Wright Brothers | Michael Hart | Urdu | The 100 | The Hundred

دی ہنڈریڈ | اٹھائیسواں باب | رائٹ برادران

اڑن کھٹولے کے تصور کو حقیقت کا روپ دینے والے ان دونوں بھائیوں کی کام یابیاں ایک دوسرے سے اس طرح جڑی ہیں کہ انہیں باہم جدا نہیں کیا جاسکتا اس لیے ان دونوں کا تذکرہ ایک ہی عنوان کے تحت کیا جارہا ہے اور یہاں ان کے بارے میں ایک ساتھ ہی بات کی جائے گی۔ ولبر رائٹ 1867ء میں انڈیانا میں مل وائل کے مقام پر پیدا ہوا جب کہ اس کے بھائی کی پیدائش 1871ء میں اوہیو میں ڈیٹون کے مقام پر ہوئی۔ اگرچہ دونوں نے ہائی اسکول تک تعلیم حاصل کی مگر دونوں ہی ڈپلوما حاصل نہیں کرسکے بایں ہمہ دونوں بھائی میکانکی ذہانت سے مالامال تھے اور انسان کو ہوا میں اڑانا ان کا واحد مگر مشترکہ خواب تھا۔ 1892ء میں ان دونوں ںے ایک دکان کھولی جہاں وہ سائیکلوں کے فروخت، مرمت اور تیاری کا کام کرتے تھے۔ اس طرح انہوں نے اپنے ہوابازی کے خواب میں تعبیر کا رنگ بھرنے کے لیے رقم اکٹھا کی۔ انہوں نے ہوابازی پر/ اوٹو، اوکٹِیو اور سموئیل پی جیسے مصنفین کی تحریروں کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا۔ 1899ء میں انہوں نے بذات خود ہوابازی کے موضوع پر کام شروع کیا اور چار سال کی شدید محنت کے بعد دسمبر 1903ء میں بالآخر ان کی کاوشیں رنگ لے آئیں۔ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ وہ کیا بات تھی جس نے ان دونوں بھائیوں کو اس میدان میں کام یابی سے ہم کنار کیا جب کہ بے شمار دوسرے لوگ یہاں مکمل طور پر ناکام ہو چکے تھے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ان کی کام یابیوں کے متعدد اسباب ہیں۔ اول، مثال مشہور ہے ایک سے بھلے دو چناں چہ رائٹ برادران ہمیشہ ایک ساتھ کام کرتے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ ان کا اشتراک وتعاون مثالی تھا۔ دوم، انہوں نے قطعی فیصلہ کر لیا تھا کہ جہاز کی تیاری سے پہلے وہ اسے اڑانا سیکھیں گے۔ یہ بات بظاہر حقیقت سے متصادم محسوس ہوتی ہے کیوں کہ آپ کس طرح ہوائی جہاز ایجاد کیے بغیر اسے اڑانا سیکھ سکھتے ہیں؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں نے گلائڈرز کے ذریعے اڑنے کا طریقہ سیکھا۔ انہوں نے 1899ء میں گلائڈرز اور پتنگوں پر کام شروع کیا اور اس کے اگلے سال انہوں نے اپنا پہلا بڑا گلائڈر تیار کر لیا جس میں ایک آدمی پرواز کر سکتا تھا۔ انہوں نے نارتھ کیرولینا میں کٹی ہاک کے مقام پر اس کا تجربہ کیا تاہم یہ تجربہ اطمینان بخش نہیں تھا۔ اس کے بعد انہوں نے 1901ء میں دوسرا مگر بڑے حجم کا گلائڈر تیار کیا اور اس کی آزمائش کی جب کہ 1903ء میں اسی طرح کا تیسرا گلائڈر بنایا اور یہ تیسرا گلائڈر ان کی ایک اہم ترین کام یابی ثابت ہوا۔ انہوں نے 1903ء میں جہاز کے بجائے گلائڈر اور دیگر ایجادات کو قانونی طور پر اپنے نام کرایا۔ انہوں نے تیسرے گلائڈر میں ایک ہزار سے زائد کام یاب اڑانیں بھریں۔ یہ دونوں بھائی اس وقت تک دنیا میں نہایت بہترین اور کہنہ مشق گلائڈر اڑانے والے بن چکے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے انجن سے چلنے والے ہوائی جہاز کی تیاری کا کام شروع کیا۔ ان کی کام یابی کا تیسرا راز دراصل گلائڈر کی کام یاب اڑانوں میں پوشیدہ ہے جن سے انہیں اس سلسلے میں زبردست تجربہ حاصل ہوا۔ ان سے قبل متعدد لوگ جنہوں نے جہاز تیار کرنے کی کوششیں کی تھیں ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ اسے زمین سے ہوا میں کس طرح بلند کریں۔ رائٹ برادران نے درست طور پر اندازہ لگا لیا تھا کہ اصل مسئلہ زمین سے اڑان بھرنے کے بعد جہاز کو قابو میں رکھنا ہے۔ چناں چہ انہوں نے اپنا زیادہ تر وقت اور کوششیں ایسا نظام وضع کرنے میں صرف کیں جس سے دورانِ پرواز جہاز کو متوازن اور مستحکم طور پر قابو میں رکھا جاسکے۔ انہوں نے جلد ہی اس سلسلے میں کام یابی کے ساتھ تین دھروں والا نظام تیار کر لیا جس کے ذریعے ہوائی جہاز کا مکمل کنٹرول ان کے ہاتھوں میں آ گیا۔ رائٹ برادران نے جہاز کے پروں میں مفید تبدیلیاں اور اضافے کیے۔ انہیں جلد ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ اس موضوع پر دست یاب سابقہ مواد قابلِ بھروسہ نہیں ہے۔ چناں چہ انہوں نے خود ایک ہوائی سرنگ تیار کی جہاں انہوں نے دو ہزار سے زائد پروں کی سطح کی آزمائش کی۔ ان تجربات کی بنیاد پر انہوں نے ایک جدوَل تیار کیا جس میں وضاحت کی گئی تھی کہ جہاز کے پروں پر پڑنے والا ہوائی دباؤ کس طرح اس کے ڈیزائن پر منحصر ہوتا ہے۔ انہوں نے اس معلومات کی مدد سے اپنے جہاز کے پر تیار کیے۔ ان


تمام تر کام یابیوں کے با وجود رائٹ برادران کا کام یاب ہونا ممکن نہیں تھا اگر وہ تاریخ کے اس موڑ پر پیدا نہیں ہوئے ہوتے اور یہ ہی ان کی کام یابی کا اصل راز ہے یعنی ’درست ترین وقتِ پیدائش‘۔


بات یہ ہے کہ انیسویں صدی کے پہلے نصف حصے میں انجن کے ذریعے جہاز اڑانے کی کوششوں کو بہر حال ناکام ہی رہنا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بھاپ کے انجن اپنی پیدا کردہ طاقت سے زیادہ بھاری تھے مگر رائٹ برادران کے وقت میں داخلی احتراقی انجن کام یابی کے ساتھ تیار کر لیے گئے تھے گوکہ یہ انجن بھی اپنی پیدا کردہ طاقت کے مقابلے میں انتہائی بھاری تھے۔ اس وقت ایسا لگتا تھا کہ ایسا انجن تیار کرنا ممکن نہیں جس کا وزن کم ہو مگر وہ زیادہ طاقت فراہم کر سکے تاہم رائٹ برادران نے ایک مکینک کی مدد سے ایسا انجن تیار کر لیا جو ان کی ذہانت کا ایک اور ثبوت ہے کیوں کہ انجن کی تیاری پر بہت کم وقت صرف کرنے باوجود انہوں نے وہ انجن بنایا جو دوسرے تیارکردہ انجنوں کے مقابلے میں نہایت شان دار تھا۔ اسی طرح انہیں جہاز کو دھکیلنے والے پر بھی خود ہی تیار کرنا پڑے۔ ان کے 1903ء میں استعمال کردہ پنکھے 66 فی صد کار کردگی کے حامل تھے۔ رائٹ برادران نے بالآخر 17 دسمبر 1903ء کو نارتھ کیرولینا میں کٹی ہاک کے نزدیک کل ڈیول ہل کے مقام پر اپنی پہلی اڑان بھری۔ ان دونوں نے اس روز دو، دو پروازیں کی۔ آرویل رائٹ کی پہلی اڑان 12 سیکنڈ تک جاری رہی اور اس نے 120 فٹ کا فاصلہ طے کیا جب کہ ولبر رائٹ نے اس دن اپنی آخری اڑان میں 59 سیکنڈ کی پرواز میں 852 فٹ فاصلہ طے کیا۔ ان کا جہاز جسے انہوں نے ’فلائر‘ کا نام دیا تھا – جسے آج کل ’کٹی ہاک‘ کہا جاتا ہے – ایک ہزار ڈالر سے کم میں تیار ہوا۔ اس کے پروں کی چوڑائی 40 فٹ تھی اور وزن 750 پاؤنڈ کے قریب تھا۔ اس کا انجن اگرچہ 12 ہارس پاور کا تھا مگر اس کا وزن صرف 170 پاؤنڈ تھا۔ یہ جہاز واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل ائر اینڈ اسپیس میوزیم میں آج بھی رکھا ہوا ہے۔ اگرچہ اس پرواز کا پانچ افراد نے مشاہدہ کیا مگر اگلے روز یہ واقعہ محض چند اخباروں میں شائع ہوا اور وہ بھی غلط انداز میں۔ ان کے اپنے قصبے کے اخبار نے یہ خبر نہیں لگائی اور لوگوں کو یہ بات تسلیم کرنے میں پانچ برس کا عرصہ لگا کہ انسان ہوا میں اڑنے کے قابل ہو گیا ہے۔ کٹی ہاک میں اپنی پرواز کے بعد دونوں بھائی ڈیٹون واپس آ گئے جہاں انہوں نے ایک دوسرا جہاز تیار کیا جسے ’فلائر دوم‘ کا نام دیا گیا۔ انہوں نے 1904ء میں اس جہاز میں 105 مرتبہ پرواز کی جنہیں زیادہ توجہ حاصل نہیں ہوئی۔ انہوں نے 1905ء میں ’فلائر سوم‘ کے نام سے ایک بہتر اور عملی طور پر کام یاب جہاز تیار کیا۔ اگرچہ انہوں نے ڈیٹون کے علاقے میں متعدد بار اڑانیں بھری تھیں مگر زیادہ تر لوگوں کو یقین نہیں تھا کہ ہوائی جہاز ایجاد کر لیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر 1906ء میں پیرس میں ہیرالڈ ٹریبیون نے رائٹ برادران پر ایک کالم شائع کیا جس کا عنوان تھا فلائرز یا لائرز؟ مگر 1908ء میں رائٹ برادران نے عوام کے تمام شکوک وشبہات کا خاتمہ کر دیا۔ ولبر رائٹ اپنے ایک جہاز کو لے کر فرانس گیا جہاں اس نے متعدد پروازوں کا عملی مظاہرہ کیا۔ اس نے وہاں اپنے طیارے فروخت کرنے کے لیے ایک کمپنی بھی قائم کی۔ اسی طرح آرویل رائٹ امریکا میں پروازوں کے عملی مظاہرے میں مصروف تھا مگر بدقسمتی سے 17 ستمبر 1908ء کو اس کا جہاز زمین پر گر کر تباہ ہو گیا۔ یہ ان کے ہاتھوں ہونے والا واحد حادثہ تھا جس میں ایک شخص کی ہلاکت ہوئی۔ اس حادثے میں خود آرویل کی ٹانگ اور دو پسلیاں ٹوٹ گئیں مگر وہ صحت یاب ہو گیا تاہم اس کی کام یاب پروازوں نے امریکی حکومت کو پہلے ہی اس کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے تیار کر لیا تھا جس کے تحت اسے امریکی محکمۂ جنگ کو طیارے فراہم کرنے تھے۔ 1909ء میں قومی بجٹ میں جنگی ہوا بازی کے لیے 30 ہزار ڈالر مختص کیے گئے۔ ایک مرتبہ رائٹ برادران اور ان کے حریفوں کے مابین قانونی حقوق اپنے نام کرانے کے حوالے سے ٹھیک ٹھاک مقدمے بازی بھی ہوئی مگر 1914ء میں عدالت نے ان دونوں بھائیوں کے حق میں فیصلہ سنا دیا مگر اس دوران 1912ء میں ولبر رائٹ ٹائی فائڈ کا شکار ہو کر دنیائے فانی سے ہمیشہ کے لیے پرواز کر چکا تھا جب اس کی عمر صرف 45 سال تھی۔ آرویل رائٹ نے جہازوں کی کمپنی میں اپنے حصص 1915ء میں فروخت کر دیے اور 1948ء تک زندہ رہا۔ دونوں بھائیوں نے کبھی بھی شادی نہیں کی۔ ہوا بازی کے میدان میں تمام تر تحقیق، کوششوں اور دعووں کے باوجود اس بارے میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ہوائی جہاز کی ایجاد کا سہرا بڑی حد تک ان دونوں بھائیوں ہی کے سر جاتا ہے۔ اس بات کا فیصلہ کرنے میں کہ اس کتاب میں انہیں کس درجے پر رکھا جائے ہمیں ہوا بازی کی اہمیت کا تجزیہ کرنا ہو گا۔ میرے خیال میں ہوائی جہاز، چھاپے خانے اور اسٹیم انجن سے قدرے کم اہم ایجاد ہے کیوں کہ مؤَخّرالذکر دونوں ایجادات نے انسانی زندگیوں میں انقلاب برپا کر دیا تھا مگر پھر بھی حالتِ جنگ یا زمانۂ امن دونوں میں ہوائی جہاز کی افادیت سے انکار کرنا ممکن نہیں۔ چند ہی عشروں میں ہوائی جہاز نے زمین کی طنابیں کھینچ کر اسے ایک چھوٹی سی دنیا میں تبدیل کر دیا۔ اس کے علاوہ یہ ہوائی جہاز ہی ہے جس نے انسانوں کے لیے خلائی سفر کا در وا کیا۔ انسان ہمیشہ سے اڑنے کے خواب دیکھتا آیا تھا مگر عملی سوچ رکھنے والے لوگوں کا خیال تھا کہ اڑن قالین محض ایک خواب سے زیادہ کچھ اور نہیں جو کبھی اس دنیا میں وجود پذیر نہیں ہو سکے گی مگر رائٹ برادران نے انسانوں کے اس خواب کو تعبیر سے دوچار کر کے ایک افسانے کو حقیقت کا روپ دے ہی دیا۔