Who Was In Basement?

تہہ خانے میں کون تھا؟

ہو سکتا ہے یہ کہانی آپ کو تھوڑی الجھی ہوئی سی محسوس ہو کیوں کہ میں اس وقت سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے محروم ہو چکی ہیں اور میرا ذہن خیالات اور سوالات کی آماج گاہ بناہ ہوا ہے۔

میرا کام گھروں میں جا کر ان بچوں کی دیکھ بھال کرنا ہے جن کے ماں باپ ملازمت پیشہ ہوتے ہیں اور وہ اپنے ساتھ بچوں کو لے کر نہیں جا سکتے۔ بچے اور بڑے سب ہی مجھے ’نینی‘ کہتے ہیں۔ میں نے ایک فیملی کے ہاں گزشتہ ستمبر میں کام شروع کیا۔ چناں مجھے ان کے ساتھ چار ماہ ہو چکے ہیں۔ مجھے جس بچے کی دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے وہ شیر خوار ہے اور پریشان نہیں کرتا۔ بچے کی ماں بھی بہت اچھی عادت کی ہے۔ وہ روزانہ میری خیریت دریافت کرتی ہے اور صبح میں میرے لیے کافی بھی بناتی ہے۔


گوروں کے دیس میں اگر مالک ملازم کی خیریت پوچھ لے تو یہ اچنبھے کی بات ہوتی ہے


بچے کا باپ بہت کم گھر پر ہوتا ہے۔ میرے خیال میں اب تک میں نے اسے تین مرتبہ ہی دیکھا ہے اور وہ بھی چند منٹوں کے لیے۔ میری اس سے تھوڑی تفصیلی بات ملازمت کے لیے انٹرویو کے دوران ہوئی تھی۔

جب میں انٹرویو دینے آئی تو میں نے دیکھا کہ زیادہ تر کمروں میں نگرانی کرنے والے کیمرے لگے ہوئے ہیں۔ مگر یہ کوئی انوکھی بات نہیں تھی۔ میں بے شمار ایسے گھروں میں کام کر چکی تھی جہاں ایسے ہی کیمرے لگے ہوئے تھے۔

جب انہوں نے مجھے ہدایت دی کہ سوائے باتھ روم کے میں ہر وقت ان کمروں میں رہوں جہاں کیمرے لگے ہوئے ہیں تو یہ بات اگر چہ مجھے عجیب سے لگی مگر میں نے کام کی ہامی بھر لی۔ میرے پاس کام کے تجربے اور حوالوں کی کمی نہیں تھی اور نہ ہی میں کوئی چور تھی مگر چوں کہ وہ لوگ مجھے نہیں جانتے تھے اس لیے میں نے اس بات پر چنداں توجہ نہیں دی۔

ان لوگوں کو یہ گھر خریدے سات ماہ ہوئے تھے۔ گھر میں اکثر چراچراہٹ اور لکڑی کے تختوں کے چرچرانے کی آوازیں گونجتی تھیں اور بچے کی ماں اکثر مجھ سے مڑ کر پوچھتی تھی کہ کیا تمہیں یہ آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ یہ عام سے زینوں وغیرہ کے چرچرانے کی آوازیں ہوتی تھیں مگر کبھی کبھار کسی کے بھد سے گرنے کی آواز بھی آتی تھی۔ ہم اکثر خاموش ہو کر اس آواز کے بعد کان لگاتے تھے مگر یہ آواز پھر اسی وقت دوبارہ نہیں ابھرتی تھی۔

