You Know about Audio-Porn? Read in Urdu

آڈیو پورن کا عفریت کم سن لڑکیوں کو شکار کر رہا ہے


درج ذیل مضمون نیرنگ کی ادارتی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتا تاہم اسے مجبوراً عوامی آگاہی کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔


آڈیو پورن فحاشی کی ایک نئی قسم ہے جو کسی عفریت کی مثل دنیا بھر میں نوجوانوں اور بالخصوص کم سن اور نیم بالغ لڑکیوں کو بری طرح اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے جس کے مستقبل میں سخت تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق آڈیو پورن ایک ایسا رجحان ہے جس نے فحاشی کی بدنام صنعت میں ’تہلکہ‘ مچا دیا ہے۔ آڈیو پورن سے مراد صنفی جذبات کو بھڑکانے والی کہانیاں ہیں جنہیں خاص طور پر موبائل فون پر سننے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے اور جس کا بڑا نشانہ کم سن یا بلوغت کے عمل سے گزرتی لڑکیاں ہیں۔ بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں اس نوعیت کے پورن پلیٹ فارمز کی تعداد میں بڑا اضافہ ہوا ہے جب کہ فوربس میگزین لکھتا ہے کہ سالِ رواں تک آڈیوپورن بنانے والی نئی کمپنیوں میں 80 لاکھ امریکی ڈالرز (کم و بیش سوا ارب پاکستانی روپے) سے زیادہ سرمایہ لگایا گیا ہے۔


آڈیوپورن اتنی مقبول کیوں ہو رہی ہے؟


بارسلونا کے ابیرو امریکن انسٹی ٹیوٹ آف سیکسولوجی کی ڈائریکٹر سیکسولوجسٹ فرانسسکا مولیرو کے مطابق اِس کے پیچھے کئی عوامل ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس کا ایک پہلو یہ کہ ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں کچھ انسانی حِسیں دوسری حِسوں کی نسبت زیادہ استعمال ہو رہی ہیں۔ مثال کے طور پر ہماری بصارت اس وقت مناظر سے اکتا چکی ہے اور اب جدید ذہن پر ان کا وہ اثر نہیں رہا جو کبھی ماضی میں ہوا کرتا تھا۔ لہٰذا ماہرین کے مطابق آڈیوپورن کے پلیٹ فارمز اب انسانی اذہان کے ان حصوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو ابھی تک اس لت کے عادی نہیں ہوئے ہیں۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے آج کے نوجوان ماضی کی نسبت کھانا پکانے کے کورسز یا مساج اور سپاز میں جانے میں زیادہ دل چسپی لے رہے ہیں کیوں کہ یہ ان کے لیے ایک نئی چیز ہے اور انسانی ذہن کی فطرت ہے کہ وہ بہرحال یکسانیت سے تنگ آجاتا ہے۔

ولیرو کے مطابق جب بات صنفی لذّت سے پُر مواد کی ہو تو اس معاملے میں سماعت ایک بہت اہم حس ہے کیوں کہ یہ تصورِانسانی کو اس حد تک مہمیز کرنے کی ’جادوئی‘ صلاحیت رکھتی ہے جس کا ایک عام آدمی تصور تک نہیں کر سکتا اور یہاں یہ کہنا بالکل درست ہو گا کہ الفاظ اور لہجے بطورِخاص لڑکیوں کے لیے انتہائی دل فریب اور سحرانگیز ہوتے ہیں جب کہ آڈیوپورن میں ایک ’سہولت‘ یہ بھی ہے کہ آپ اسے سنتے ہوئے کوئی دوسرا کام بھی کر سکتے ہیں جب کہ دوسروں کو اندازہ تک نہیں ہوتا کہ ایک کم عمر لڑکی یا لڑکے کے کانوں کس قسم کی سرگوشیوں سے گونج رہے ہیں۔ چناں اپنے ابتدائی دور میں آڈیوپورن اس وقت ویڈیوپورن سے بیزار ہوتے اذہان کو تیزی سے متحرک رہی ہے۔ دراصل آج ہم جس معاشرے میں ہیں اور جس تیزی کے ساتھ انفرادیت پسندی کی جانب بڑھ رہے ہیں وہاں کانوں میں ہیڈ فون لگانا آسان ہے۔


