William T. G. Morton by Michael Hart in Urdu

دی ہنڈریڈ | 37 واں‌ باب | ولیم ٹی مورٹن | مائیکل ہارٹ

زیادہ تر قارئین مورٹن کے نام سے واقف نہیں ہوں گے مگر ولیم ٹی جی مورٹن کسی بھی دوسرے معروف شخص سے زیادہ پراثر شخصیت ہے کیوں کہ اصولی طور پر اس نے بہ غرضِ جراحت مریض کو بے ہوش کرنے کا طریقہ دریافت کیا۔

تاریخ میں بہت کم لوگوں کی کسی ایجاد یا دریافت کو وہ درجہ حاصل ہے جو مورٹن کے مریض کو سرجری کے لیے بے ہوش کرنے کے طریقے کو حاصل ہوا اور چند ہی لوگ انسانی زندگی پر اتنا اہم اثر مرتب کر پائے ہیں۔


 آپ اس دور کا تصور بھی نہیں کر سکتے جب عین عالمِ ہوش میں سرجن کسی مریض کی ہڈیوں کو آری سے کاٹتا تھا۔


انسانوں کے لیے کسی انسان کا اس سے بڑا تحفہ اور کیا ہو گا کہ اس قسم کی ہول ناک اذیت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔

مورٹن 1819ء میں میسا چیوسٹ کے چارلٹن نامی علاقے میں پیدا ہوا۔

اس نے نوجوانی میں دانتوں کا سرجن بننے کے لیے بالٹی مور میڈیکل کالج میں داخلہ لیا اور 1842ء میں اس نے دندان سازی شروع کر دی۔

1842 سے 1843ء کے دوران اس نے ہاریس ویلز کے ساتھ شرکت میں کام کیا جو عمر میں اس سے بڑا دانتوں کا ڈاکٹر تھا اور وہ بھی عمل تخدیر میں دل چسپی رکھتا تھا؛ تا ہم ایسا لگتا ہے کہ ان دونوں کی شراکت داری منافع بخش ثابت نہیں ہوئی جس کا 1843ء کے آخر میں خاتمہ ہو گیا۔

 ایک سال بعد ویلز نے عمل تخدیر کے لیے نائٹرس آکسائیڈ (لافنگ گیس) کے ساتھ تجربات شروع کیے۔

ویلز نے اس طریقے کو کنیکٹیکٹ، ہارڈ فورڈ میں دندان سازی کے دوران کام یابی سے استعمال کیا؛ تاہم  بد قسمتی سے بوسٹن میں اس کا ایک عملی عوامی مظاہرہ ناکام رہا۔

دوسری طرف مورٹن نے مصنوعی دانتوں کی تیاری میں خصوصی تربیت حاصل کی اور اس کام کو درستگی سے انجام دینے کے لیے خراب دانتوں کا جڑ سے نکالنا لازمی تھا۔

اس دور میں عمل تخدیر کے بغیر یہ انتہائی تکلیف دہ عمل تھا اور عمل تخدیر کی ضرورت روزافزوں محسوس کی جا رہی تھی۔

مگر مورٹن نے بالکل درست اندازہ لگا لیا تھا کہ نائٹرس آکسائیڈ اس مقصد کے لیے مناسب نہیں اور اس نے کسی اور طاقت ور چیز کی تلاش جاری رکھی۔

مورٹن، چارلس ٹی جیکسن نامی ایک بڑے دانتوں کے ڈاکٹر اور سائنس دان سے واقف تھا جس نے اسے تجویز دی کہ اس مقصد کے لیے ایتھر کو استعمال کر کے دیکھا جائے۔

یہ امر کہ ایتھر میں بے ہوش کن اثرات ہوتے ہیں تین صدی قبل پیراسیلس نے دریافت کر لیا تھا جو سوئڈن کا مشہور ڈاکٹر اور کیمیاء دان تھا۔

انیسویں صدی کے آغاز میں اسی طرح کی ایک یا دو خبریں بھی شائع ہوئی تھیں، مگر اسے سرجری سے قبل بے ہوشی کے لیے استعمال نہیں کیا گیا تھا۔

چناں چہ مورٹن کو ایتھر کے استعمال میں کام یابی کی جھلک دکھائی دی اور اس نے اس کے ذریعے تجربات شروع کر دیے۔

پہلے اس نے یہ تجربات جانوروں پر کیے جن میں اس کا پالتو کتا بھی شامل تھا اور بعد ازاں خود اپنے آپ پر۔

بلآخر، 30 ستمبر 1846ء  کو ایتھر کا تجربہ کرنے کا ایک بہترین موقع ہاتھ آیا۔

ہوا یوں کہ ایبن فروسٹ نامی مورٹن کا ایک مریض دانت کے شدید درد کا شکار تھا اور وہ دانت نکالنے کے دوران درد سے بچنے کے لیے کسی بھی چیز کے استعمال پر آمادہ تھا۔