اس گھر کے کچن میں ایک لکڑی کا دورازہ ہے۔ اگر آپ اندر داخل ہوں تو سیدھ ہاتھ پر شیلفوں میں کچن کا سامان رکھا ہے اور آپ اگر دو قدم مزید آگے بڑھیں تو الٹے ہاتھ پر نیچے بیسمینٹ میں اترنے کی سیڑھیاں ہیں۔ مگر اس دروازے پر ایک نہایت ہی وزنی تالا لگا ہوا ہے جو بظاہر عجیب سا لگتا ہے۔ دروازے ہر تالے کا علاوہ ایک نا مانوس سی کنجی بھی ہے جو میں نے آج تک کہیں اور نہیں دیکھی۔ اس کا مقصد تالے کو مزید حفاظت فراہم کرنا ہے جب کہ دروازے پر اس کے علاوہ چین لاک اور ایک اور بہت بھاری سے گول سلاخ والی کنجی بھی لگی ہے۔

میرا کبھی اس تہہ خانے میں جانے کا اتفاق نہیں ہوا مگر مجھے معلوم ہے کہ وہاں سے باہر نکلنے کا کوئی اور راستہ نہیں اس لیے دروازے پر اتنے مضبوط حفاظتی اقدامات کا ہونا تعجب خیز بات ہے۔ مجھے یہ تالے اور کنجیاں شروع دن سے ہی بہت زیادہ عجیب سے لگے تھے اور میں روزانہ ان کے بارے میں سوچتی تھی کیوں کہ اندر پینٹری میں سامان وغیرہ لینے جانے کے لیے ہمیشہ ان تالوں کو کھولنا پڑتا ہے۔ ایک دن میں نے بچے کی ماں سے اس بارے میں پوچھا۔ مگر اس نے محض ہنس کر کہا کہ وہ جب سے یہاں آئے ہیں انہوں نے اسے ایسا ہی دیکھا ہے۔ مگر ظاہر ہے اگر ایک دروازے پر قفل لگانے کی چار جگہیں ہیں تو آپ ان سب میں تو قفل لگانا ضروری نہیں سمجھیں گے ۔ ۔ ۔ ؟

بہر حال اب آتے ہیں اصل کہانی کی طرف ۔ ۔ ۔

آج میں بچے کو گود میں لے کر ٹہل رہی تھی کیوں کہ وہ تھوڑا چڑچڑا ہو رہا تھا۔ میں اس کو لیے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں چکر لگا رہی تھی اور اسے ہولے ہولے اچھال بھی رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد بچہ فطری طور پر نیند کی آغوش میں چلا گیا مگر میں اسے اپنے بازئوں میں جھلاتی رہی تا کہ اس کی نیند گہری ہو جائے۔ ابھی میں بچے کو جھلا ہی رہی تھی کہ یک لخت مجھے ایسا لگا جیسے کوئی تہہ خانے کی سیڑھیوں پر دھم دھم کر کے چل رہا ہو۔ میرے اچانک اچھلنے سے بچہ جاگ گیا مگر اس نے بجائے رونے کے نہایت محتاط رویے کا مظاہرہ کیا۔ میرا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔ گھر میں کوئی بھی نہیں تھا۔ بچہ اور میں بالکل اکیلے تھے۔ میری آنکھوں نے فوراً کمرے کے دروازے کا یہ دیکھنے کے لیے رخ کیا کہ وہ لاک تھا یا نہیں ۔ ۔ ۔ خوش قسمتی سے وہ لاک تھا۔

تہہ خانے کی سیڑھیوں سے بھاری جوتوں کی سات مرتبہ واضح ترین دھم دھم ابھری ۔ ۔ ۔

میں نے اگلے کمرے اور بیرونی دروازے کا رخ کیا مگر باہر خون رگوں میں جما دینے والی سردی تھی۔ آج برف باری نہایت شدت کے ساتھ ہورہی ہے اور محکمہ موسمیات کے مطابق یہ چار دن تک مزید جاری رہے گی۔ بچے کا کوٹ، دستانے اور ہیٹ اوپر کمرے میں ہیں۔

میں کچھ دیر وہاں کھڑی سوچتی رہی کہ کیا کروں۔ میں بچے کو کمبل میں لپیٹ کر باہر لے جا سکتی تھی مگر میری کار میں بچے کو بٹھانے کی کرسی نہیں تھی۔ اس لیے باہر جانا بے سود تھا۔

