاموش بیٹھا روتا رہتا ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے اس نے ایک بڑی حرکت کی۔ وہ میرے کمرے میں آیا اور میری بنائی تصویریں دیکھنے لگا اور پھر انہیں ہاتھ سے چھوا۔ اس نے میری تصویروں کو ہاتھ لگایا ۔ ۔ ۔ ! پھر اس نے کرسی کھسکائی اور میرے بیڈ کی پائنتی بیٹھ کرمجھے تکنے لگا۔ میں کبھی براہ راست اس کی طرف نہیں دیکھتی۔ مجھے معلوم ہے اگر اس نے مجھے آنکھیں کھولتے دیکھا تو پھر میں اس سے بچ نہیں سکوں گی۔ مجھے اب اس کی سرگوشیاں سنائی دینے لگی ہیں؛ مگر یہ اتنی مہین ہوتی ہیں کہ میں انہیں سمجھ نہیں پاتی۔ اس کی آواز کسی شیطان کی طرح ہے۔ مجھے اس کی آواز سے شدید دہشت ہوتی ہے، مگر مجھے خوف زدہ ہونے سے نفرت ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ میں کچھ کروں۔ میں نے اس کے نام پیغامات چھوڑنے شروع کر دیے۔ میں ان پیغاموں کو اپنے بیڈ کی پائنتی رکھ دیتی تھی: ’چلے جائو۔‘ ’اب نہیں آنا۔‘ ’مجھ سے دور رہو۔‘ مگر میرے بیدار ہونے پر ان پیغامات کا کچھ پتہ نہیں ہوتا تھا اور اس کی جگہ اس کے ہاتھ سے لکھے مکروہ پیغامات پڑے ہوتے تھے: ’میں یہاں تمہارے لیے آتا ہوں۔‘ ’میں تمہیں چھوڑ کر نہیں جائوں گا۔‘ ’مجھے تمہاری ضرورت ہے۔‘ یہ شخص نفسیاتی طور پر بیمار ہے۔ ایک سانپ کی طرح مہلک جو میرا خون چاٹنا چاہتا ہے۔ یہ میرے قتل کے درپے ہے اور میں اس بات سے واقف ہوں ۔ ۔ ۔ ! مگر میں ایسا نہیں ہونے دوں گی۔ کبھی نہیں۔ اس لیے میں مزید پیغامات لکھ کر اس کے لیے چھوڑے: ’اب کبھی نہیں آنا۔‘ ’بس اب بہت ہو گیا۔‘ ’مجھے تم سے نفرت ہے۔‘ جب میں جاگی تو حسب معمول اس کے پیغامات موجود تھے: ’کیوں؟ ’میں تم سے محبت کرتا ہوں۔‘ ’میں تمہیں کبھی چھوڑ کر نہیں جائوں گا۔‘ یہ سوچ کر ہی میرے معدے میں تیزابیت شروع ہو جاتی ہے کہ یہ آدمی کبھی میری بات نہیں سمجھے گا۔ وہ ہر رات میرے کمرے میں آتا ہے اور اس کا مقصد مجھے شدید ذہنی اذیت دینا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ مگر اب میں اس کھیل سے تنگ آ چکی ہوں۔ کل رات میں نے کام یابی سے اپنی قینچی چرا کر اپنے تکیے کے نیچ چھپا لی۔ یہ قینچی میری مصوری کے دوران بہت کام آتی ہے۔ پھر میں نے سر تک چادر تانی اور اپنی آنکھیں موند لیں، مگر میرے کان جاگ رہے تھے اور میں منتظر تھی۔ ۔ ۔ وہ میرے کمرے کی کھڑکی پر آیا۔ اس نے شیشے پر اپنے ہاتھ رکھے۔ وہ تھوڑی دیر تک رویا اور پھر کمرے میں داخل ہو گیا۔ اس نے میری تصویروں کی جانب دیکھا اور ایک بار پھر انہیں چھوا۔ پھر وہ کرسی پر بیٹھ کر مجھے تکنے لگا۔ میں نے تھوڑا سا انتظار کیا۔ اس نے لوریاں گنگنانا شروع کر دیں۔ پھر وہ کرسی سے اٹھا اور سسکیاں بھرتا ہوا کمرے میں ٹہلنے لگا۔ وہ میرے بیڈ کے ایک طرف آیا۔ جھکا۔ میرے گال پر پیار کیا۔ میں نے اپنی قینچی دستے تک اس کے حلقوم میں اتار دی۔ ۔ ۔ میں نے اس کی طرف نہیں دیکھا۔ مجھے معلوم تھا کہ اگر میں نے ایسا کیا تو وہ ابھی بھی میرا کام تمام کر سکتا ہے۔ میں نے اسے اپنے ہی خون میں پھندے مارتے سنا۔ جب وہ اپنا گلا تھامے فرش پر گرا تو وہ سانس سینے میں بھرنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر ساکت ہونے سے پہلے اس نے صرف ایک لفظ کہا: ’کیوں ۔ ۔ ۔ ؟ فوراً ہی بڑے قد آور لوگ میرے کمرے میں گھس آئے۔ وہ اس ابلیس کی طرف دوڑے اور اسے باہر لے گئے۔ پھر وہ مجھے بھی باہر لے گئے۔ انہوں نے مجھے باندھ کر ایک ایسے کمرے میں بند کردیا ہے، جہاں دیواروں پر روئی سے بھرے گدے لگے ہیں؛ مگر میں کچھ نہیں سمجھ پا رہی۔ میں اب تصویریں نہیں بنا سکتی۔ یہاں تصویریں لٹکانے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ کچھ دیر بعد وہاں ایک شخص آیا جو اپنے آپ کو ڈاکٹر کہہ رہا تھا۔ وہ بالکل اس ابلیس کی طرح میرے بیڈ کے قریب ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس نے کلپ بورڈ ہاتھ میں پکڑا اور کہا: ’مسز رٹگر، میں جاننا چاہتا ہوں آپ نے ایسا کیوں کیا؟ اس کا سبب کیا تھا؟ کیا آپ کو یاد ہے آپ اس وقت کیا سوچ رہی تھیں؟ کیا یہ بالکل سامنے کی بات نہیں تھی ۔ ۔ ۔؟ ’میں اس ابلیس کو اپنے کمرے میں آنے اور مجھے تکنے سے روکنا چاہتی تھی۔ میں نے صرف اپنا دفاع کیا ورنہ وہ مجھے مار ڈالتا۔‘ ڈاکٹر کچھ دیر تک میرے چہرے کی طرف دیکھتا رہا اور پھر بولا: ’آپ کو بالکل نہیں پتہ کہ آپ کیا کر چکی ہیں۔ کچھ مہینے قبل آپ کی کار کو حادثہ پیش آیا تھا جس میں آپ کے تینوں بچے ہلاک ہو گئے۔ اس حادثے سے آپ کے اعصاب مفلوج ہو گئے اور آپ کو دماغی امراض کے اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔ آپ یہاں کئی مہینوں سے ہیں۔ یہاں آپ سے ملنے صرف آپ کا شوہر آیا کرتا تھا۔‘ میں نے خالی نظروں سے ڈاکٹر کی طرف دیکھا۔ ’ مسز رٹگر میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ میں آپ کو اس بات سے کس طرح آگاہ کروں ۔ ۔ ۔


مگر جس آدمی کو آپ نے ابھی ابھی ہلاک کیا ہے وہ کوئی اور نہیں آپ کا اپنا شوہر تھا ۔ ۔ ۔


ختم شد