Why Coronavirus Test is Important

کورونا ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے اور یہ کیوں ضروری ہے؟

کورنا وائرس کے ٹیسٹ کے لیے سواب ٹیسٹ ناک یا گلے سے نمونہ لے کر کیا جاتا ہے اور پھر اس میں وائرس کے جینیاتی مواد کی نشاندہی کے لیے نمونے کو لیبارٹری بھیج دیا جاتا ہے۔۔ ایک دوسری قسم کا ٹیسٹ اینٹی باڈی ٹیسٹ ہے۔ اس ٹیسٹ کے ذریعے یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ آیا پہلے ہی کسی شخص کو وائرس ہوچکا ہے یا نہیں۔ اس دوسری قسم میں ایک آلے پر خون کے ایک قطرے کا استعمال کرتے ہوئے قوتِ مدافعت دیکھی جاتی ہے۔ یہ بالکل حمل کے ٹیسٹ جیسا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق ہسپتالوں میں زیرِ استعمال تشخیصی ٹیسٹ بہت قابل اعتماد ہیں، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان ٹیسٹوں کے دوران کورونا وائرس کے ہر کیس کی نشان دہی ممکن ہوگی کیوں کہ اگر کوئی مریض اپنے انفیکشن کے بالکل آغاز میں ہے یا اگر اس کے جسم میں وائرس کی تعداد بہت کم ہے تو ایسے مریض کا ٹیسٹ منفی بھی آ سکتا ہے۔ اسی طرح اگر سواب ٹیسٹ کے لیے گلے سے نمونہ لیتے ہوئے کافی تعداد میں وائرس نہیں اٹھایا جا سکا تو اس صورت میں سواب ٹیسٹ منفی آ سکتا ہے۔ برطانیہ میں ان ٹیسٹیوں کی نگرانی کرنے والے پروفیسر جان نیوٹن نے ٹائمز اخبار کو بتایا کہ چین سے خریدے گئے ٹیسٹ ایسے مریضوں میں اینٹی باڈیز کی نشاندہی کرنے میں کام یاب رہے جو کورونا وائرس سے شدید بیمار تھے، لیکن ایسے مریض جن کی حالت زیادہ خراب نہیں تھی ان میں یہ ٹیسٹ ناکام رہے۔ ٹیسٹنگ کرنے کے پیچھے دو اہم وجوہات ہیں۔ پہلی، انفرادی طور پر ان کی تشخیص کرنا اور دوسرا یہ معلوم کرنا کہ ان میں وائرس کس حد تک پھیل چکا ہے۔ یہ معلومات محکمہ صحت اور طبی عملے کو مستقبل کی منصوبہ بندی میں مدد دے سکتی ہے جن میں یہ بھی شامل ہے کہ انتہائی نگہداشت کے کتنے یونٹس کی ضرورت پڑے گی۔ علاوہ ٹیسٹنگ، معاشرتی دوری جیسے اقدامات کے متعلق فیصلوں میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر لوگوں کی بڑی تعداد پہلے ہی انفیکشن سے متاثر ہو چکی ہے تو ایسی صورت میں لاک ڈاؤن کی کوئی خاص ضرورت باقی نہیں رہتی۔ جب کہ زیادہ وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ صحت کے کارکنان سمیت بہت سارے لوگ بلاوجہ خود کو الگ تھلگ کر سکتے ہیں۔