میں نے بچے کو ماں کو اپنے فون سے کال کی مگر جواب نہیں ملا۔ میں نے اسے ٹیکسٹ کیا ’ بیسمینٹ سے قدموں کی بھاری آوازیں آ رہی ہیں۔ مجھے فوراً بتائو میں کیا کروں؟

میں نے بیرونی کمرے میں بچے کو اس کے جھولے میں لٹایا اور پھر بلی کی طرح چلتی بیسمینٹ کے دروازے کی طرف گئی۔ اب وہاں مکمل خاموشی تھی اور مجھے یاد نہیں کہ میں وہاں دروازے سے کان لگائے کتنی دیر تک کھڑی رہی۔ میرے کان معمولی سے معمولی آواز پر لگے ہوئے تھے اور میں اس معمے کے حل میں ذہن لڑا رہی تھی کہ منطقی پر یہ آواز جوتوں کے علاوہ اور کس چیز کی ہو سکتی ہے۔

مگر دوسری طرف مکمل خاموشی کا راج تھا مگر تجسس اور خوف مجھے مارے ڈال رہا تھا۔ میں بچے کو لے فوری طور پر گھر سے باہر نکل جانا چاہتی تھی مگر اس کے ساتھ ساتھ میں لوگوں کی نظروں میں ایک بے وقوف عورت بھی نہیں بننا چاہتی تھی اور مجھے یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ میں کہاں جائوں یا کیا کروں۔

مجھے پتہ ہے یہ ایک احمقانہ سی بات ہے مگر خوف ناک فلم دیکھتے وقت کوئی ڈرائونا منظر آنے پر سب سے پہلے میں ہی کمرے سے نکل کر باہر بھاگتی ہوں۔ مگر اس وقت میں نے سوچا کہ میں بے سبب خوف کا شکار ہو رہی ہوں اور میں نے یہاں تک سوچ لیا کہ یہ آواز شاید میرا وہم تھی۔

مگر نہیں ۔ ۔ ۔ میں نے اسے اچھی طرح سنا تھا۔

مگر یہ ایک پرانا گھر ہے چناں یہ آواز کسی بھی چیز کی ہو سکتی تھی۔ ممکن ہے مکان کی بنیاد جس مقام پر رکھی تھی وہاں سے یہ عجیب طرح کی دھم کی آواز پیدا ہوئی ہو جس سے تہہ خانے کی سیڑھیوں پر کسی کے بھاری قدموں سے چلنے کا گماں گزرا۔ مجھے نہیں معلوم مگر اب میرے اعصاب کو سکون مل رہا تھا۔ میری رگوں میں دوڑتا بر گردی مادہ (adrenaline) بتدریج کم ہونے لگا اور میں نے فیصلہ کیا کہ میں بلا سبب پریشان ہو رہی تھی اور یہ محض مکان کے تختوں وغیرہ کی چرچراہٹ کے سوا کچھ اور آواز نہیں تھی۔

اچانک بچے نے رونا شروع کر دیا چناں چہ میں اس کے پاس گئی اور اس وقت تک جھولا جھلاتی رہی جب تک وہ دوبارہ گہری نیند نہیں سو گیا۔ اس کے بعد میں نے صوفے پر بیٹھ کر اپنی ماں کو سارا ماجرا ٹیکسٹ کیا۔ مگر اس کا بھی یہ ہی کہنا تھا کہ یہ تختوں وغیرہ کی چرچراہٹ تھی جسے میرے تصور نے کچھ زیادہ ہی رنگ دے دیا تھا۔ ابھی تک بچے کی ماں کا کوئی فون نہیں آیا تھا مگر میرے خیال میں اس وقت ایسی کوئی ہنگامی صورت حال بھی نہیں تھی۔