مورٹن نے اسے ایتھر دیا اور اس کا دانت نکال لیا۔

ہوش میں آنے پر فروسٹ نے بیان دیا کہ اسے کسی قسم کی تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔

یہ ایک بہت بڑی کام یابی تھی اور مورٹن کی آنکھیں اپنے سامنے کام یابیوں، شہرت اور دولت کے در وا ہوتے دیکھ رہی تھیں۔

اگر چہ اس سرجری کے گواہ موجود تھے اور اسے خبر کے طور پر اگلے روز بوسٹن نیوز پیپر میں بھی شائع کیا گیا مگر اس نے زیادہ بڑی توجہ حاصل نہیں کی۔

اب یقیناً ایک زیادہ متاثرکن مظاہرہ درکار تھا۔

چناں چہ مورٹن نے میسا چوسیٹ جرنل ہسپتال، بوسٹن کے ایک تجربے کار سرجن ڈاکٹر جان سی وارین سے ایک عملی موقع فراہم کرنے کی درخواست کی جہاں وہ ڈاکٹروں کے ایک گروپ کے سامنے اپنے درد روکنے کے طریقے کا مظاہرہ کر سکے۔

چناں ہسپتال میں اس تجربے کا انتظام کیا گیا اور 16 اکتوبر 1846ء  کو ڈاکٹروں اور میڈیکل طلباء کی ایک بڑی تعداد کے سامنے مورٹن نے آپریشن کے ایک مریض گلبرٹ ایبٹ پر ایتھر کے ذریعے عمل تخدیر کیا۔

بعد ازاں ڈاکٹر وارین نے ایبٹ کی گردن سے رسولی نکالی اور اس دوران بے ہوشی کا طریقہ مکمل طور پر پُراثر رہا اور اس مظاہرے کو بڑی کام یابی نصیب ہوئی۔

اس مظاہرے نے جسے فوری طور پر اخبارات میں شائع کیا گیا آنے والے سالوں میں آپریشن کے لیے مریض کو بے ہوش کرنے کے طریقے کو دنیا بھر میں پھیلا دیا۔

ایبٹ کے آپریشن کے کچھ روز بعد مورٹن اور جیکسن نے قانونی حقوق حاصل کرنے کی درخواست دائر کر دی۔

اگرچہ ان دونوں کو اسی مہینے قانونی حقوق مل گئے، مگر اس دریافت کے متعدد دیگر دعوے دار بھی کھڑے ہو گئے۔

بہ طور خاص جیکسن سمیت متعدد دیگر افراد نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے مورٹن سے قبل یہ چیز دریافت کر لی تھی۔

علاوہ ازیں مورٹن کی اس دریافت کے ذریعے دولت مند ہونے کی  توقع بھی پوری نہیں ہوئی۔

زیادہ تر ڈاکٹروں اور اسپتالوں نے جو بے ہوشی کے لیے ایتھر استعمال کر رہے تھے اسے رائلیٹی دینے کی زحمت نہیں کی۔

مقدمے بازی اور حقوق کی اس جنگ میں اس دریافت سے ہوئی آمدنی سے زیادہ پیسہ اٹھ گیا اور یاسیت اور غربت کی حالت میں نیویارک سٹی میں 1868ء میں مورٹن دنیا سے چل بسا۔

اس وقت اس کی عمر 49 سال بھی نہیں ہوئی تھی۔

دانتوں اور دیگر سرجری میں عمل تخدیر کی اہمیت سے سب واقف ہیں مگر مورٹن کی مجموعی اہمیت کے تعین میں اصل دشواری ہی یہ ہے کہ اس دریافت کا سہرا کتنا اور کس کے سر دیا جائے۔

اس حوالے سے ہاریس ویلز، چارلس جیکسن اور جارجیا کے ایک ڈاکٹر کرافورڈ ڈبلیو لونگ قابل غور ہیں۔

حقائق کا جائزہ لینے پر میرے خیال میں اس ضمن میں مورٹن کا حصہ دیگر سے کہیں زیادہ ہے اور میں نے اس کتاب میں اسی تناظر میں اس کے مقام کا تعین کیا ہے۔

یہ درست ہے کہ ہاریس ویلز نے مورٹن سے دو سال پہلے دانتوں کی جراحت کے دوران عمل تخدیر کا کام یابی سے استعمال شروع کر دیا تھا، مگر اس نے جو چیز استعمال کی وہ لافنگ گیس تھی جو کسی بھی طور سرجری کی دنیا میں انقلاب برپا نہیں کر سکتی تھی۔

کچھ اچھے مطلوبہ خواص کے با وجود نائٹرس آکسائیڈ اتنی طاقت ور نہیں کہ اسے کسی بڑی جراحت میں استعمال کیا جا سکتا۔

آج اسے دیگر دوائوں کے ساتھ ملا کر دانتوں کی سرجری وغیرہ میں مفید طور پر استعمال کیا جاتا ہ؛۔ مگر دوسری جانب ایتھر اس سلسلے میں انتہائی کام یاب کیمیائی محلول ہے جس نے دنیائے سرجری میں بلاشبہ انقلاب برپا کر دیا۔

