William Shakespeare | Michael Hart | Urdu | The 100 | The Hundred

دی ہنڈریڈ | اکتیسواں باب | ولیم شیکسپیئر

عظیم برطانوی ڈرامانگار ولیم شیکسپیئر کو عام طور پر تاریخِ عالم کا سب عظیم قلم نگار باور کیا جاتا ہے۔ اس بارے میں خاصا اختلاف موجود ہے کہ ولیم شیکسپیئر کون تھا اور یہاں اس موضوع پر مفصل بات بھی کی جائے گی؛ تاہم اس پُراسرار مصنف کی ذہانت اور کارناموں کے بالاتفاق سب ہی معترف ہیں۔ شیکسپیئر نے کم و بیش 36 ڈرامے تحریر کیے جن میں ہیملیٹ، میکھبیتھ، کنگ لیئر، جولیس سیزر اور اوتھیلو ادب کے افق پر تاقیامت روزِاول کی طرح روشن رہیں گے۔ ان ڈراموں کے علاوہ شیکسپیئر نے 154 شان دارترین 14 مصرعوں والی سونیٹس کا مجموعہ اور کچھ طویل نظمیں بھی لکھیں۔ شیکسپیئر کی لیاقت، کارناموں اور جائز شہرت کے تناظر میں یہ بات کچھ عجیب محسوس ہوتی ہے کہ اس کتاب میں اس کا تذکرہ زیادہ بلند درجے پر نہیں کیا گیا۔ شیکسپیئر کا ذکر کم درجے پر کرنے کی وجہ یہ نہیں کہ میں اس کے فن کے گہرائی اور گیرائی کا متعرف نہیں ہوں۔ اس کی وجہ صرف اتنی ہے کہ میرے خیال میں عام طور پر فن کار اور ادبی شخصیات کے انسانی زندگیوں پر اثرات نسبتاً بہت کم مرتب ہوتے ہیں جب کہ ایک مذہبی رہ نما، سائنس دان، سیاست دان، تحقیقی مہم جو یا فلسفی کا انسانی ترقی کے کسی بھی شعبے میں بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر سائنسی دریافتوں نے نہ صرف معیشت اور سیاسی معاملات پر گہرے ترین اثرات مرتب کیے ہیں بلکہ انہوں نے مذہبی عقائد،  فلسفیانہ طرزِفکر اور فنی کمالات کو بھی نئی جہات سے روشناس کرایا ہے۔ اگرچہ ایک معروف مصور بعد میں آنے والے فن کاروں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے مگر امکان غالب یہ ہی ہے کہ موسیقی اور ادب کے فروغ میں اس کے اثرات بہت تھوڑے جب کہ سائنس، تحقیقاتی مہم جوئی اور علمِانسانی کے دیگر شعبہ جات پر قطعی نہیں ہوں گے۔ اسی طرح یہ بات بعینہ شعراء، ڈارمانگاروں اور موسیقاروں کی بابت بھی کہی جا سکتی ہے۔ عام طور پر فن کاروں کے اثرات کا دائرہ فن کاروں تک ہی محدود ہوتا ہے بلکہ دراصل فن کے صرف اسی شعبے تک ہی جس سے ان کا تعلق ہوتا ہے ان کے اثرات باہر نہیں نکل پاتے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ادب، موسیقی یا بصری فنون سے متعلق کوئی بھی شخصیت اس کتاب کی اولین 20 شخصیات میں شامل نہیں بلکہ پوری کتاب میں چند ایک ہی کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ یہاں کسی بھی فن کار کا تذکرہ کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ اس سوال کا ایک جواب یہ ہے کہ سماجی تناظر میں ہماری عمومی ثقافت کی تشکیل میں جزوی طور پر فن کا بالضرور کردار ہوتا ہے۔ فن کسی معاشرے کو باہم جوڑتا ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ کسی بھی انسانی تہذیب میں فن کی لازمی موجودگی کو محض ایک اتفاقی حادثہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مزید ازاں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر شخص فن کی کسی نہ کسی شاخ سے براہِ راست لطف اندوز ہونا چاہتا ہے۔ باالفاظ دیگر ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ اپنے وقت کا کچھ نہ کچھ حصہ کتب بینی میں یا مصوروں کے فن پاروں کا مشاہدہ کرنے میں اور اسی طرح دیگر سرگرمیوں میں ضرور صرف کرتے ہیں اور حتیٰ کہ وہ وقت جو ہم موسیقی سننے میں صرف کرتے ہیں ہماری دیگر سرگرمیوں پر کچھ بھی اثرات مرتب نہیں کرتا مگر اس کے باوجود یہ وقت ہماری زندگیوں کی کچھ اہم مصروفیت کا بالضرور اظہار ہوتا ہے۔ بلاشبہ فن ہماری دیگر سرگرمیوں پر اثرانداز ہوتا ہے اور بسااوقات ہماری تمام زندگی پر اپنے ان مٹ نقوش چھوڑ جاتا ہے۔ فن ہمیں ہماری روحوں سے ملاتا ہے۔ یہ ہمارے دروں ترین احساسات کا اظہار ہوتا ہے اور انہیں ہمارے اذہان کے لیے قابلِ فہم بناتا ہے۔ بعض صورتوں میں کوئی فن پارہ کم وبیش واضح ترین فلسفیانہ مواد پر مبنی ہوتا ہے جو دیگر موضوعات کی بابت ہمارے طرزِعمل وفکر کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ صورت حال موسیقی یا مصوری کی نسبت زیادہ تر ادبی شہہ پاروں کے ساتھ ر نما ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر رومیو اور جولیٹ (ایکٹ تھری؍ سین ون)  میں جب شیکسپیئر شہزادے کی زبان سے کہلواتا ہے: ’رحم کرو، قتل نہ کرو؛ انہیں بخش دو جو قاتل ہیں‘ تو خواہ آپ متفق ہو یا نہیں مگر یہاں پیش کردہ تصور واضح طور پر فلسفیانہ بصیرت کا حامل ہے جو بہرصورت ’مونا لیزا‘ کے مقابلے میں ایک سیاسی طرزِعمل کو تحرک دے سکتا ہے۔ اس بارے میں دو رائے نہیں کہ تمامی ادبی شخصیات میں شیکسپیئر کا قد سب سے بلند ہے۔ آج لوگ چوسر، ورجل اور حتیٰ کہ ہومر کی تصانیف کو صرف نصابی ضرورت پوری کرنے کے لیے پڑھتے ہیں، مگر شیکسپیئر کے ڈرامے آج بھی ذوق وشوق سے دیکھے جاتے ہیں۔ لفظوں سے کھیلنے میں شیکسپیئر کا کوئی ثانی نہیں اور وہ لوگ بھی شیکسپیئر کی تحریروں سے حوالے دیتے نظر آتے ہیں جنہوں نے کبھی اس کے ڈراموں کو دیکھا یا پڑھا تک نہیں ہوتا۔ شیکسپیئر کی مقبولیت کوئی چار دن کی چاندنی نہیں۔ اس کے شہہ پارے چار صدیوں سے قارئین اور ناظرین کو لذتِ فن سے ہم کنار کر رہے ہیں۔ شیکسپیئر کے ادبی فن پارے آج بھی وقت کی بساط پر زندہ ہیں اور کوئی شبہ نہیں کہ صدیوں تک ان کا سحر ٹوٹنے نہیں پائے گا۔ شیکسپیئر کی اہمیت کا اندازہ لگاتے وقت ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اگر شیکسپیئر نہیں ہوتا تو جو کچھ اس نے لکھا وہ لکھا جانا کبھی بھی ممکن نہیں تھا۔ بلاشبہ یہ بات کسی بھی دیگر فن کار یا ادبی شخصیت کے بارے میں کہی جا سکتی ہے مگر یہ پہلو کم اہم فن کاروں کے اثر کا تجزیہ کرتے وقت کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا۔ اگرچہ شیکسپیئر کی زبان انگریزی تھی مگر پھر بھی اس کی قدر ومنزلت عالمی ہے۔ انگریزی اگرچہ زبانِ عالم نہیں مگر یہ کسی بھی دوسری زبان کے مقابلے میں اس مقام سے قریب تر ضرور ہے۔ مزید ازاں شیکسپیئر کی تخلیقات بڑے پیمانے پر ترجمہ ہوئی ہیں اور اس کے ڈراموں کو بے شمار ممالک میں پڑھا اور اسٹیج پر پیش کیا گیا ہے۔ بلاشبہ متعدد ایسے مصنفین موجود ہیں جن کی تحریروں پر تند وتیز ادبی تنقید کی جاتی ہے مگر شیکسپیئر کے ساتھ ایسا نہیں ہے کیوں کہ ادبی مفکرین نے اس کی تصانیف کی صرف تعریف ہی کی ہے۔ یکے بعد دیگرے ڈراما نویسوں نے صدیوں تک شیکسپیئر کے فن کا مطالعہ کرنے کے بعد اس کے ادبی اوصاف تک پہنچنے کی کوشش کی ہے۔ دیگر مصنفین پر شیکسپیئر کے اثرات اور مسلسل عالمی شہرت اس بات کی متقاضی تھی کہ اس کتاب میں اس کا ذکر اونچے درجے پر کیا جاتا۔ مگر اس بارے میں ہمیشہ اختلاف رہا ہے کہ وہ شخص کون تھا جس نے شیکسپیئر کے نام سے قلم نویسی کی۔ رائج نقطۂنظر کے مطابق جسے میں نے اس کتاب کی اولین اشاعت میں تسلیم کیا تھا وہ شخص ولیم شیکسپیئر ہی ہے جو اسٹریٹ فورڈ آن ایون میں 1564ء کو پیدا ہوا اور جس کا وہیں 1616ء میں انتقال ہوا۔ تاہم اس رائے کے حامی اور اس خیال کو شک کی نگاہ سے دیکھنے والوں کے باہمی دلائل اور جوابی دلائل کا جائزہ لینے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ متشککین کے دلائل زیادہ بہتر اور وزنی ہیں جنہوں نے اپنی رائے معقول انداز میں پیش کی ہے۔ دلائل کا انبار اس بات کا اظہار ہے کہ ’ولییم شیکسپیئر‘ آکسفورڈ کے سترہویں نواب ایڈورڈ ڈی ویری کا قلمی نام تھا اور یہ کہ خاندانی نام ’ولیم شیکسپیئر‘ جسے مختلف ہجوں کے ساتھ لکھا جاتا تھا محض ایک دولت مند کاروباری شخص کا نام تھا جس کا کاروبار اسے لندن لے آیا تھا جب کہ اس کا لکھنے لکھانے سے دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔ میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ ڈی ویری نے شیکسپیئر کے لیے ڈرامے لکھے جسے اس وقت تمام تر عوامی پذیرائی حاصل ہوئی۔ دورانِ زندگی کوئی بھی شیکسپیئر کو مصنف نہیں سمجھتا تھا اور نہ ہی خود اس نے کبھی ایسا دعویٰ کیا۔ یہ بات کہ شیکسپیئر ہی عظیم قلم نویس ولیم شیکسپیئر تھا اس کی موت کے سات سال بعد یعنی 1623ء تک سامنے نہیں آئی جب اس کے ڈراموں کا پہلا فولیو ایڈیشن شائع ہوا۔ اس کتاب کے مدیروں نے دیباچے میں کچھ ایسا مواد شامل کیا جس میں گو اشارتاً مگر پرزور انداز میں کہا گیا کہ اسٹریٹ فورڈ آن ایون سے تعلق رکھنے والا شخص ہی اس کتاب کا مصنف ہے۔ اس عقدے کو سلجھانے کے لیے کہ شیکسپیئر ان ڈراموں کا خالق نہیں ہوسکتا اس کی سوانح عمری کے بارے میں مروجہ رائے کو پیش کرنا لازمی ہے جس کے مطابق شیکسپیئر کا باپ جان ایک زمانے میں نہایت خوش حال شخص تھا مگر پھر وہ برے حالات کا شکار ہوا اور شیکسپیئر کی پرورش انہیں درماندہ حالات میں ہوئی۔ تاہم اس نے اسٹریٹ فورڈ گرامر اسکول سے تعلیم حاصل کی جہاں اس نے لاطینی زبان اور کلاسیکل ادب کا مطالعہ کیا۔ جب ولیم صرف اٹھارہ برس کا تھا تو این ہیتاوے نامی ایک نوجوان عورت اس سے تعلقات کے نتیجے میں حاملہ ہو گئی چناں چہ شیکسپیئر نے اس سے باقاعدہ شادی کی اور کچھ عرصے بعد وہ تخلیق کے عمل سے گزری اور ڈھائی سال بعد اس نے دو جڑواں بچوں کو جنم دیا۔ اس طرح 21ویں سال تک پہنچنے سے پہلے ہی ولیم شیکسپیئر کے سر ایک بیوی اور تین بچوں کی ذمے داری آ چکی تھی۔ اگلے چھ سالوں تک ہم اس کی سرگرمیوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، مگر 1590ء کے اوائل میں وہ لندن میں اداکاروں کے ایک گروپ کے رکن کے طور پر سامنے آتا ہے۔ وہ ایک کام یاب ادا کار تھا مگر اس نے جلد ہی ڈراما نویسی اور شاعری کی راہ اختیار کر لی۔ 