بچہ دو گھنٹوں تک سوتا رہا اور وہ جب سو کر اٹھا تو اس وقت تک میرے اعصاب بحال اور پر سکون ہو چکے تھے اور مجھے خود اپنے بے سبب خوف پر ہنسی آ رہی تھی مگر مجھے پتہ تھا کہ اب مجھے وہ دروازہ کھول کر پینٹری سے بچے کے لیے کھانے کا سامان لانا تھا۔ اگرچہ میں اپنے کو پوری طرح مطمئن کر چکی تھی مگر اب بھی اس دروازے کو کھولنے کے خیال سے میرا دل حلق میں آ رہا تھا۔ میرے پاس کوئی دوسرا چارہ نہیں تھا کیوں کہ بچہ بھوک سے بے چین ہو رہا تھا۔

میں تہہ خانے کے دروازے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ ایک دو منٹ تک اسے تکتی رہی اور پھر ایک گہری سانس لے کر تالے کھولے اور دروازے کو جھری برابر اندر دکھیلا۔

اندر کوئی بھی نہیں تھا چناں چہ میں نے اسے پورا کھولا، پینٹری میں داخل ہوئی، بچے کے کھانے کا سامان لیا مگر میں اس پر نظر نہیں ڈالی کیوں میں نے یک لخت سیڑھیوں کی جانب دوڑ لگائی۔ مڑ کر کچن کو ایک نظر دیکھا اور تیزی سے دروازے کو بند کر دیا۔ میں نے بچے کا کھانا تیار کیا اور اسے کھانا کھلانے کی کرسی میں بٹھا دیا۔ جیسے ہی میں اپنے اسٹول پر بیٹھی میں نے اس سے کہا ’مزے دار میٹھے آلو‘ ۔ ابھی میں نے اتنا کہا ہی تھا کہ میرے عقب میں تہہ خانے کے دروازے کے پیچھے سے ایک واضح آواز ابھری جس نے عام سے لہجے میں کہا ’بالکل نہیں ۔ ۔ ۔ ‘

میں نے بچے کو کرسی سے کھینچا، اسے تیزی سے کمبل میں لپیٹا، اپنا کوٹ پہنا اور دوڑتے ہوئے اپنی کار میں جا بیٹھی۔ میں تھوڑی دیر بعد قریبی رہائشی فلیٹوں تک پہنچی اور وہاں پارکنگ میں اپنی کار کھڑی کر دی۔ میں نے ایک بار پھر بچے کی ماں کو کال کیا مگر اس بار بھی کوئی جواب نہیں ملا۔ میری سانسیں سینے میں نہیں سما رہی تھیں۔ پھر میں نے بچے کے باپ کا نمبر ملایا مگر وہاں بھی کسی نے میری کال نہیں اٹھائی۔ اگر چہ مجھے پتہ تھا وہ میری کال نہیں اٹھائے گا کیوں کہ وہ ایک وکیل ہے اور اس کے دن کا بیشتر حصہ عدالتوں میں گزرتا ہے۔

ابھی میں پولیس کو کال کرنے یا نہ کرنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ بچے کی ماں کا فون آ گیا۔ وہ بھی میری ہی طرح گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی۔ میں نے تقریباً چیختے ہوئے کہا ’میں نے تہہ خانے کے دروازے کے پیچھے سے کسی کو بولتے ہوئے سنا ہے ۔ ۔ ۔ ‘