ایتھر آج بھی کہیں کہیں استعمال ہو رہا ہے، مگر عمل تخدیر کے لیے اپنی دریافت کے ایک صدی بعد تک زیادہ تر ایتھر ہی استعمال ہوتا تھا۔

اس کے استعمال میں کچھ قباحتوں کے باوجود جیسے یہ تیزی سے بھڑک اٹھتا ہے اور اس کے استعمال کے بعد مریض کو شدید متلی محسوس ہوتی ہے، بے ہوشی کے لیے آج بھی یہ سب سے کام یاب واحد محلول ہے۔

اس کی منتقلی اور استعمال آسان ہے اور سب سے بڑھ کر یہ محفوظ اور انتہائی طاقت ور ہے۔

 کرافورڈ ڈبلیو لانگ – 1878-1815ء – جارجیا کا ایک ڈاکٹر تھا جس نے 1842ء میں مورٹن کے عملی مظاہرے سے چار سال قبل عمل جراحت کے لیے ایتھر کا استعمال کیا تھا؛ مگر اس نے 1849ء تک اپنے نتائج شائع نہیں کرائے اور اس سے کافی پہلے مورٹن اپنے عملی مظاہرے کے ذریعے ایتھر کی افادیت دنیائے طب میں منوا چکا تھا۔

چناں چہ لانگ کے تجربات سے چند ایک مریضوں کو فائدہ ہوا مگر مورٹن کے مظاہرے کے اثرات تمام دنیا پر مرتب ہوئے۔

چارلس جیکسن نے مورٹن کو ایتھر کے استعمال کا مشورہ دیا اور اس کے مریضوں پر استعمال کے مفید طریقے بھی بتائے، مگر دوسری طرف جیکسن نے مورٹن کے مظاہرے سے قبل سرجری کے دوران کبھی بھی کام یابی سے اس کا استعمال نہیں کیا اور نہ اس نے دنیائے طب کو اس بارے میں آگاہ کرنے کی زحمت گوارا کی۔

چناں یہ جیکسن نہیں بلکہ مورٹن ہی تھا جس نے ایتھر کے عملی عوامی مظاہرے کی خاطر اپنی شہرت کو داؤ پر لگایا۔

اگر گلبرٹ ایبٹ آپریشن کے دوران ہلاک ہو جاتا تو ظاہر ہے چارلس ٹی جیکسن کبھی بھی اس مظاہرے کی ذمے داری اپنے سر نہیں لیتا۔

چناں چہ اس کتاب میں مورٹن کی جگہ کہاں بنتی ہے؟

اس ضمن میں مورٹن اور جوزف لیسٹر کا موازنہ ضروری ہے۔

ان دونوں کا تعلق دنیائے طب سے تھا اور دونوں سرجری اور بچے کی پیدائش کے حوالے سے نئی تینک یا طریقہ متعارف کرانے کی وجہ سے معروف ہیں۔

بادی النظر میں لگتا ہے کہ یہ دونوں طریقے سب کی آنکھوں کے سامنے تھے اور یہ دونوں وہ پہلے افراد نہیں تھے جنہوں نے اس طریقے یا عمل کو اولین استعمال کیا، عوام کو دکھایا اور مشہور کیا اور ان دونوں کی دریافتوں میں دوسرے افراد کا بھی لازمی حصہ ہے۔

میں نے مورٹن کو لیسٹر کے مقابلے میں اونچے درجے پر رکھا ہے، کیوں کہ میرے خیال میں مجموعی طور پر دورانِ پیدائش جراثیم کش ادویات کے استعمال کی نسبت عملِ جراحت کے دوران مریض کو مؤثر طور پر بے ہوش کرنے کا طریقِ کار زیادہ اہم ہے۔

آج دورانِ جراحت متعدد اینٹی بایوٹک ادویات جراثیم کش ادویات کی جگہ استعمال کی جا سکتی ہیں؛ مگر عمل تخدیر کے بغیر پیچیدہ ترین اور طویل آپریشن ممکن نہیں اور حتی کہ سادہ عملِ جراحت سے بھی اس وقت تک پرہیز کیا جائے گا جب تک مریض کی جان پر نہ بن آئے۔

اس طرح مورٹن کا عمل تخدیر کے لیے ایتھر کا کام یابی سے استعمال انسانی تاریخ کا اہم ترین سنگ میل ہے۔

مورٹن کی دریافت کی اہمیت اس کی قبر پر نصب یادگار پر کندہ اس تحریر سے ظاہر ہے:


’ولیم ٹی جی مورٹن؍ عمل تخدیر کو منکشف کرنے والا موجد؍ جس نے دورانِ جراحت اذیت و تکلیف کا خاتمہ کیا؍ اس سے پہلے جراحت ایک کرب ناک عمل تھا؍ اس کی دریافت نے سائنس کو دردکشی کی قابلت عطا کی‘۔