نشریاتی ادارے کے مطابق – افسوس ناک امر یہ ہے کہ – زیادہ تر آڈیوپورن پلیٹ فارمز کی بنیاد عورتوں نے رکھی ہے۔


ڈاکٹر مولیرو بتاتی ہیں کہ بطورِخاص خواتین کے صنفی احساسات کو متحرک کرنے میں کان ہمیشہ بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جب بھی اس حوالے سے بات ہوتی ہے کہ خواتین کو کیا چیز متحرک کرتی ہے تو مناظر کی بات کم ہوتی ہے بلکہ وہ بنیادی طور پر الفاظ کی بات کرتی ہیں۔ گوکہ ایسا مردوں میں بھی ہوتا ہے مگر اسے خواتین کے لیے شدیدتر تصور کیا جاتا ہے۔ چناں چہ مولیرو کے مطابق مردوں اور خواتین کے درمیان صنفی مواد کے استعمال میں بہت فرق ہے کیوں کہ پورن ہمیشہ سے مردوں کا علاقہ رہا ہے اور پورن فلمیں مردوں کے لیے بنائی جاتی ہے اور اس میں خواتین کو وہ کچھ کرتے دکھایا جاتا ہے جو مردوں کے خیال میں عورتوں کو پسند ہوتا ہے مگر درحقیقت یہ سب جھوٹ ہے اور یہ چیزیں صرف مردوں کو پسند ہوتی ہیں مگر اس کے برعکس آڈیوپورن صرف نسوانی نقطۂنظر کو سامنے رکھ کر بنائی جا رہی ہے۔


ڈاکٹر مولیرو کہتی ہیں کہ تاریخ میں خواتین نے ہمیشہ خود کو صنفی طور پر متحرک کرنے کے لیے فحش تحریروں کو پسند کیا ہے نہ کہ تصاویر کو کیوں کہ الفاظ انہیں وسیع تر تصور کا موقع دیتے ہیں۔


رپورٹ کے مطابق عام طور پر ان ویب سائٹس میں آپ کو گم نام افراد کی آڈیوز ملیں گی جو مختلف انداز میں صنفی فعل کرتے ہوئے اپنی ریکارڈنگ کرتے ہیں اور اسی طرح کئی ویب سائٹس خود لذتی کے لیے آڈیوگائیڈز تک فراہم کرتی ہیں مگر کئی نئے پلیٹ فارمز ایسے ہیں جو پوڈکاسٹ کی صورت میں صرف مختصر فحش کہانیاں سنا رہے ہیں۔ زیادہ تر کہانیاں انگلش میں ہوتی ہیں جہاں سبسکرپشن ایپس کے ذریعے مختلف کہانیوں تک رسائی ملتی ہے۔ ان ایپس کی بھاری فیس ہوتی ہے اور انہیں باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔ ان ایپس میں کہانیوں کو پروفیشنل اداکاروں کی مدد سے ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ تاہم نیویارک ٹائمز کے مطابق اب ایک ایسا مفت پلیٹ فارم بنایا گیا ہے جس میں جلد ہی صارفین کے لیے فیچر متعارف کروایا جائے گا کہ وہ ایسی کہانیاں تیار کرنے والوں کو ’انعام‘ دے سکیں جس میں سے سائٹ کو بھی حصہ جائے گا جب کہ ایک اور سائٹ بالخصوص خواتین کے لیے ہے جس میں خود لذتی کے زبانی طریقے فراہم کیے گئے ہیں۔


آخر میں نیرنگ آپ سے صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہے کہ سوشل میڈیا کے اس ’جنگل‘ میں اپنے معصوم بچوں کو ہمیشہ کے لیے گم ہونے سے بچانے کے لیے کبھی کہیں کوئی کسر نہ چھوڑیے گا کہ یہاں داخلے کی راہ تو ہے مگر واپسی کا راستہ شاید بہت مشکل سے ملتا ہے۔