’میں بھی یہ آواز سن چکی ہوں‘ وہ جواب میں چلائی ۔ ۔ ۔

اس نے کہا ’اسی وجہ سے ہم نے گھر میں ہر طرف کیمرے لگا رکھے ہیں۔ دراصل ہمیں یہ گھر نہایت سستی قیمت میں ملا۔ لوگ اس گھر کی قیمت لگاتے تھے مگر بعد میں پیچھے ہٹ جاتے تھے۔ میں نے گھر بیچنے والی خاتون کو خط لکھا کہ میں حاملہ ہوں اور ہم اس مکان کو ایک گھر بنانا چاہتے ہیں۔ اس عورت نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہا کہ اگر میں گھر خریدنا چاہتی ہوں تو اسے میری پیش کش قبول ہے، مگر اس نے مجھے تہہ خانے اور وہاں سے سنائی دینے والی آوازوں کے بارے میں بھی بتایا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے اپنے شوہر کے ساتھ اس گھر میں بیس سال گزارے ہیں مگر کبھی کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا البتہ ایک سال پہلے گھر میں تہہ خانے سے کسی مرد کی آواز آنا شروع ہوئی۔ انہوں نے کئی بار کسی کو چلتے ہوئے بھی سنا مگر انہیں کبھی بھی اس آواز کا سراغ نہیں ملا۔ انہوں نے گھر کی مکمل طور پر تلاشی لی۔ پولیس سے رابطہ کیا مگر کچھ سامنے نہیں آیا۔‘

’تالے ۔ ۔ ۔؟ میں صرف اتنا ہی کہہ پائی۔

’چوں کہ آواز زیادہ تر تہہ خانے سے آتی محسوس ہوتی تھی اس لیے ان لوگوں نے دروازے کو لاک کرنا شروع کر دیا مگر ہر صبح تالا خود بخود کھلا ہوا ملتا تھا چناں انہوں نے وہاں مزید تین تالے لگائے۔ مگر جب میں نے ان سے یہ بات سنی تو مجھے ایسا لگا جیسے وہ لوگ عقل سے عاری بات کر رہے ہیں۔‘

میں اس گفتگو کے دوران مکمل خاموش تھی جب کہ بچہ دانت نکالنے میں مدد گار ربڑ کے رنگ کو اپنے منہ میں لے کر مسوڑھوں سے کھانے کی نا کام کوششوں میں لگا ہوا تھا۔ میں نے اسے کمبل میں لپیٹ کر برابر والی نشست پر لٹایا ہوا تھا۔

بچے کی ماں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’میرے شوہر نے اس ساری کہانی کو مجذوب کی بڑ قرار دیا اور سچ یہ ہے کہ میرا بھی ایسا ہی خیال تھا۔ مگر جب میں نے خود اپنے کانوں سے یہ آواز سنی تو مجھے احساس ہوا کہ ہم سے کتنی بڑی غلطی سرزد ہو چکی ہے۔ شروع میں صرف سرگوشیوں کی آوازیں آتی تھیں مگر پھر مرد کی آواز سنائی دی۔ میرا شوہر کا خیال ہے کہ میرے کان بجنے لگے ہیں کیوں ابھی تک اسے یہ آواز سنائی نہیں دی ہے۔ ہم نے کیمرے لگائے اور میرا خیال تھا کہ میں یہ آواز ریکارڈ کر کے اپنے شوہر کو سنا سکوں گی مگر جس دن سے ہم نے گھر میں کیمرے لگائے مجھے کسی طرح کی بھی آواز سنائی نہیں دی ۔ نہ کسی مرد کی آواز اور نہ ہی کسی قسم کی سر گوشیاں۔ ہم نے تہہ خانے میں بھی کیمرے لگانے کی کوشش کی مگر یہ وہاں کام نہیں کرتے۔ کیمرے لگانے والے ٹیکنیشن کا خیال ہے کہ ہمارے وائی فائی کے سگنل وہاں تک نہیں پہنچ پاتے۔ کیمرے لگانے کے بعد سے ہر چیز معمول کے مطابق ہو گئی تھی سوائے ادھر ادھر سے ابھرنی والی عام سی سر گوشیوں کے۔‘

میں نے اس سے کہا کہ میں اس کے آنے تک گھر میں قدم نہیں رکھوں گی چناں چہ میں کار چلا کر گھر تک واپس گئی مگر اس وقت تک باہر نہیں نکلی جب تک بچے کی ماں اپنی کار میں وہاں نہیں آ گئی۔