1598ء تک وہ سب سے عظیم انگریزی قلم نویس – خواہ زندہ یا فوت شدہ –  کا مقام حاصل کر چکا تھا۔ شیکسپیئر نے لندن میں تقریباً 20 برس گزارے اور اس دوران اس نے کم از کم 36 ڈرامے، 154 سونیٹس اور کچھ طویل نظمیں تحریر کیں۔ چناں چہ چند سالوں کے اندر وہ خوش حال ہو گیا اور 1597ء میں وہ اس قابل ہو چکا تھا کہ اسٹریٹ فورڈ میں ایک نہایت مہنگا گھر – نیا محل – خرید سکے۔ اس دوران اس کے اہل خانہ اسٹریٹ فورڈ میں ہی مقیم رہے اور ولیم شیکسپیئر ہی ان کا کفیل تھا۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس نے کبھی بھی اپنے عظیم ڈراموں کی اشاعت نہیں کرائی مگر بددیانت ناشروں نے ان کی مالی قدر محسوس کرنے کے بعد چوری چھپے اس کے تقریباً ابتدائی نصف ڈرامے چھاپ دیے۔ اگر چہ چوری چھپے چھاپے گئی کتابیں اغلاط وتحریفات سے پُر تھیں مگر شیکسپیئر نے کوئی قانونی کارروائی نہیں کی۔ 1612ء میں جب وہ 48 برس کا تھا اس نے یکایک لکھنے سے ہاتھ اٹھا لیا اور اسٹریٹ فورڈ واپس جا کر اپنی بیوی کے پاس سکونت اختیار کر لی جہاں 1616ء میں اس کا انتقال ہوا اور اسے چرچ کے احاطے میں دفنایا گیا۔ اس کی فرضی قبر کے کتبے پر اس کا نام درج نہیں تاہم کچھ عرصے بعد نزدیکی دیوار پر ایک یاد گار نصب کر دی گئی تھی۔ اپنی موت سے تین ہفتے قبل اس نے وصیت تحریر کرائی جس میں اس نے جائداد کا زیادہ حصہ بڑی بیٹی سوزینا کے نام لکھا۔ سوزینا اور اس کے ورثاء نئے محل میں رہتے رہے یہاں تک کہ 1670ء میں وہ سب دنیا سے گزر گئے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ درج بالا سوانح حیات مروجہ سوانح نگاروں کے قطعی قیاسات پر مبنی ہے۔ مثال کے طور پر اس بات کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں کہ شیکسپیئر نے کبھی اسٹیٹ فورڈ گرامر اسکول میں تعلیم حاصل کی اور نہ ہی وہاں کسی استاد یا طالبِ علم نے دعویٰ کیا کہ وہ شیکسپیئر جیسے عظیم مصنف کا ٹیچر یا ہم جماعت تھا۔ اسی طرح یہ بات بھی غیرواضح ہے کہ شیکسپیئر نے کبھی اداکاری کو بطور پیشہ اپنایا۔ اگرچہ پہلی نگاہ میں مروجہ کہانی معقول محسوس ہوتی ہے مگر جیسے جیسے ہم اس کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں تو بھاری پیچیدگیاں سر اٹھانے لگتی ہیں۔ پہلی دشواری جس کا خود مروجہ سواںح نگاروں نے بھی اعتراف کیا ہے وہ یہ ہے کہ ہم شیکسپیئر کی زندگی کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں اتنا کم کہ اتنے معروف شخص کے بارے میں معلومات کی یہ کمی بالکل غیرمعقول محسوس ہوتی ہے۔ معلومات کی اس حیران کن کمی کے سوال کے جواب میں بعض لوگ کہتے ہیں کہ شیکسپیئر کو گزرے 4 صدیاں بیت گئیں اور قدرتی بات ہے کہ اس سے متعلق دستاویزات زمانے کی گرد میں دھندلا چکی ہیں۔ مگر یہ رائے شیکسپیئر کے زمانے سے متعلق حاصل معلومات کی نہایت غلط تصویرکشی کرتی ہے۔ شیکسپیئر کسی پس ماندہ ملک یا جہالت کے دور میں زندہ نہیں تھا بلکہ وہ برطانیہ میں اس زمانے میں زندہ تھا جب وہاں ملکہ الزبتھ کا سکہ چلتا تھا – ایک ایسا دور جہاں ہر چیز کا ریکارڈ رکھا جاتا تھا، چھاپے خانے چلتے تھے، لکھنے لکھانے کی چیزیں عام دست یاب تھیں اور جہاں لوگوں کی کثیر تعداد لکھنا بھی جانتی تھی اور پڑھنا بھی –  بلاشبہ بے شمار دستاویزات گم ہوئی ہوں گی مگر اس دور کی کئی لاکھ دستاویزات آج بھی موجود ہیں۔ ولیم شیکسپیئر کی ذات میں اس گہری دل چسپی کی وجہ سے محققین نے تین نسلیں دنیا کی اس سب سے ممتاز ومعروف ادبی شخصیت کے بارے میں معلومات ڈھونڈنے اور مواد اکٹھا کرنے میں صرف کی ہیں۔ اس تلاش کے ضمنی نتیجے میں انہیں اس دور کے اہم اور غیراہم شاعروں کے بارے میں بھی زبردست معلومات ملی ہیں لیکن شیکسپیئر کے بارے میں انہیں صرف تین درجن معمولی حوالے ہی مل سکے اور ان میں سے کسی میں بھی اسے شاعر یا ڈرامانگار قرار نہیں دیا گیا ہے۔ ہم فرانسس بیکن، ملکہ الزبتھ، بین جانسن یا ایڈمنڈ اسپینسر کے بارے میں گویا مکمل معلومات رکھتے ہیں مگر شیکسپیئر کے بارے میں ہمارے پاس ان کا عشرعشیر بھی نہیں۔ حتیٰ کہ ہم جان للی جیسے کم اہم ترین شاعر کے متعلق بھی شیکسپیئر سے زیادہ جانتے ہیں۔ تاریخ کے عظیم سائنس دان آئزک نیوٹن سے شیکسپیئر کا موازنہ بہت دل چسپ ہے۔ ہمارے پاس نیوٹن کی تحریرکردہ یا اس کے بارے میں تحریرکردہ اصل دستاویزات ہزاروں کی تعداد میں ہیں جس کا تعلق بھی شیکسپیئر ہی کی طرح برطانیہ کے ایک چھوٹےسے قصبے سے تھا۔ درست ہے کہ نیوٹن شیکسپیئر سے 78 سال بعد پیدا ہوا تھا مگر ہمارے پاس گلیلیو کے بارے میں بھی مفصل ترین مواد موجود ہے جو اسی برس پیدا ہوا جو شیکسپیئر کا سنِ پیدائش ہے۔ اسی طرح ہم شیکسپیئر سے 89 قبل پیدا ہونے والے مائیکل انجیلو یا بوکیکیو کے بارے میں شیکسپیئر کی نسبت بہت زیادہ جانتے ہیں جس کی پیدائش 1313ء میں ہوئی تھی۔ یہاں ایک بڑی پیچیدگی یہ بھی ہے کہ لندن میں اپنے قیام کے دوران یہ عظیم مصنف ہمیں کہیں بھی دکھائی نہیں دیتا۔ قیاس آرائیوں کے مطابق شیکسپیئر نے لندن میں (1612-1592) 20 سال گزارے۔ مگر حیرت ہے کہ ہمارے پاس اس بات کا کوئی ثبوت تک نہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ان دو عشروں میں کسی نے بھی اتنے عظیم ادا کار اور ڈرامانویس کو مجسم نہیں دیکھا ہو۔ جب لوگ معروف اداکار رچرڈ بربیگ یا ممتاز ڈرامانویس بین جانسن سے ملاقات کرتے تھے تو وہ اس یادگار ملاقات کو قلم بند کر دیا کرتے تھے۔ مگر کیا لندن میں ان 20 سالوں کے دوران جب شیکسپیئر ادب کے افق پر ستارے کی طرح چمک رہا تھا کسی ایک شخص نے بھی شیکسپیئر کو اسٹیج پر نہیں دیکھا، اس سے شاعری کے بارے میں خیالات کا تبادلہ نہیں کیا، اس کے ساتھ خط وکتابت نہیں کی یا کسی سڑک پر یا پارٹی میں اس سے ملاقات نہیں کی؟ بلاشبہ اگر ایسا ہوتا تو لوگوں نے اس بات کو بالضرور قلم بند کیا ہوتا۔ چناں چہ ان تمام تر سوالات کا واحد معقول جواب یہ ہے کہ ’ولیم شیکسپیئر‘ ایک قلمی نام تھا جو کسی مصنف نے نہایت کام یابی سے اپنی شناخت پوشیدہ رکھنے کے لیے استعمال کیا اور یہ ہی وجہ کہ جن لوگوں نے اس مصنف سے ملاقات کی تو انہیں قطعی معلوم نہیں تھا کہ وہ عظیم قلم نویس ولیم شیکسپیئر سے ملاقات کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے شیکسپیئر کا نام قلمی نام سے اتنا ملتا جلتا تھا کہ اسے ایک تخلص کے پیچھے کام یابی سے پوشیدہ کرنا ممکن نہیں تھا۔ مروجہ کہانی سے متعلق اس سے بھی زیادہ دوسری بڑی پیچیدگی اسٹریٹ فورڈ آن ایون میں شیکسپیئر کے ساتھ لوگوں کا طرزِعمل ہے۔ ’شیکسپیئر‘ برطانیہ کا ایک عظیم قلم نگار اور معروف ادا کار تھا مگر اس کے قصبے میں کوئی بھی اسے ان حیثیتوں میں نہیں جانتا اور نہ ہی اس طور کہ وہ کوئی غیر معمولی شخص تھا۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن امر یہ ہے کہ وہ جب اپنے قصبے سے نکلا تو ایک مفلوک الحال شخص تھا اور جب واپس لوٹا تو اس کی خوش حالی قابلِ رشک تھی۔ ظاہر ہے یہ ایک ایسی بڑے تبدیلی تھی جس کے بارے میں اس کے دوست اور ہمسائے لازماً متجسس ہوتے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے دورِزندگی میں اسٹریٹ فورڈ آن ایون میں اس کے ایک بھی دوست یا ہمسائے اور حتیٰ کہ اس کے اہلِ خانہ تک نے اسے کبھی بھی اداکار، قلم نویس، شاعر یا کسی بھی قسم کی ادبی شخصیت قرار نہیں دیا۔ پھر شیکسپیئر کے اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے ڈراموں کے مسودوں کی بابت کیا کہا جائے؟ بلاشبہ ان سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ایک تحریرنگار تھا مگر بدقسمتی سے اس کے ہاتھ سے لکھے ہوئے ڈراموں کا کوئی مسودہ، اولین تحریر یا کوئی اور چیز یا کوئی بھی غیرطبع یا طبع شدہ تحریر آج دست یاب نہیں۔ در حقیقت قانونی دستاویزات پر 6 دست خطوں کے علاوہ اس کے ہاتھ کی تحریر میں آج کچھ بھی موجود نہیں۔ کوئی تحریر، کوئی نوٹ بک، کوئی یادداشت کوئی ڈائری کچھ بھی نہیں۔ اس کا ایک واحد ذاتی خط تک موجود نہیں اور نہ ہی کوئی کاروباری تحریر۔ حتیٰ کہ اس کے اولین سوانح نگار بھی تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے اس کے ہاتھ کی لکھی ایک سطر تک نہیں دیکھی۔ ان شواہد سے گمان ہوتا ہے کہ شیکسپیئر مصنف ہونا تو در کنار معمولی خواندہ یا حتیٰ کہ قطعی غیرخواندہ تھا۔ ایک اور نکتہ یہ ہے کہ شیکسپیئر کے والدین، بیوی اور بچے سب ہی ناخواندہ تھے۔ بلاشبہ کوئی بھی اپنی مرضی سے اپنے والدین کا انتخاب نہیں کرتا اور اس طرح ممکن ہے کہ بعض دیگر وجوہات کی بنا پر وہ ایک غیرخواندہ عورت سے شادی کرے مگر یہ امر قطعی ناقابل یقین ہے کہ ایک ایسا شخص جس کا اوڑھنا بچھونا ہی لفظوں کی دنیا ہے وہ آخر کیوں اپنی بیٹیوں کو لکھنا پڑھنا نہیں سکھائے گا؟ اگر ’شیکسپیر‘ ہی شیکسپیئر تھا تو پھر وہ تاریخ کی واحد ادبی شخصیت ہے جس نے اپنی اولاد کو ناخواندہ رکھا۔ پھر بات آتی ہے شیکسپیئر کی وصیت کی۔ اس کا اصل مسودہ محفوظ ہے جو تین صفحات پر مشتمل ہے۔ وصیت میں اس کی املاک کی مکمل تفصیل اور مالِ متروکہ کا تذکرہ ہے۔ اس وصیت میں کہیں بھی کسی نظم، ڈرامے، مسودے، کسی زیرِتکمیل تصنیف یا قانونی حقوق کا بال برابر بھی تذکرہ نہیں۔ اور نہ ہی اس وصیت میں ذاتی کتابوں یا کاغذوں کا تذکرہ ہے۔ اس میں ایسا کوئی اشارہ تک نہیں کہ وہ اپنے غیرطبع ڈرامے طبع کرانا چاہتا ہے – جیسا کہ اس وقت تک اس کے کم از کم 20 ڈرامے طبع نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی اس بات کا وہاں کوئی تذکرہ ہے کہ اس نے کبھی اپنی زندگی میں کوئی ڈراما یا نظم لکھی ہو۔ یہ ایک غیرتعلیم یافتہ یا قطعی ان پڑھ کاروباری شخص کی وصیت سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ بات بھی غور کرنے کے قابل ہے کہ ایک ایسے دور میں جب انگریز شاعر عام طور پر اپنے کسی دوست کی موت پر؍ پُرتکلف ماتمی رسومات انجام دیتے اور مرنے والے کے لیے طویل نوحے تحریر کیا کرتے تھے اس وقت 1616ء میں کسی ایک مصنف نے بھی شیکسپیئر کی موت پر اس کے لیے دو لفظ بھی لکھنا گوارا نہیں کیے۔ حتیٰ کہ بین جانسن تک نے – جس نے بعدِازاں شیکسپیئر کے بڑے مداح اور دوست ہونے کا دعویٰ کیا – شیکسپیئر کی موت پر افسوس کے دو لفظ تک کہنا تو درکنار اس سانحے کا ذکر تک نہیں کیا۔ بات واضح ہے کہ اس زمانے کے دیگر شعراء اس عظیم قلم نگار اور اسٹریٹ فورڈ آن ایون کے شیکسپیئر کے بیچ کسی بھی ربط سے آگاہ نہیں تھے۔ میرے خیال میں درج بالا دلائل حقیقت کا فیصلہ کرنے کے لیے کافی ہیں اور اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی مزید ثبوت درکار نہیں رہا کہ شیکسپیئر کوئی قلم نگار نہیں تھا؍ اور یہ کہ ’ولیم شیکسپیئر‘ ایک قلمی نام تھا جسے اصل مصنف کی شناخت پوشیدہ رکھنے کے لیے بہ خوبی استعمال کیا گیا – اگر چہ شیکسپیئر کے ایک مصنف ہونے کے خلاف مضبوط دلائل کا ایک انبار مزید موجود ہے تاہم ان کی اہمیت اس ضمن میں فیصلہ کن نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ہم جانتے ہیں کہ زیادہ تر ڈرامانگار یا افسانہ نویس اپنی تحریروں میں اپنی زندگی کے بے شمار واقعات کا تذکرہ کرتے ہیں۔ اکثر ایسے واقعات کہانی کے بڑے حصے پر مشتمل ہوتے ہیں مگر شیکسپیئر کے ڈراموں میں ایسے کسی بھی واقعات اور حالات کا تذکرہ نہیں جن کا سرا شیکسپیئر کے ذاتی تجربات سے جوڑا جاسکے۔ ایک اور دلیل یہ بھی ہے کہ ولیم شیکسپیئر ایک انتہائی تعلیم یافتہ شخص تھا مثلاً آپ اس کی زبانی دانی پر غور کریں تو دیکھیں گے کہ اس کے پاس ذخیرۂالفاظ کسی بھی دوسرے مصنف سے بہت زیادہ ہے۔ وہ لاطینی اور فرانسیسی دونوں زبانوں پر عبور رکھتا ہے۔ اسے قانونی اصطلاحات میں درک حاصل ہے اور کلاسیکل ادب میں اس کی معلومات بے کنار ہیں۔ تاہم سب ہی اس بات پر متفق ہیں کہ شیکسپیئر کبھی یونی ورسٹی نہیں گیا بلکہ یہ بات تک مشکوک ہے کہ اس نے کبھی گرامر اسکول میں تعلیم حاصل کی ہو۔ ایک اور دلیل یہ بھی ہے کہ اصل مصنف کی ہم دردیاں طبقۂ امرا کے ساتھ ہیں اور وہ خود بھی اشرافیہ ہی کا ایک فرد محسوس ہوتا ہے جو اس طبقے کے کھیلوں مثلا لومڑی کا شکار اور عقاب بازی وغیرہ سے بخوبی واقف ہے۔ وہ درباری زندگی اور محلاتی سازشوں سے بخوبی آگاہ ہے۔ جب کہ دوسری طرف شیکسپیئر کا تعلق ایک چھوٹے سے قصبے میں متوسط طبقے سے تھا۔ اسی طرح شیکسپیئر کی زندگی کے بعض دیگر پہلو بھی ایسے ہیں جو اس قیاس سے میل نہیں کھاتے کہ وہ معروف قلم نگار ولیم شیکسپیئر ہی تھا۔ اور میں اس بارے میں صفحات پر صفحات لکھ سکتا ہوں کہ مروجہ رائے میں مزید کتنی دشواریاں ابھی بھی موجود ہیں۔ جو قارئین اس موضوع پر مزید پڑھنا چاہیں وہ چارلٹن اوگبرن کی شان دار کتاب ’پر اسرار ولیم شیکسپیئر‘ کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ اگر چہ مروجہ رائے کے حامی سوانح نگاروں نے یہاں درج کردہ یا غیردرج کردہ ہر پیچیدگی کا بھونڈا مفروضاتی جواب دینے کی کوشش ضرور کی ہے۔ ان میں سے کچھ وضاحتیں قطعی غیرمعقول ہیں مگر ان میں سے ایک انفرادی طور پر کم از کم ممکن کہی جا سکتی ہے۔ مثلاً یہ ممکن ہے کہ لوگ اگرچہ معروف لوگوں کے خطوط سنبھال کر رکھتے ہیں مگر اتفاق ہے کہ شیکسپیئر کا تحریرکردہ ہر ذاتی یا کاروباری خط، روزنامچے، یادداشتیں اور مسودے بغیر کسی نشان کے دنیا سے غائب ہو گئے ہوں۔ یہ ممکن ہے کہ عظیم ترین انگریزی شاعر نے اپنی قبر کے کتبے کے لیے انتہائی بچکانہ شاعری تحریر کی ہو۔ یہ ممکن ہے کہ ایک ایسا مصنف جس نے اپنی تحریروں میں تعلیم یافتہ خواتین کی مدح سرائی کی ہو وہ خود اپنی بیٹیوں کو علم سے بے بہرہ رکھے اور یہ بھی ممکن ہے کہ شیکسپیئر اگرچہ برطانیہ کا سب سے ممتاز ومعروف قلم نگار تھا اس کے ایک بھی دوست، اہل خانہ یا اسٹریٹ فورڈ میں اس کے ہمسایوں نے کبھی بھی اس کا ذکر ایک اداکار، شاعر یا ڈرامانویس کے طور پر نہیں کیا ہو تاہم دیگر مثالوں کی طرح یہاں بھی اس صرف اگر یا مگر سے کام چلایا گیا ہے۔ اگر مروجہ کہانی میں صرف ایک یا دو پیچیدگیاں ہوتیں تو ان کی بعدازقیاس توجیہات کے ساتھ ہم انہیں قبول کر سکتے تھے مگر یہاں ذرا سے غوروخوض کے بعد پتہ چل جاتا ہے کہ مروجہ کہانی میں کوئی بھی پہلو فطری نہیں معلوم ہوتا۔ یہاں دلائل کو زبردستی بیساکھیوں کے سہارے پیش کیا گیا ہے اور توضیحات صرف اندازوں پر مبنی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اسٹریٹ فورڈ آن ایون کا ولیم شیکسپیر ایک چھوٹے سے قصبے کا معمولی پڑھا لکھا تاجر تھا۔ اس کی تعلیم، اس کا کردار، اس کے افعال اور جو کچھ اس کے اہل خانہ اور دوستوں نے اس کے بارے میں کہا اس بات سے میل نہیں کھاتے کہ وہ عظیم مصنف ولیم شیکسپیئر ہی تھا۔ تو پھر اگر ان ڈراموں کا مصنف ’شیکسپیر‘ نہیں تھا تو پھر کون تھا؟ اس ضمن میں متعدد افراد کا نام لیا گیا ہے جن میں سب سے معروف نام ممتاز فلسفی فرانسس بیکن کا ہے۔ مگر حالیہ سالوں میں شواہدات کی کثرت سے قرعۂ فال ایڈورڈ ڈی ویری کے نام نکلتا ہے۔ ہم ڈی ویری کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں۔ اس نے ایک مہم جویانہ زندگی بسر کی اور اس کے زندگی کے بے شمار حقیقی واقعات اس کے تحریر کردہ ڈراموں میں صاف نظر آتے ہیں۔ ڈی ویری کی پیدائش 1550ء میں ہوئی اور وہ آکسفورڈ کے 16ویں نواب کا بیٹا اور وارث تھا جو نہایت دولت مند اور اشرافیہ میں بلند درجے کا مالک تھا۔ اپنی بلند حیثیت کے تناظر میں نوجوان ایڈورڈ نے نوابوں کے تمام رسمی فنون میں مہارت حاصل کی جیسے گھڑسواری، شکار، حربی فنون، موسیقی اور رقص وغیرہ اور اسی طرح اس نے اعلیٰ درجے کی تعلیم بھی حاصل کی۔ اس نے فرانسیسی اور لاطینی زبانوں کے اساتذہ سے پڑھا۔ کیمرج یونی ورسٹی سے گریجویشن کیا اور آکسفورڈ سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ بعدازاں اس نے گریزان میں قانون کی تعلیم حاصل کی جو لندن کی ایک ممتاز ترین سرکاری یونی ورسٹی تھی۔ صرف بارہ سال کی عمر میں اس کے باپ کا انتقال ہو گیا اور اس کی ماں نے دوسری شادی کر لی۔ تاہم ایڈورڈ زیادہ عرصہ اپنی ماں کے ساتھ نہیں رہا اور شاہی نگرانی میں چلا آیا جہاں اس کے لیے ایک اتالیق وسرپرست کا تقرر کیا گیا۔ یہ سرپرست ولیم سیسل تھا جو برطانیہ کا وزیرِخزانہ اور ملکہ الزبتھ کی مجلس خاص کا رکن تھا جہاں اس کی رکنیت کئی سالوں تک جاری رہی۔ ملکۂ برطانیہ کے دیرینہ اور بااعتماد مشیر کے بطور سیسل برطانیہ میں انتہائی اثرورسوخ کا مالک تھا۔ ڈی ویری کی بلند حیثیت کے تناظر میں سیسل کے گھرانے میں اسے اہلِ خانہ ہی کی حیثیت حاصل تھی۔ یہاں ایک پراسرار واقعے میں اس نے سیسل کے ایک ملازم کو قتل کر دیا تاہم سیسل کے اثرورسوخ کی وجہ سے اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔ اپنی جوانی کے آغاز میں اسے دربار میں متعارف کرایا گیا جہاں اس نے ملکہ سمیت دیگر ممتاز شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ ملکہ کو نوجوان ایڈورڈ بہت پسند آیا کیوں کہ وہ ذہین اور ورزشی جسم کے ساتھ نہایت مسحور کن شخصیت کا بھی حامل تھا۔ چناں چہ وہ جلد ہی ملکہ کے خاص مصاحبین میں شامل ہو گیا۔ 21 سال کی عمر میں ایڈورڈ نے اینی سیسل سے شادی کر لی جو اس کے سرپرست سیسل کی بیٹی تھی۔ چوں کہ ان دونوں کی پرورش ایک ساتھ ہوئی تھی اور اینی ایڈورڈ کی بہنوں کی طرح سمجھی جاتی تھی اس لیے یہ شادی نہایت غیرمعمولی حالات میں ہوئی۔ یہاں یہ بات قابل تذکرہ ہے کہ سمبلائن کا ہیرو لیوناٹس بھی شاہی نگرانی میں پلابڑھا اور اس نے بھی اپنے سرپرست کی بیٹی سے شادی کی۔ اسی طرح ڈی ویری اور لیوناٹس کی کہانی میں بے شمار مماثلتیں اور بھی ہیں۔ 24 سال کی عمر میں ڈی ویری یورپ کے طویل سفر پر روانہ ہوا۔ اس نے فرانس اور جرمنی کا دورہ کیا اور اٹلی میں دس ماہ گزار کر فرانس سے ہوتا ہوا برطانیہ واپس آیا۔ واپسی کے سفر میں اس کے جہاز پر بحری قذاقوں نے حملہ کر دیا جو مسافروں کو تاوان لینے کے لیے قیدی بنانا چاہتے تھے تاہم ڈی ویری نے قذاقوں کو ملکۂ برطانیہ سے اپنے ذاتی مراسم سے آگاہ کیا چناں چہ قذاقوں نے تاوان کا مطالبہ کیے بغیر ہی اسے فوری طور پر آزاد کرنا اپنے حق میں بہتر گردانا۔ اسی طرح کا واقعہ ڈراما ہیملٹ کے ہیرو کے ساتھ بھی پیش آتا ہے۔ اسی دوران اس کے ہاں ایک بیٹی کی پیدائش ہوئی۔ چوں کہ بیٹی اس کی لندن سے روانگی کے آٹھ ماہ بعد پیدا ہوئی تھی اس لیے ڈی ویری نے نومولود بچی کو اپنی اولاد تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے دعوے کے مطابق اینی ایک زانیہ تھی اور اس نے اس سے علیحدگی اختیار کرلی۔ زیادہ تر مؤرخین کے خیال میں یہ الزام درست نہیں تھا اور بعدازاں ڈی ویری بھی اسی نتیجے پر پہنچ گیا اور پانچ سال بعد اپنے دعوے سے دست بردار ہو کر اس نے دوبارہ اینی کو اپنا لیا۔ ایک معصوم نوجوان بیوی پر زنا کے جھوٹے الزامات شیکسپیئر کے ڈراموں میں بہت عام ہیں جیسے آل از ویل دیٹ اینڈز ویل؛ سمبلائن، دی ونٹرز ٹیل اور اوتھیلو۔ اور ہر ڈرامے میں شدید غم زدہ بیوی بہر حال اپنے شوہر کو معاف کر دیتی ہے۔ بیوی سے پانچ سالہ علیحدگی کے دوران ڈی ویری کا ایک درباری عورت کے ساتھ معاشقہ چلا جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہو گئی۔ اس بات نے ملکہ الزبتھ کو سیخ پا کر دیا اور ڈی ویری کو گرفتار کر کے لندن میں جیل بھیج دیا گیا۔ اگرچہ اسے کچھ مہینوں بعد رہا کر دیا گیا مگر اس نوجوان عورت کے ایک دوست نے جو ڈی ویری کے اس فعل پر شدید خفا تھا اس پر حملہ کیا جس میں ڈی ویری شدید زخمی ہوا۔ کچھ عرصے تک دونوں خاندانوں کے درمیان گلی کوچوں میں لڑائی جھگڑوں کا سلسلہ جاری رہا جس پر ملکۂ الزبتھ نے دونوں خاندانوں کو جیل میں ڈالنے کی دھمکی دی جس پر معاملہ ٹھنڈا ہوا۔ اس واقعے کا عکس ہمیں رومیو اور جولیٹ میں نظر آتا ہے۔ ڈی ویری کے بعد ازاں اینی سیسل سے پانچ بچے ہوئے۔ مگر صرف 32 سال کی عمر میں اینی کا اچانک انتقال ہو گیا۔ چار سال بعد ڈی ویری نے دوسری شادی کی اور دوسری بیوی اس کی موت کے بعد کافی عرصے تک زندہ رہی۔ اس دوران ڈی ویری کے مالی حالات جو اس کی فضول خرچیوں کے باعث اچھے نہیں تھے بہتر ہوئے۔1586ء میں جب ڈی ویری 36 سال کا تھا ملکہ الزبتھ نے زندگی بھر کے لیے اس کا وظیفہ مقرر کر دیا۔ یہ ایک ہزار پاؤنڈ سالانہ کی خطیر رقم تھی جو آج ایک لاکھ ڈالر سالانہ کے برابر ہے اور وہ بھی ٹیکس کے بغیر۔ یہ ایک نہایت غیرمعمولی بات تھی کیوں کہ ملکہ اپنی کنجوس فطرت کی وجہ سے خاصی معروف تھی۔ مزید حیران کن امر یہ ہے کہ ڈی ویری کو اس رقم کے بدلے کچھ نہیں کرنا تھا اور نہ ہی یہ اس کی کسی سابقہ خدمات کا صلہ تھا۔ یہ وظیفہ نہ صرف جب تک ملکہ زندہ رہی ڈی ویری کو باقاعدگی سے ملتا رہا بلکہ اس کے جانشین کنگ جیمز اول نے 1603ء میں ملکہ کی موت کے بعد بھی اس کی ادائیگی جاری رکھی۔ ڈی ویری کو شاعری اور ڈراموں میں بہت دل چسپی تھی۔ کئی ادبی شخصایت اس کی دوست تھیں اور وہ جوانی ہی سے شاعری اور ڈرامے لکھنے کے حوالے سے خاصا معروف تھا۔ اس کے لکھے ہوئے ابتدئی ڈرامے تاریخ کی گرد میں کھو گئے مگر اس دور کی متعدد نظمیں آج بھی موجود ہیں۔ ان میں سے کچھ نظمیں بہت عمدہ ہیں مگر ان کا درجہ ان تحریروں سے بہت کم تر ہے جو شیکسپیر نے ادبی بلوغت کے بعد قلم بند کیں۔ تاہم اس نے اپنی تصانیف کو کبھی شائع نہیں کرایا کیوں کہ اس وقت یہ بات نہایت معیوب سمجھی جاتی تھی کہ طبقۂاشرافیہ کا کوئی فرد اشاعت کے لیے شاعری وغیرہ تحریر کرے۔ آج یہ بات عجیب سی لگتی ہے مگر مؤرخین متفق ہیں کہ اس زمانے میں یہ خیال عام تھا اور کبھی کبھار ہی کوئی سرپھرا اس حد کو پار کرنے کی جرأت کرتا تھا۔ شاہی وظیفہ مقرر ہونے کے بعد ڈی ویری نے پھر کبھی ایک لفظ بھی اپنے نام سے نہیں لکھا۔ مگر چند ہی سالوں بعد ایک غیر معلوم ادیب یعنی ’ولیم شیکسپیئر‘ کے نام سے ڈرامے اور نظمیں سامنے آنا شروع ہو گئیں۔ ملکہ الزبتھ نے ڈی ویری کو اتنا خطیر وظیفہ کیوں جاری کیا؟ اگرچہ اس کا کوئی واضح سبب سامنے نہیں آسکا مگر ایک واضح وجہ یہ ہے کہ سابقہ بادشاہوں کی طرح اس نے بھی ایک ذہین ترین فن کار کی سرپرستی کی تاکہ مؤرخ اس کے دورِحکومت میں ’مزید‘ چارچاند لگاسکے۔ اگر ملکہ الزبتھ کا یہ ہی مقصد تھا تو بے شک اسے اپنی رقم کا عوض مل گیا۔ بلاشبہ اس سے پہلے یا بعد میں کسی بھی حکم ران نے اتنا اچھا انتخاب نہیں کیا۔ شاہی وظیفہ حاصل کرنے کے بعد ڈی ویری درباری سر گرمیوں سے بالکل دست بردار ہو گیا۔ غالباً اس نے اپنی زندگی کے آخری 18 سال ڈراموں اور شاعری کی تخلیق وتدوین میں صرف کیے جس نے عظیم ترین مصنف ’ولیم شیکسپیئر‘ کو جنم دیا۔ وہ 1604ء میں طاعون کے مرض کا شکار ہو کر دنیا سے رخصت ہوا اور اسے اسٹریٹ فورڈ گاؤں کے نزدیک ہیکنی میں اس کے گھر کے پاس دفن کیا گیا۔ برطانیہ میں اسٹریٹ فورڈ کے نام سے دو قصبات تھے اور اول الذکر اس وقت اسٹریٹ فورڈ آن ایون سے زیادہ بڑا تھا۔ شیکسپیئر یا کسی بھی دوسرے مصنف کے برعکس جسے ’عظیم قلم نگار‘ قرار دیا جاتا ہے ڈی ویری ہی پر اسرار ولیم شیکسپیئر کے معیار پر پورا اترتا ہے۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھا، اس نے قانون کا مطالعہ کیا اور وہ غیرملکی میں زبانوں میں بھی مہارت رکھتا تھا۔ وہ بلاشبہ لاطینی اور فرانسیسی میں ماہر تھا اور امکانی طور پر دیگر زبانوں میں بھی درک رکھتا تھا۔ اس کا تعلق طبقۂاشرافیہ سے تھا اور وہ درباری زندگی کے آداب وسازشوں سے بخوبی واقف تھا۔ اتنے عظیم ڈرامے لکھنے کے لیے اس کے پاس قطعی فرصت تھی۔ دوسروں نے ہمیشہ اسے ذہین اور فطین ہی قرار دیا۔ اسے تھیٹر سے گہری دل چسپی تھی اور سب جانتے ہیں کہ اس نے اوائل عمر میں اپنے نام سے  ڈرامے اور نظمیں بھی لکھیں۔ اپنی زندگی ہی میں وہ ایسے رئیسوں میں شمار ہونے لگا تھا جو شاعری کرتے تھے مگر درج بالا طرزفکر کے باعث اسے اپنے نام سے چھپوانے کی جرأت نہیں کر پاتے تھے۔ اسے ایسے رئیسوں میں نہایت ذہین اور مشاق باور کیا جاتا تھا۔ یہ معلومات اس دور کے  بچ رہنے والے مواد سے ترتیب دی گئی ہیں۔ ولیم شیکسپیئر کے ڈرامے ان واقعات اور کرداروں سے پُر ہیں جنہیں بہت آسانی سے ڈی ویری کے زندگی سے وابستہ اشخاص اور واقعات سے ملایا جاسکتا ہے۔ ان میں سے چند ایک کا اوپر ذکر کیا گیا ہے لیکن ان کے علاوہ بھی کئی اور ہیں۔ ڈی ویری کو ان تصانیف کا مصنف ماننے میں ایک ہی قباحت ہے کہ اس نے اپنا نام کیوں پوشیدہ رکھا؟ اس سوال کے متعدد جواب ہیں: اس دور میں اہل اشرافیہ کا چھپوانے کے لیے شاعری اور اسٹیج کے لیے ڈراما نگاری کرنا نہایت معیوب سمجھا جاتا تھا۔ ڈی ویری درباری زندگی سے آشنا تھا اور اگر وہ اپنی شناخت ظاہر کر دیتا تو لوگ سمجھتے کہ وہ کرداروں کے نام پر اصل شخصیات کا مذاق اڑا رہا ہے۔ آج ہم ایسی تحریروں کے عادی ہو چکے ہیں۔ اتفاق کرنا یا نہ کرنا ایک الگ بات ہے مگر آج ایسی تحریریں کسی احتجاج کو ہوا نہیں دیتیں مگر اس دور میں ایسی تحریروں کے خلاف باقاعدہ قانونی چارہ جوئی کی جاتی تھی بلکہ بسااوقات بات ڈوئل تک پہنچ جاتی تھی اس لیے ڈی ویری نے تحفظِ شخصی کی خاطر اپنی شناخت پوشیدہ رکھی۔ بیشتر نظموں میں شیکسپیئر نے اپنی محبوبہ کو مخاطب کیا ہے۔ اگر وہ اپنی شناخت ظاہر کر دیتا تو ہی بات اس کی بیوی کے لیے شرمندگی کا باعث ہوتی۔ اس سے زیادہ سنگین امر یہ ہے کہ اس نے متعدد دیگر نظموں میں ایک مرد کو مخاطب کیا ہے جس تاثر ملتا ہے کہ مصنف ہم جنس پرست یا دوجنسی شخص ہے۔ یہ بات بھلے درست ہے یا غلط – جیسا کہ اکثریت کا ماننا ہے کہ یہ رائے غلط ہے – مگر اس وقت اس بات کا اعتراف کرنا کہ وہ ہی اس شاعری کا خالق ہے اس کے خاندان کے لیے نہایت شدید شرمندگی کا باعث بن جاتا۔ غالباً ان میں سے کوئی بھی جواب اپنے طور پر باوزن نہیں ہے تاہم اگر ٹکڑوں کو جوڑ کر ایک تصویر بنائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ڈی ویری نے اپنی شناخت کیوں پوشیدہ رکھی۔ ممکن ہے کہ ان کے سوا کچھ اور بھی اسباب ہوں جن کا علم صرف ڈی ویری کو تھا۔ مثال کے طور پر ممکن ہے کہ سالانہ وظیفے کی شرط کے طور پر ملکہ الزبتھ کا اصرار ہو کہ وہ معاشرتی اقدار کا احترام کرے گا؛ درباری رفقاء سے چھیڑچھاڑ نہیں کرے گا اور کوئی بھی تصنیف اپنے نام سے شائع نہیں کرائے گا۔ اس بات سے قطع نظر کہ ہم اخفائے شناخت کے راز سے واقف ہوتے ہیں یا نہیں ڈی ویری ہی مکمل طور پر شیکسپیئر کے قد وقامت پر پورا اترتا ہے۔ کوئی دیگر شخص تو اس کے قریب بھی نہیں آ پاتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ڈی ویری ہی عظیم ولیم شیکسپیئر تھا۔ آخری سوال یہ ہے کہ آخر شیکسپیئر ہی کو ان تصانیف کا مصنف کیوں مان لیا گیا؟ اس رائے کی بنیاد تین حوالوں پر مبنی ہے جنہیں شیکسپیئر کی موت کے بعد ترتیب دیا گیا اور یہ تینوں کسی حد مبہم بھی ہیں۔ جب تک کوئی غیر معمولی اتفاق ظاہر نہیں ہوتا ایسا لگتا ہے کہ کسی نے قصداً یہ پھلجڑی چھوڑی ہے۔ مگر کیوں اور کس نے؟ ہمارے پاس اس سوال کا کوئی قطعی جواب نہیں ہے۔ تاہم گمانِ غالب یہ ہی ہے کہ یہ کام ڈی ویری کے خاندان والوں ہی کا ہے اور 1620ء میں انہوں نے ان تصانیف کی اشاعت اور شناخت کو خفیہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہوگا۔ ظاہر ہے ان کے اس فیصلے کا مقصد ڈی ویری کی سوچ سے جدا نہیں ہو گا جیسے رسوائی کا خوف یا ملکہ سے کیا ہوا وعدہ وغیرہ۔ اس فریب کو حقیقت کی مکمل شکل دینے کے لیے انہوں نے بطورِ مصنف ایک بالکل دیگر شخص کا انتخاب کیا۔ اس وقت شیکسپیئر ایک واضح انتخاب تھا کیوں کہ دونوں کے ناموں میں بڑی مماثلت موجود تھی؛ وہ کئی سال پہلے فوت ہو چکا تھا اور وہ اس فریب کا پردہ چاک نہیں کر سکتا تھا اور چوں کہ لندن میں بہت کم لوگ اس سے واقف تھے اور بہت کم لوگوں کو وہ یاد رہا ہو گا اس لیے وہاں محض چند ایک ہی اس داستان کی اصلیت کو پہنچ سکتے تھے۔ اس فریب کو زندہ رکھنا بہت آسان تھا۔ بین جانسن کو جس نے اولین بڑی تقطیع والی اشاعت کا دیباچہ نظم کی صورت میں تحریر کیا تھا اپنی طرف سے بعض سطروں کا اضافہ کرنے کے لیے آمادہ کیا گیا ہو گا جن سے براہ راست کہے بغیر یا سفید جھوٹ بولے بناء اس بات کا واضح اشارہ نکلتا تھا کہ ان کے مصنف کا تعلق اسٹریٹفورڈ آن ایون سے تھا۔ انہوں نے شیکسپیئر کی قبر کے نزدیک ایک یادگار بھی نصب کروادی جس میں مبہم مگر طاقت ور الفاظ میں اس کی تعریف کی گئی تھی۔ چوں کہ ولیم شیکسپیئر کی شناخت روزِاول سے ہی خفیہ رکھی گئی تھی محض ایک آدھ اشارہ کہ وہ اسٹریٹفورڈ آن ایون سے آیا تھا اس داستان پر یقین دلانے کے لیے کافی تھا۔ اس وقت کوئی بھی اس کہانی کی صداقت کو جانچنا نہیں چاہتا تھا کیوں اس وقت لوگ ادبی شخصیات کی سوانح عمری میں آج کی طرح دل چسپی نہیں لیتے تھے۔ 1709ء میں جب ولیم روئے نے شیکسپیئر کی اولین سوانح عمری ترتیب دی اس وقت تک وہ لوگ مرکھپ چکے تھے جو سچ سے واقف تھے جس کی وجہ سے اس داستان پر گویا ہمیشہ کے لیے سچائی کی مہر ثبت ہو گئی۔