Wow Signal Urdu

’دی واؤ سگنل‘ – مصدقہ غیر ارضی ٹرانسمیشن

پندرہ اگست 1977ء کو ماہر فلکیات جیری اہمن اوہیو میں سیٹی – سرچ فار ایکسٹرا ٹیرسٹریل انٹیلی جینس – کے ایک منصوبے پر کام کر رہے تھے، جب انہیں پہلی – اور سرکاری ذرائع کے مطابق ’آخری‘ – بار 72 سیکنڈ تک جاری رہنے والا ایک ایسا سگنل موصول ہوا جو خلائے بسیط سے زمین پر آ رہا تھا۔ یہ ایک انتہائی ناقابل یقین اور اور ایک ایسا یادگار تاریخی لمحہ تھا جس نے ہر کسی کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی۔ ’سیٹی‘ وہ ادارہ تھا جسے 70ء کی دہائی کے آخر میں ناسا نے غیر ارضی ذہین مخلوقات یا عرف عام میں ’ایلینز‘ کی تلاش کے لیے قائم کیا تھا۔ اس پروجیکٹ کا مقصد خلا سے آنے والے سگنلوں کی جانچ کرنا تھا جو اس تلاش میں امریکی خلائی ادرے کے لیے مشعل راہ ثابت ہو سکتے تھے۔ مگر انتہائی حیرت انگیز – اور پراسرار – طور پر ناسا نے بہت جلد اس پروجیکٹ سے علیحدگی اختیار کر لی۔ بہرحال 15 اگست 1977ء وہ تاریخی لمحہ تھا جب اوہیو اسٹیٹ یونی ورسٹی ریڈیو آبزرویٹری کی ’بگ ائر‘ نامی ٹیلی اسکوپ نے کسی غیر ارضی مگر ذہین مخلوق کی طرف سے آنے والا ایک سگنل وصول کیا۔ یہ سگنل ’قوس‘ نامی ستاروں کے جھرمٹ کی طرف سے آ رہا تھا، جو 1420.4056 میگاہرٹز فریکوئنسی کے ساتھ 72 سیکنڈ تک موصول ہوتا رہا۔ اس سگنل کو ’واؤ سگنل‘ کا نام دیا گیا کیوں کہ جیری اہمن نے جب اس سگنل کو شناخت کرنے والے نمبروں کا کمپیوٹر پرنٹ آؤٹ لیا تو انہوں نے یہ ہی لفظ اس کاغذ پر لکھا تھا۔ یہ سگنل 10 کلوہرٹز سے بھی کم کی فریکوئنسیز پر سنا گیا اور بعد ازں کیے گئے تجزیوں سے ثابت ہوا کہ یہ سنگل ہمارے نظام شمسی کے باہر ہی سے وصول ہو رہا تھا۔ یہ سگنل اپنے پس منظر میں سنائی دینے والے شور کی نسبت 30 گنا زیادہ طاقت ور تھا اور اس کی طاقت 10 سیکنڈ تک تبدیل نہیں ہوئی – جسے ایک سائنسی معجزہ ہی کہا جا سکتا ہے کیوں کہ قدرتی طور پر پیدا ہونے والے غیر ارضی سگنلز کی طاقت مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ بد قسمتی سے اس سگنل کو دوبارہ کبھی نہیں سنا گیا – یا کم از عوام کو ایسا ہی بتایا گیا۔ سائنسی تجسس کے پیش نظر سیٹی نے کئی مہینوں تک اس مقام پر اپنی توجہ مرکوز رکھی مگر تاحل دنیا سے یہ ہی کہا جاتا رہا ہے کہ اس سگنل کو دوبارہ سنا نہیں جا سکا۔ نہایت دل چسپی کی بات یہ ہے کہ 1420.4056 میگاہرٹز نیوٹرل ہائیڈروجن لائن کی فریکوئنسی ہے اور اہمن کے مطابق اگر کوئی غیر ارضی مخلوق اس فریکوئنسی پر خلا میں رابطہ کرتی ہے تو یہ ایک ’معقول‘ بات ہے کیوں کہ کائنات ہائیڈروجن سے بھری پڑی ہے۔



اس سوال کا جواب قطعا ’نفی‘ میں ہے کہ یہ واقعہ محض ایک اتفاق تھا یا یہ کہ اس کے اسباب روایتی تھے کیوں کہ اس بات کا سائنسی امکان صرف 99 فی صد ہے۔


تاہم چوں کہ اس نوعیت کے سگنلز بار بار موصول نہیں ہوتے اور نہ ہی اس طرح کو کوئی سگنل – کم از کم سرکاری بیانات کے مطابق – دوبارہ کبھی نہیں سنا گیا اس لیے اس بات کا تعین نہیں کیا جا سکا کہ ’واؤ‘ سگنل کہاں سے موصول ہوا اور یہ کہ اس کا مقصد کیا تھا۔ چوں کہ آج سے کم و بیش 40 سال قبل سائنس نے اتنی ترقی نہیں کی تھی اس لیے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اب اس نوعیت کا کوئی سنگل موصول ہو تو نہ صرف اس سگنل کو مکمل طور شناخت کر لیا جائے گا بلکہ امکانی طور پر ماہرین اس میں پوشیدہ پیغام کو بھی با آسانی ڈی کوڈ کر لیں گے۔