ہم دونوں اندر گئے اور اس بارے میں تھوڑی سی بات چیت کی۔ بچے کی ماں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں ملازمت جاری رکھوں گی۔ مجھے اس بارے میں اچھی طرح سوچنا ہے۔ مگر فی الوقت ۔ ۔ ۔

میرا مطلب ہے وہ لوگ وہاں چار مہینے سے رہ رہے ہیں اور ابھی تک انہیں کچھ بھی نہیں ہوا اس لیے میرا خیال ہے میں کچھ عرصے تک اپنی ملازمت جاری رکھوں گی۔ اگر یہ صرف آوازیں ہی ہیں تو میں انہیں کچھ بھی نام دے کر کام چلاتی رہوں گی۔

مگر وہ مرد کی آواز ۔ ۔ ۔

اپ ڈیٹ

میں ایک گھنٹے سے اس گھر میں ہوں۔ بچے کے ماں باپ کام پر گئے ہوئے ہیں اور بچہ نیند میں ہے۔ میں یہاں خاموشی سے بیٹھی منتظر ہوں۔ شاید قدموں کی آہٹ یا اس مرد کی آواز کی۔

آج بچے کی ماں نے بچے کا کھانا نکال کر کچن کے کائونٹر پر رکھ دیا تھا تا کہ مجھے بیسمینٹ کا دروازہ نہ کھولنا پڑے۔

میرا ذہن کہہ رہا ہے کہ مجھے تہہ خانے میں خود جا کر جائزہ لینا چاہیے مگر مجھے معلوم ہے میں کبھی بھی یہ جرات نہیں کر پائوں گی۔

آج میں بہت بے چین ہوں مگر میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ کیا آج بھی کچھ ہو گا یا نہیں۔ میرا مطلب ہے میں یہاں کئی مہینوں سے کام کر رہی تھی اور کل تک کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔ میں چاہتی ہوں کہ سب کچھ بھول بھال کر معمول کی طرح کام جاری رکھوں مگر مجھے پتہ ہے میں ایسا نہیں کر سکتی۔ کیا آپ کو کبھی ایسا محسوس ہوا کہ کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے؟ جیسے اچانک آپ کی کلائیوں کے بال کھڑے ہو گئے ہوں اور ان میں سنسناہٹ سی دوڑ رہی ہو؟ مجھے بالکل ایسا ہی لگ رہا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ آج کچھ بہت برا ہونے والا ہے۔ اور یہ سوچ سوچ کر میری رگوں میں خون خشک ہو رہا ہے۔

کیا مجھے تہہ خانے کے پاس نمک چھڑکنا اور ساج کی پتیاں جلانی چاہییں۔


کسی آسیب وغیرہ کی موجودگی کا شبہ ہونے کی صورت میں آج کل روشن خیال گورے وہاں نمک چھڑکتے اور ساج کی پتیاں جلاتے ہیں۔ ساج ایک چھوٹا سا جھاڑی دار دو برگہ اور دو فلقی پودا ہے جو بحر روم کے علاقہ سے تعلق رکھتا ہے۔ اسے زیبائش کے لیے اگایا جاتا ہے اور اس کے پتوں اور چھوٹے خوشوں سے تیل حاصل ہوتا ہے


میں نہیں کہہ سکتی ہے تہہ خانے میں کسی انسان کی موجودگی یا کسی عفریت کے ہونے میں کون سی بات زیادہ خطرناک ہے مگر میرا خیال ہے کہ یہ اگر کوئی انسان ہوتا تو اب تک پکڑا جاتا۔

میرا خیال ہے کہ اب اگر کچھ ہوا تو میں بلا تاخیر پولیس کو کال کروں گی۔ مگر میں ساتھ یہ بھی سوچ رہی ہوں کہ کیا بچے کے ماں باپ کی عدم موجودگی میں مجھے پولیس کو کال کرنا چاہیے بھی یا نہیں۔ میرا ذہن میں سوالات وسوسوں کی طرح کلبلا رہے ہیں اور لگتا ہے یہ مجھے پاگل پن کر کے رکھ دیں گے۔

ہر طرف لگے کیمروں کو دیکھ کر مجھے لگ رہا ہے جیسے میں ’پیرا نارمل ایکٹیوٹی‘ کا کوئی کردار ہوں۔ جیسے یہ سب ایک فلم ہے جہاں اختتام پر کوئی عفریت تہہ خانے سے باہر نکلے گا اور مجھے گھسیٹ کر واپس لے جائے گا۔

ایسی خوف ناک فلمیں دیکھتے وقت جیسے ہی کسی دروازے کے کھلنے کا منظر آتا ہے سب سے پہلے میں کمرے سے نکل کر بھاگتی ہوں۔

مجھے اب شدید خوف محسوس ہو رہا ہے۔

گھر میں پلے کتے نے دوسرے کمرے میں ابھی ابھی پہلو بدلا ہے اور خوف سے میرا دل دھڑ دھڑ کانپ رہا ہے۔

آج میں نے اس گھر کے بارے میں گوگل پر تلاش کیا جہاں مجھے سابق مالکان کے ناموں کا علم ہوا۔

میں نے تھوڑی بہت آن لائن ریسرچ کرنے کی کوشش کی مگر کوئی خاص بات سامنے نہیں آ سکی۔ مگر اتنا معلوم ہوا کہ سابقہ مالکان کا ایک بیٹا تھا جو سولہ سال کی عمر میں لاپتہ ہو گیا تھا۔ وہ اسکول گیا تھا مگر گھر واپس نہیں آیا۔ ماں باپ کا خیال تھا کہ وہ گھر سے بھاگ گیا ہے۔ گوگل کے مطابق کچھ مہینوں پہلے اس لڑکے کے باپ کی موت کے بعد اس کی ماں نے گھر پر برائے فروخت کا بورڈ لگا دیا تھا۔

ظاہر ہے اگر اس کی جگہ میں ہوتی تو میرا بھی یہ ہی فیصلہ ہوتا۔

یہ کوئی اہم اپ ڈیٹ نہیں ہے۔ میں یہاں گھر میں بیٹھی ہوں اور اس دوران میں نے یہ کہانی لکھ کر ’نیرنگ‘ پر ای میل کی ہے۔

اپ ڈیٹ

میں نے دروازہ کھولا۔ میں بے بی مانیٹر [بچے پر نظر رکھنے والا آلہ] سیٹرھیوں پر رکھ کر دیکھنا چاہتی تھی کہ کیا کچھ سنائی دیتا ہے یا نہیں۔ ۔ ۔

میں نے ایسا ہی کیا ۔ ۔ ۔ جب میں بے بی مانیٹر تہہ خانے کی سیڑھیوں پر رکھا تو اس کے پانچ منٹ بعد میں نے ایک نرم سے آواز سنی ۔ ۔ ۔

’مجھے پتہ ہے تم سن رہی ہو ۔ ۔ ۔‘

میں اب گھر جانا چاہتی ہوں۔ مجھے یہاں آئے بیس منٹ ہوئے ہیں۔ مگر میں اب گھر جانا چاہتی ہوں۔ میرے پورے وجود پر گویا لرزے کا بخار طاری ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے مجھے الٹی ہو جائے گی۔

میں اس بری طرح کانپ رہی ہوں کہ خود پر کنٹرول کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔ میرا خیال ہے میں نے حقیقت میں یہ آواز نہیں سنی ۔ ۔ ۔‘

ارے ہاں میں ایک بتانا تو بھول ہی گئی۔ تہہ خانے کے دروازے کے نچلے حصے میں پالتو کتے کے آنے اور جانے کے لیے ایک چھوٹا سا لوہے کا دروازہ بھی ہے۔ یہ دروازہ دونوں طرف سے لاک ہو سکتا ہے۔

(اگلا حصہ جلد آ رہا ہے)